Al-Risala · May 2007

صبر کا وقت عبادت کا وقت ہے

Al-Risala, May 2007, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

مسجد سے اذان کی آواز بلند ہو تو لوگ جان لیتے ہیں کہ خدا کی عبادت کا وقت آگیا۔ سے چل کر مسجد پہنچتے ہیں تا کہ خدا کی عبادت کر کے اُس کا انعام حاصل کر سکیں۔ اسی طرح جب رمضان کے مہینے کا نیا چاند افق پر دکھائی دیتا ہے تو لوگ فوراً سمجھ لیتے ہیں کہ اب روزے کا مہینہ آگیا۔ تیاریاں شروع کر دیتے ہیں تاکہ رمضان کے روزے رکھ کر وہ ثواب حاصل کر سکیں جو خدا نے روزے کی عبادت میں رکھ دیا ہے۔

اسی طرح صبر بھی ایک عبادت ہے۔ جب بھی وہ وقت آجائے جب کہ خدا کی مرضی پر قائم رہنے کے لیے صبر کی قیمت دینا ضروری ہو گیا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صبر والی عبادت کی ادائیگی کا وقت آگیا، وہ عبادت جس پر اللہ نے بے حساب اجر کا فیصلہ فرمایا ہے— إنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب (الزّمر: 10)

ایک آدمی آپ کے ساتھ اشتعال انگیزی کرے اور آپ کے اندر غصے کی آگ بھڑک اٹھے تو ایسی حالت میں اللہ کا حکم ہے کہ تم جوابی غصے کی کارروائی نہ کرو بلکہ اس پر صبر کی روش اختیار کرتے ہوئے اُس آدمی کو معاف کر دو (الشوریٰ: 37) گویا کسی کے دل میں غصے کا آنا اُس کے لیے صبر کی عبادت ادا کرنے کے وقت کا آنا ہے۔ یہ عبادت بلا شبہ اسی طرح مطلوب ہے جس طرح دوسری

یہی معاملہ دوسرے تمام منفی جذبات کا ہے۔ جب بھی ایک آدمی کے اندر کسی کے بُرے سلوک کے نتیجے میں نفرت، انتقام اور حسد جیسے منفی جذبات بھڑکیں تو یہ اس بات کا خاموش اعلان ہوتا ہے کہ اُس آدمی کے لیے صبر کی اعلیٰ عبادت ادا کرنے کا وقت آگیا۔ وہ فریق ثانی کی طرف سے بدسلوکی پر صبر کر کے یک طرفہ طور پر حسن اخلاق کا ثبوت دے اور اس کا مستحق بن جائے کہ اعلیٰ ترین عبادت پر اُس کو اعلیٰ ترین انعام کا مستحق قرار دیا جائے۔

Printed page