Al-Risala · May 2007

آئیڈیل زندگی کی تعمیر

Al-Risala, May 2007, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

مشہور یونانی فلسفی افلاطون (Plato) تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے یونان میں پیدا ہوا۔ اس کا نشانہ یہ تھا کہ یونان میں ایک اسٹیٹ بنائی جائے جو ہر اعتبار سے آئیڈیل ہو۔ اس نے اپنے کتاب آئیڈیل اسٹیٹ (Ideal State) میں اس کا نقشہ پیش کیا۔ اس کے نزدیک آئیڈیل اسٹیٹ بنانا پوری طرح ممکن تھا۔ افلاطون یونان کے شاہی خاندان کا معلم تھا۔ اس طرح اس کو موقع مل گیا کہ وہ شہزادوں کی تعلیم و تربیت کر کے ایسا مطلوب سیاسی کردار تیار کرے جو اس کی اسٹیٹ میں وہ رول ادا کر سکے جس کو اس نے فلاسفر کنگ (Philosopher King) کا نام دیا تھا۔ مگر افلاطون کی مفروضہ آئیڈیل اسٹیٹ کبھی قائم نہ ہوسکی۔

اس کا سبب یہ نہ تھا کہ اس کے شاگرد سکندر اعظم نے بعد کے مرحلے میں اس کی پیروی نہ کی، بلکہ اس کا سبب فطرت کے تخلیقی نقشے سے بے خبر تھی۔ خدا نے یہ دنیا اس لیے نہیں بنائی کہ یہاں آئیڈیل اسٹیٹ بنائی جاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق ، آئیڈیل اسٹیٹ اس دنیا میں بنانا ممکن ہی نہیں۔ افلاطون نے ایک نا قابلِ عمل منصوبے کو عمل میں لانا چاہا، اس لیے وہ نا کام ہو کر رہ گیا۔ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق ، اگر وہ کسی عملی منصوبے کو زیر عمل لانے کی کوشش کرتا تو ضرور وہ کامیاب

Printed page