اولین ترجیح قرآن کا انگریزی ترجمہ
Al-Risala, May 2007, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
میں آپ کو پہلے یہ بتا چکا ہوں کہ اس وقت قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ کتنا ضروری ہے، اور یہ ترجمہ کس طرح ہمارے دعوتی مشن کو ایک آئی ڈنٹی عطا کرے گا۔ اس لیے ہم کو ترجیحی بنیاد پر ترجمہ قرآن کے اس کام کو کرنا ہوگا۔
اس وقت قرآن بسٹ سیلر (best seller) بن چکا ہے۔ جیسا کہ ابھی گوگل (Google) کے ایک آن لائن ریڈنگ سروے میں بتایا گیا ہے کہ ــ قرآن، گوگل بک سرچ کے ٹاپ پر ہے، اور آن لائن ریڈنگ‘ میں قرآن سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکا ہے: The Quran tops Google book search and it has the topmost position as regards online reading. اس سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانے میں قرآن کی کتنی زیادہ ڈیمانڈ ہے۔ میں قرآن کے تقریباً دو درجن انگریزی ترجمے دستیاب ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ اُن میں سے کوئی ایک
ترجمہ بھی ایسا نہیں ہے جس کو قرآن کا درست ترجمہ کہا جاسکے۔
ایسی حالت میں قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ لوگوں کے لیے سب سے زیادہ بڑی خبر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے جتنی جلد ممکن ہو سکے، ہم قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ تیار کرنا ہوگا۔ اس وقت ہمارے سامنے ایک مسئلہ درپیش ہے، اور وہ آئی ڈنٹٹی (identity) کا مسئلہ ہے۔ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ہمارے دعوتی مشن کے لیے آئی ڈنٹٹی کی حیثیت رکھتی ہو۔ طور پر لوگ یہ کہتے ہیں کہ ـــــ الرسالہ مشن ایک قسَم کا 'ون مین شو' ہے: The Al-Risala mission is a ‘one man show’. اس امیج کو بدلنا ضروری ہے، ورنہ ہمارا مشن ایک انٹرنیشنل مشن بننے کے بجائے ایک قسَم کا فرقہ(sect) بن جائے گا۔ اگر ہم قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ شائع کرنے میں کامیاب ہو گئے تو انشاء اللہ یہ قرآنی کام ہمارے مشن کے لیے ایک آئی ڈنٹٹی ثابت ہوگا، اور بلاشبہ یہ سب سے بڑی آئی ڈنٹٹی ہے جس کو ہم اس دنیا میں حاصل کر سکتے ہیں۔
آئی ڈنٹٹی کے علاوہ، اس میں ایک اور بہت بڑا پہلو موجود ہے، وہ یہ کہ ترجمۂ قرآن کا یہ کام ہمارے دعوتی مشن کے لیے ایک بہت بڑا بوسٹ(boost) (boost) ثابت ہوگا۔ ہر مشن کی کامیابی کے لیے ایک ’بوسٹ‘ درکار ہوتا ہے، اور قرآن کا درست انگریزی ترجمہ، انشاء اللہ ہمارے مشن کے لیے اسی طرح کا ایک بوسٹ ثابت ہوگا۔