اردو زبان کی اہمیت
Al-Risala, May 2007, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
میری شدید خواہش ہے کہ ہمارے دعوتی مشن (سی پی ایس) کے تمام ممبر اُردو زبان سیکھیں۔ میری اُردو کتابیں، اسلام کے صحیح فہم اور اسلام کی صحیح تعبیر کو سمجھنے کا واحد ذریعہ ہیں۔ میں ارشاد ہوا ہے کہ ــــــ لا يبقى من الإسلام إلا اسمه، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه. (رواه البيهقي في شعب الإيمان، مشكوة المصابيح، رقم الحديث : 276) یعنی بعد کے زمانے میں اسلام کا صرف نام باقی رہے گا اور قرآن کی صرف لکیریں رہ جائیں گی۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ بعد کے دور میں حقیقی اسلام تعبیرات کی کثرت میں گم ہو کر رہ گیا ہے۔ میں نے خدا کے فضل سے اپنی ساری زندگی اسلام کو اس کے اصل ماخذ (original sources) سے از سر نو دریافت کرنے میں صرف کی ہے۔ اور اپنے اردو لٹریچر کی صورت میں اسلام کی صحیح تعبیر پیش کردی ہے۔
میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ کسی آدمی کے لیے میرا اردو لٹریچر اسلام کی صحیح تعبیر کو سمجھنے کا واحد ذریعہ ہے۔ اس لٹریچر کا دوسرا کوئی اور بدل نہیں ۔ اس لیے ہر وہ آدمی جو سنجیدگی کے ساتھ ہمارے دعوتی مشن سے جڑنا چاہتا ہو، اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ اُردو زبان سیکھے، تاکہ وہ ہماری اردو کتابوں کو سمجھ سکے۔ جو شخص میری اس بات پر عمل نہ کرے، وہ فکری اندھیرے اور کنفیوژن میں جینے پر مجبور ہوگا۔ وہ اسلام کو اُس کے حقیقی مفہوم میں سمجھنے سے قاصر رہے گا۔ اس لیے میں اس معاملے میں سی پی ایس ٹیم کے کسی ممبر کو مستثنیٰ کرنے کے لیے تیار نہیں۔