ڈی کنڈیشننگ کے بغیر تفکیری عمل
Al-Risala, May 2007, pp. 20–23
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كل مولود يولد على الفطرة، فأبواه يهوّدانه أو ينصرانه، أو يمجسانه (صحیح البخاری، کتاب الجنائز) یعنی ہر پیدا ہونے والا اپنی اصل فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا مسیحی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ اس حدیث رسول میں جو بات کہی گئی ہے وہ اب خود سائنسی ریسرچ کے تحت ثابت ہو چکی اب خالص علمی طور پر یہ مان لیا گیا ہے کہ کوئی عورت یا مرد جس ماحول میں پرورش پاتے ہیں، اِس ماحول کے مطابق، ان کے ذہن کی کنڈیشننگ ہوجاتی ہے۔ یہ اصول اتنا زیادہ عام ہے کہ کوئی بھی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کنڈیشننگ کا یہ عمل غیر شعوری طور پر ہوتا ہے۔ چناں چہ یہ پر اس ہر آدمی کے ذہن میں جاری رہتا ہے اور کوئی آدمی بطور خود یہ جان نہیں پاتا کہ اس کے ذہن میں مسلسل طور پر کنڈیشننگ کا عمل جاری ہے۔
کنڈیشننگ کا یہ معاملہ پہلی بار بیسویں صدی کے آغاز میں سامنے آیا۔ امریکا میں نفسیات کے پروفیسر واٹسننن (J. B. Watson) نے اس موضوع پر لمبی تحقیق کے بعد 1925 میں اپنی مشہور کتاب بہیو یرازم (Behaviourism) چھاپی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہر آدمی لازمی طورپر کنڈیشننگ کا معمول بنتا ہے، کوئی بھی انسان اس سے بچ نہیں سکتا۔ واٹس کا یہ نظریہ اتنا مقبول ہوا کہ عرصے تک وہ یونیورسٹیوں میں نفسیات کے نصاب میں پڑھایا جاتا رہا۔
لیکن واٹس کے نظریے میں ایک بھیانک کمی تھی۔ اس نے یہ فرض کر لیا کہ یہ کنڈیشننگ جو ہوتی ہے، وہی اصل صورت حال ہے۔ اس نظریے کے مطابق، انسانی شخصیت کی تشکیل وتعمیر نیچر (nature) سے نہیں ہوتی بلکہ نرچر (nurture) سے ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو آدمی جیسا بن گیا، وہی اس کی ابدی شخصیت ہے۔ اس کو دوبارہ اس کی ابتدائی فطرت کی طرف نہیں لوٹایا جا سکتا۔ یہ نظریہ اگرچہ بیسویں صدی کے آغاز میں پیش کیا گیا، لیکن عملاً وہ پوری تاریخ پر چھایا رہا۔ پچھلے ہزاروں سال کے درمیان جو عورت اور مرد پیدا ہوئے، وہ سب اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ
ان کے لیے تفکیری عمل کا آغاز یہ ہے کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کریں، وہ اپنے ذہن کے اوپر سے مصنواعی پردوں کو ہٹا کر اپنے آپ کو اپنی اصل فطرت کی طرف واپس لے جائیں۔ نے خارجی دنیا میں پیاز کی صورت میں اس معاملے کی ایک مادی مثال رکھ دی تھی۔ پیاز اشارے کی زبان میں لوگوں کو بتا رہی تھی کہ پہلے اپنے ذہن کے خارجی پردوں کو ہٹاؤ، اس کے بعد ہی تم چیزوں کو اُن کی بے آمیز صورت میں سمجھ سکتے ہو۔ مگر انسان نے نہ پیاز کی اس مثال سے سبق سیکھا، اور نہ پروفیسر واٹسن اور ان کے ہم نو اس حقیقت کو دریافت کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ بے خبری کے راستے پر
مثال کے طور پر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تمام سیاسی، یا غیر سیاسی تحریکیں ردعمل کی تحریکیں نظر آتی ہیں۔ روسو کی تحریک، بادشاہت کے خلاف ردعمل کی تحریک تھی۔ مارکس کی تحریک سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ردعمل کی تحریک تھی۔ جمال الدین افغانی کی تحریک مغربی استعمار کے خلاف ردعمل کی تحریک تھی۔ گاندھی کی تحریک برٹش اقتدار کے خلاف ردعمل کی تحریک تھی۔ خمینی کی تحریک شاہ ایران کے خلاف ردعمل کی تحریک تھی۔ سید قطب کی تحریک یہودیوں کی زائن ازم (Zionism) کے خلاف ردعمل کی تحریک تھی، وغیرہ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ردعمل کی تحریک ہمیشہ منفی ذہن کا نتیجہ ہوتی ہے۔ آدمی کسی کے بارے میں نفرت میں مبتلا ہوتا ہے اور پھر وہ اس کے خلاف ردعمل کی تحریک چلانے لگتا ہے۔ یہی پوری انسانی تاریخ کی کہانی ہے۔ تمام عورت اور مرد کسی نہ کسی اعتبار سے نفرت میں جیتے رہے، وہ مثبت نفسیات میں جینے والے نہیں بنے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ کنڈیشننگ کے معاملے سے بے خبر تھے۔ حقیقت کو سمجھ نہ سکے کہ اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ کے بغیر وہ حقائق کو بے آمیز صورت میں دیکھ نہیں سکتے، جب کہ حقائق کو بے آمیز صورت میں دیکھنا ہی مثبت طرز فکر کی پہلی شرط ہے۔ ذہنی انقلاب کے بغیر روحانیت روحانیت(spirituality) ہمیشہ سے انسان کی دل چسپی کا موضوع رہا ہے۔ اس کے نام ہر
حلقے میں الگ الگ لیے جاتے رہے ہیں۔ مثلاً مسٹزم(Mysticism) اور مراقبہ (Meditation) اور روحانیت کے محاذ پر ہزاروں سال سے زبردست سرگرمیاں جاری ہیں، مگر ابھی تک ان سرگرمیوں کا کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔ تمام کوششوں اور ریاضتوں کے بعد جو چیز حاصل ہوئی، وہ صرف بے شعور وجد (ecstasy) ہے، نہ کہ روحانی ارتقاء جو کہ ان سرگرمیوں کا اصل
اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے سے لوگ یہ ماننے لگے کہ انسان کا ذہن سوچ کا مرکز ہے، اور انسان کا دل جذبات و عواطف کا مرکز ۔ کیوں کہ روحانیت کو عواطف کی نوعیت کی چیز سمجھ لیا گیا، اس لیے انسان ہمیشہ مبنی بر قلب روحانیت (heart-based spirituality) پر عقیدہ رکھتا رہا۔ کی بنیاد پر باقاعدہ فلسفہ وضع کیا گیا۔ یہ مان لیا گیا کہ انسان کا دل ہر قسم کے روحانی خزانوں کا سرچشمہ اور دل میں چھپے ہوئے احساسات کو جگا کر روحانی فیض حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات نے اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔ قطعیت کے ساتھ معلوم ہو چکا ہے کہ فکر اور جذبات دونوں کا واحد مرکز صرف انسان کا ذہن (mind) جہاں تک دل کا تعلق ہے، وہ صرف گردش خون (circualtion of blood) کا ذریعہ ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الرساله، نومبر 2004، صفحہ 23؛ جون 2005، صفحہ 6؛ فروری 2006، صفحہ 28؛ اگست 2006، صفحہ (33)
یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال کی روحانی ریاضت کے نتیجے میں انسان کو جو چیز ملی، وہ صرف وجد (ecstasy) تھا، نہ کہ روحانی بنیاد پر ذہنی ارتقاء ۔ اس قسم کی روحانیت دراصل، روحانیت کی ایک کم تر صورت (reduced form) ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں روحانی ارتقاء۔
جیسا کہ معلوم ہے، وجد ایک مبہم کیفیت کا نام ہے، جب کہ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایسا ذہن رکھتا ہے جس کے اندر سوچنے کی صلاحیت ہے۔ انسانی تاریخ کی تمام تر قیاں سوچ کی صلاحیت کو عمل میں لانے سے حاصل ہوئی ہیں۔ ایسی حالت میں، روحانیت اگر کوئی چیز ہے تو اس کو
بھی ذہن کی سطح پر حاصل ہونا چاہیے۔ تمام انسانی ترقیوں کا سرچشمہ انسان کے ذہن میں تفکری عمل ہے، اسی طرح روحانی ترقی کا ذریعہ بھی تفکری عمل کو ہونا چاہیے۔ روحانیت دراصل معرفتِ حقیقت کا اعلیٰ درجہ ہے، وہ مبہم بے خودی جیسے کوئی چیز نہیں۔ اس لیے حقیقی روحانیت وہی ہے جو کسی آدمی کو ذہن کی سطح پر حاصل ہو، نہ کہ قلب کی سطح پر۔
اس حقیقت سے بے خبری کی بنا پر ایسا ہوا کہ پوری تاریخ میں انسان حقیقی روحانیت کے حصول سے محروم رہا۔ اس نے جس چیز کوروحانیت سمجھا، وہ روحانیت نہیں تھی۔ اور جو اصل روحانیت تھی اس سے بے خبری کی بنا پر وہ اس کو حاصل کرنے کی طرف اپنا سفر ہی شروع نہ کرسکا۔ تاریخ انسانی کا یہ شاید سب سے بڑا المیہ ہے، اس سے بڑا المیہ اور کوئی نہیں۔ ’تذکیر القرآن‘ کے ہندی اور انگریزی ترجموں کے بعد اب دیگر مقامی زبانوں۔ تیلگو، تامل، آسامی، گجراتی، مراٹھی، پنجابی، بنگالی، اُڑیا، کنّڑ، نیز مختلف جرمن، فرنچ، اسپینش، روسی، جاپانی اور چینی، وغیرہ میں اُس کا ترجمہ اور اشاعت جو حضرات ’تذکیر القرآن‘ کے ترجمہ اور اشاعت کا دعوتی کام کرنا چاہتے ہوں، وہ ادارے کو اپنا مخلصانہ تعاون دیں، اور اپنے مکمل پتے سے آگاہ فرمائیں۔ اِس سلسلے کے تمام اخراجات ادارے کے ذمے ہوں گے۔