Al-Risala · May 2007

اخوانِ رسول کا رول

Al-Risala, May 2007, pp. 33–35

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کئی بار آپ کے سامنے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث بیان کی ہے جس میں آپ نے اپنے ’اخوان‘ کا ذکر فرمایا ہے۔ آپ نے فرمایا: وددتُ أنّا قدر أینا إخواننا، قالوا: أو لسنا إخوانك يا رسول الله، قال أنتم أصحابی وإخواننا الذين لم يأتوابعد۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 367) یعنی میری خواہش ہے کہ ہم اپنے اخوان کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، اور ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔

مذکورہ حدیث میں پیغمبر اسلام نے اپنے جن ’اخوان‘ کے متعلق بتایا ہے، اُن سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو معرفت کی سطح پر رسول کو پہچانیں گے اور بعد کے زمانے میں وہ دعوتی مقصد کے لیے اٹھیں گے، تاکہ سارے انسانوں کو خدا کا ابدی پیغام پہنچادیں۔ اخوانِ رسول معروف معنوں میں کوئی ٹائٹل نہیں، بلکہ وہ ایک ذمے داری ہے۔

’اخوانِ رسول‘ کا لفظ ہزار سال سے پر اسرار بنا ہوا ہے۔ تاریخ کے کسی دور میں یہ واضح نہ ہوسکا

کہ یہ کون لوگ ہوں گے اور مستقبل میں ان کا رول کیا ہوگا۔ اسلامی تاریخ میں جس طرح، امکانی طور پر، یہ لفظ پہلی بار ایک گروپ پر منطبق ہو رہا ہے اُسی طرح یہ بھی پہلی بار واضح ہو رہا ہے کہ اخوان رسول کا رول کیا ہوگا۔

اس حدیث سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ما بعد سائنس دَور (post scientific era) میں دعوت الی اللہ کا پیغمبرانہ رول ادا کرنا ابھی باقی ہے، یعنی آج کی زبان میں خدائی سچائی کو اُس کی خالص اور بے آمیز صورت میں انسانوں کے سامنے پیش کرنا۔

سی پی ایس انٹرنیشنل اور الرسالہ مشن کی دعوتی ٹیم 'اخوان رسول' کے اس ٹائٹل کے لیے امکانی امیدوار (potential canditates) گروپ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ میں سے ہر عورت اور مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس امکان کو واقعہ بنائے۔

اس امکان کو واقعہ بنانا اس طرح ممکن ہے کہ سب سے پہلے آپ خود اسلام کی معرفت حاصل اور اُس کے بعد قرآن کے صحیح انگریزی ترجمے کی اشاعت اور الرسالہ کی مطبوعہ کتابوں کو دوسرے انسانوں تک پہنچانے کا کام کریں۔ اور اس طرح حقیقی معنوں میں دعوت الی اللہ کا فریضہ

اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے اندر سارے انسانوں کی خیر خواہی کی اسپرٹ موجود ہو۔ آپ سارے انسانوں کے حقیقی خیر خواہ بن کر اٹھیں ۔ آپ کے دل میں ہر ایک کے لیے محبت اور آپ کا ٹارگیٹ کیا ہو، اس کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لا يبقى على وجه الأرض بيت مدر و لا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، مشکاة المصابیح، رقم الحدیث: 42) یعنی زمین کی سطح پر کوئی گھر اور کوئی خیمہ ایسا باقی نہیں رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ داخل نہ فرمادے۔

یہ کوئی پراسرار بات نہیں۔ یہ حدیث کی زبان میں امکاناتِ دعوت کا اظہار ہے۔ یہ اُس دور کی پیشین گوئی ہے جب کہ ذرائع ابلاغ کا ظاہر ہ سامنے آئے گا اور اُس کو استعمال کر کے ہر انسان تک

کلمۂ اسلام کو پہنچانا ممکن ہو جائے گا۔ یہ کام صرف اس طرح ممکن ہے کہ ہم دعوتی مشن کے ساتھ جینے اور مرنے کا عزم کر لیں۔ اور اس کام کو اپنا اوّلین کنسَرن (primary concern) بنا کر بقیہ تمام دوسری چیزوں کو اپنی زندگی میں ثانوی (secondary) حیثیت دے دیں۔

Printed page