Al-Risala · January 2007

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

Al-Risala, January 2007, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

عرض یہ کہ ماہ نامہ ارمغان ولی اللہ کا شمارہ اپریل مئی ۲۰۰۶ دیکھا۔ اس میں آپ کا ایک مضمون چھپا ہے ، اس کا عنوان یہ ہے : " حضرت مولا نا عبد اللہ عباس ندوی ، چند یادیں چند باتیں “ اس مضمون میں آپ ن۷ مولانا عبد اللہ عباس ندوی کے تذکرے کے ذیل میں لکھا ہے کہ : حق و باطل کو قریب سے دیکھنے اور ان کے درمیان تحقیقی تقابل کے بعد حق کی عظمت آشکارا ہوتی ہے اور ایسی شخصیات جن کو مشرق و مغرب کے مے خانوں سے استفادے کا موقع ملتا ہے تو وہ حق کی عظمت اور اعتراف کے سلسلے میں صاحب تقلید نہیں رہتے بلکہ صاحب تحقیق ہوجاتے ہیں۔ اور پھر ان کی زبان و قلم سے جو بھی نکلتا ہے اس سے حق پر ان شخصیات کا تحقیقی اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔ مولا نا عبد اللہ عباس ندوی کو اللہ نے اس کا موقع دیا تھا... انھوں نے مغرب کی راجدھانی انگلینڈ میں مغربی علوم، تہذیب و معاشرت کا تحقیقی و تقابلی نظر سے مطالعہ کیا تھا۔ وہ وہاں کے محققین میں شمار کیے جاتے تھے‘‘۔

آپ کے اس اقتباس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا عبد اللہ عباس ندوی، مغربی علوم میں صاحب تحقیق کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کا شمار’’مغرب کے محققین‘‘ میں کیا جاتا تھا۔ جہاں تک مشرقی موضوعات کا تعلق ہے، ان میں مولانا عبد اللہ عباس ندوی بلا شبہ دست رس رکھتے تھے، لیکن میں ان کی کسی ایسی تحریر کو نہیں جانتا جس سے معلوم ہوتا ہو کہ وہ مغربی علوم میں محقق کا درجہ رکھتے تھے اور ان کا شمار مغرب کے محققین میں ہوتا تھا۔ براہ کرم مولانا عبد اللہ عباس ندوی کی کسی ایسی کتاب یا مقالے کا حوالہ تحریر فرمائیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ وہ مغربی علوم میں تحقیقی دست گاہ رکھتے تھے۔ اس قسم کا کوئی متعین حوالہ بھیج کر ممنون فرمائیں۔ نئی دہلی، ۱۰؍اپریل ۲۰۰۶ء کافی انتظار کے بعد جب مولانا موصوف نے میرے خط کا کوئی جواب اور اپنے دعوے کے حق میں کوئی حوالہ نہیں فرمایا تو میں نے دوبارہ انھیں ایک خط روانہ کیا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا: برادر محترم مولانا محمد کلیم صدیقی!

عرض یہ کہ ۱۰؍اپریل ۲۰۰۶ کو میں نے آپ کی خدمت میں ایک خط روانہ کیا تھا۔ یہ خط آپ کے ایک مطبوعہ مضمون سے متعلق تھا۔ میں نے آپ سے آپ کی تحریر کردہ ایک بات کا حوالہ دریافت کیا تھا، مگر ابھی تک آپ کی طرف سے اس کا کوئی جواب مجھے نہیں ملا۔

براہ کرم میرے خط کا جواب جلد روانہ فرما کر شکریے کا موقع دیں۔

نئی دہلی، ۲۵ مئی ۲۰۰۶ طویل انتظار کے بعد جب کوئی جواب مجھے نہیں ملا تو میں نے ان کو درج ذیل خط روانہ کیا: برادر محترم مولانا محمد کلیم صدیقی!

یہ عریضہ میں اپنے سابقہ خط کے ضمن میں آپ کو لکھ رہا ہوں۔ آپ نے اپنے ماہ نامہ ارمغان شاہ ولی اللہ مئی ۲۰۰۶) میں لکھا تھا کہ مولانا عبد اللہ عباس ندوی مغربی علوم میں صاحب تحقیق کا درجہ رکھتے تھے۔ کا شمار مغرب کے محققین میں ہوتا تھا۔ مگر میں ان کی کسی ایسی تحریر کو نہیں جانتا جس سے معلوم ہوتا ہو کہ مولانا عبد اللہ عباس ندوی مغربی علوم میں محقق کا درجہ رکھتے تھے۔ میں نے آپ سے آپ کے اس بیان کا متعین حوالہ دریافت کیا

تھا، مگر ابھی تک آپ کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اب میں اس سلسلے میں اپنا آخری خط آپ کو لکھ رہا ہوں۔ اگر آپ نے اس کا جواب روانہ نہیں فرمایا تو میں یہ سمجھوں گا کہ مولانا عبد اللہ عباس ندوی کے متعلق، آپ کا یہ بیان صرف قصیدہ نگاری کے طور پر تھا، وہ ایک امر واقعہ کا بیان نہ تھا۔ کیوں کہ امر واقعہ کا ہمیشہ ایک متعین حوالہ ہوتا ہے۔ جب کہ مدحیہ قصیدے کی حیثیت صرف ایک شاعرانہ مبالغے کی ہوتی ہے، وہ کسی ایسی حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا جس کا حوالہ دینا ممکن ہو۔ نئی دہلی، ۳۰؍اگست ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین مراسلت نمبر ـــــ ۸ ماہ نامہ زندگی نو (نئی دہلی) کے شمارہ جون ۲۰۰۶ میں ”رسائل ومسائل‘‘ کے تحت، مولانا محمد شاہد خان ندوی (دوحہ، قطر) کا ایک مراسلہ چھپا۔ اپنے اس مراسلے میں انھوں نے ڈاکٹر یوسف القرضاوی کے بارے میں ایک ایسی بات لکھی تھی جو میرے نزدیک علمی اعتبار سے بے بنیاد تھی۔ اس سلسلے میں ان سے درج ذیل مراسلت ہوئی: برادر محترم مولانا محمد شاہد خان ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض یہ کہ آپ کا ایک مراسلہ ماہ نامہ زندگی نو (جون ۲۰۰۶) میں چھپا ہے۔ اس مراسلے میں آپ نے ڈاکٹر یوسف القرضاوی کے بارے میں لکھا ہے کہ ـــــ ”عصر حاضر اور اسلام پر شاید ہی کوئی دوسرا عالم اتنا لکھتا اور بولتا ہو جتنا کہ علامہ یوسف القرضاوی لکھتے اور بولتے ہیں‘‘۔ اس بیان سے آپ کی مراد اگر یہ ہو کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے عصر حاضر میں پیدا شدہ بعض جزئی فقہی مسائل کے متعلق کلام کیا ہے تو یہ بجائے خود درست ہے، لیکن اگر آپ کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے عصر حاضر اور اسلام کے موضوع کو اس کے عمیق معنوں میں سمجھا ہے اور اسلامی نقطہ نظر سے اس کا علمی تجزیہ کیا ہے تو مجھے ان کی ایسی کسی کتاب کا علم نہیں۔ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے اپنی کس کتاب میں اسلام اور عصر حاضر کے موضوع پر اس عمیق مفہوم میں اس کا گہرا علمی تجزیہ کیا ہے۔ براہ کرم متعین طور پر صفحہ نمبر کے ساتھ اُن کی متعلقہ تحریر کا حوالہ روانہ فرمائیں۔

Printed page