Al-Risala · May 2007

Dr. Alexis Carrel, Man the Unknown

Al-Risala, May 2007, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل یہ ہے کہ ترقی کے لیے ہمیشہ گائڈ لائن کی ضرورت ہوتی ہے۔ میٹریل ورلڈ یا فزیکل ورلڈ کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی گائڈ لائن خود ان اشیا کے اندر موجود ہے۔ تجربے کے ذریعے اس قانون کو دریافت کر کے ترقی کا سفر جاری رکھا جا سکتا ہے۔

مثلاً سواری کے میدان میں یہ ہوا کہ پہلے انسان گھوڑے پر سواری کرتا تھا۔ اس کے بعد اس نے پہیے دار گاڑی بنائی۔ اس کے بعد سمندری جہاز بنائے گئے۔ پھر اس نے بائسکل تیار کی۔ بعد موٹر کار بنی اور پھر ہوائی جہاز اور راکٹ تیار کیے گئے۔ ان تمام سواریوں کو بنانے کے لیے گائڈ لائن لا آف نیچر کی صورت میں خود ان چیزوں کے اندر موجود تھی جس کو استعمال کر کے مختلف قسم کی سواریاں

مگر انسان کے بارے میں سب کچھ لامعلوم تھا۔ مثال کے طور پر انسان جب پیدا ہوتا ہے اور سماج کے اندر رہنا شروع کرتا ہے تو اس کے ذہن کی کنڈیشننگ ہونے لگتی ہے، یہاں تک کہ ہر آدمی

مسٹر کنڈیشنڈ بن جاتا ہے ، یہ کنڈ یشننگ ، آدمی کو اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ اپنی دنیا کے بارے میں بے آمیز رائے قائم کر سکے ۔ مگر یہ حقیقت صرف بیسویں صدی کے رُبع اوّل میں معلوم ہوسکی اور وہ بھی صرف پچاس فیصد ۔ یہ واقعہ پھر بھی لامعلوم رہا کہ کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرکے اس کو دوبارہ فطری سوچ (natural thinking) پر لایا جا سکتا ہے ۔

قرآن خدا کی کتاب ہے۔ قرآن کی اصل حیثیت یہی ہے کہ وہ انسان کے لیے ایک قابل اعتماد گائیڈ لائن ہے ۔ مذکورہ سوال کا جواب قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے: ومن الناس من يجادل في الله بغير علم ولا هدى ولا كتاب منير (الحج: 8) یعنی لوگوں میں کوئی شخص ہے جو اللہ کی بات میں جھگڑتا ہے ، علم اور ہدایت اور روشن کتاب کے بغیر۔ اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سائنس میں ناکامی کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے گائڈنس کے بغیر انسانی زندگی کو سمجھنا چاہا اور اس کی تشکیل کرنے کی کوشش کی۔ یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر انسانی سائنس ترقی سے محروم رہی ۔ کیوں کہ جب گائڈنس موجود نہ ہو تو آدمی کو اپنے عمل کا نقطہ آغاز ہی نہیں ملے گا ، اور جب حقیقی نقطہ آغاز کو جانے بغیر سفر شروع کیا جائے تو ایسا سفر کبھی منزل تک پہنچنے والا نہیں۔

Printed page