United we stand, divided we fall.
Al-Risala, May 2007, pp. 36–45
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ اس حدیثِ رسول کو اپنے ذہن میں ہمیشہ تازہ رکھیں : مَنْ شَذَّ شُذَّ إِلَى النَّارِ (الترمذي، کتاب الفتن) یعنی جو شخص اجتماعیت سے الگ ہوا، وہ آگ میں جائے گا۔ بہت اہم ہے۔ اس حدیث میں اختلاف سے مراد نفسیاتِ اختلاف ہے، نہ کہ مجرد گروہی اختلاف۔ اصل برائی عملاً کسی گروہ سے کٹنا نہیں ہے، بلکہ اختلاف برپا کر کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آپ کبھی بھی اختلافات کو عذر (excuse) بنا کر دعوتی مشن سے الگ نہ ہوں۔ اس معاملے میں آپ کے کسی بھی عذر کو قبول نہیں کرے گا۔
کوئی آدمی جب کوئی رائے قائم کرتا ہے تو وہ سمجھنے لگتا ہے کہ اُسی کی رائے درست ہے۔ اُس کی اپنی کنڈیشننگ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسی لیے بجاطور پر کہا گیا ہے کہ ــ کسی آدمی کے لیے سب سے بڑی قربانی اپنی رائے کی قربانی ہے۔ اس لیے آپ کو اپنی رائے کی قربانی دینی ہوگی۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی قربانی ہے۔ یہی وہ قربانی ہے جس کی قیمت پر آپ متحد ہو کر اپنا دعوتی فریضہ ادا کر سکتے ہیں۔ دعوتی کام کے دوران آپ کو بار بار نیا فیصلہ لینا ہوگا۔ نئے نئے مسائل کا حل دریافت کرنا ہوگا۔ جب آپ کوئی فیصلہ لینا چاہیں تو آپ درج ذیل اصولوں کو سامنے رکھیں : 1- سب سے پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ اسلام کے اصل ماخذ قرآن اور حدیث اور اُسوۂ صحابہ، میں اُس مسئلے کا حل کیا ہے۔
2- اگر آپ اصل ماخذ (قرآن اور حدیث) میں اپنے مسئلے کا حل نہ پاسکیں تو آپ باہمی مشورے سے اُس مسئلے کو حل کریں۔
3- اگر آپ باہمی مشورے سے کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکیں تو یہ دیکھیں کہ اکثریت کا عمل (majority rule) کیا ہے۔
4 - اگر اکثریت کی رائے سے بھی کوئی نتیجہ سامنے نہ آسکے تو آپ قرعہ اندازی (drawing of lots) کا طریقہ اپنائیں۔
مذکورہ طریق کار میں سے کسی بھی طریق کار کو اپنا کر آپ ضرور کسی فیصلے تک پہنچ جائیں گے۔ اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ کسی معاملے میں خود میری رائے کیا ہوگی تو آپ اُس کو میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم سے معلوم کر سکتے ہیں۔
انھوں نے قربانی کی حد تک اپنی پوری زندگی میری تربیت میں گزاری ہے۔ میرے نزدیک وہ میرے مزاج اور میری تحریروں سے سب سے زیادہ واقف ہیں۔ اس لیے اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ کسی خاص معاملے میں میری رائے کیا ہوگی تو آپ اس کو فریدہ خانم سے معلوم کریں۔ انشاء اللہ اُن سے آپ کو صحیح رہنمائی مل جائے گی۔
میری دعا ہے کہ خدا آپ کی مدد کرے اور آپ اپنی دعوتی ذمے داریوں کو بھر پور طور پر ادا کر کے اخوانِ رسول کا رول ادا کر سکیں۔ اور اسلام کا کلمہ سطح زمین کے ہر گھر میں پہنچ جائے۔ کرنے کا کام الرسالہ مشن اور سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت جو پر امن دعوتی کا کام کرنا ہے، وہ بنیادی طور پر ایک درست انگریزی ترجمۂ قرآن کی اشاعت اور تقاریر کے آڈیو اور ویڈیو کیسٹ اور میری دوسری کتابوں کی توسیع و اشاعت ہے۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے کہ وہ دنیا کو قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ دینے میں ناکام رہے۔ خدا اُس وقت تک ہم پر اپنی رحمت کے دروازے نہیں کھولے گا جب تک ہم اس کام کو اپنی اولین ترجیح کی حیثیت سے انجام نہ دے دیں۔ اس لیے جلد از جلد ہم کو قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ تیار کرنا ہے۔
قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ تیار ہو کر انشاء اللہ گڈ ورڈ بکس (Goodword Books) سے دوسرا سب سے زیادہ ضروری کام، تمام ممکن ذرائع کو استعمال کر کے اس کو عالمی سطح پر تمام انسانوں کے درمیان پھیلانا ہے۔
قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ خدائی پیغام کے متن (text) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور صرف قرآن
کے ایک درست ترجمے کی اشاعت اور اس کی توسیع کر کے ہم قیامت کے دن خدا کے سامنے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ـــ خدایا، میں نے تیری کتاب ہدایت کا صحیح ترجمہ تمام انسانوں تک پہنچادیا: O my lord, I have delivered the correct translation of Your book of guidance to mankind. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ألا هل یعنی کیا میں نے خدا کا پیغام تم تک پہنچادیا۔ صحابہ نے اس کے جواب میں کہا: نشہد أنك قد بلغت وأديت ونصحت ۔ یعنی ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے خدا کا پیغام پوری خیرخواہی اور امانت کے ساتھ ہم تک پہنچادیا۔
ہمارے اندر بھی یہی احساسِ ذمے داری ہونا چاہیے کہ ہم خدا کے پیغام کو ہر انسان تک پہنچادیں اور کوئی چھوٹا اور بڑا گھر ایسا باقی نہ رہے جہاں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہو جائے۔ جہاں تک میری کتابوں کا تعلق ہے تو سب سے پہلے یہ کام ان کتابوں کے انگریزی ترجمے کی اشاعت سے ہو گا۔ کیوں کہ آج دنیا کی آبادی کا ساٹھ فی صد حصہ انگریزی زبان بولتا اور سمجھتا اُس کے بعد حالات کے مطابق ، یہ کام دوسری زبانوں تک وسیع ہو گا ۔ اس اشاعتی کام کے بنیادی طور پر چند اجزا ہیں:
1- قرآن کا صحیح انگریزی ترجمہ کم قیمت پر ساری دنیا میں پھیلانا (قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ خدا کے فضل سے سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت زیر تیاری ہے)۔
2- ’تذکیر القرآن‘ کا ہندی ترجمہ چھپ کر تیار ہو گیا ہے۔ آپ میں سے ہر ایک کو اپنی ساری کوشش صرف کر کے زیادہ سے زیادہ انسانوں تک اس کو پہنچانا ہے۔
3- الرسالة مشن کی مطبوعہ کتابوں کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا ۔ مثلاً تذکیر القرآن، مطالعہ سیرت، مطالعہ حدیث، مذہب اور جدید چیلنج (God Arises)، ان سرچ آف گاڈ (In Search of God) اسلام ری ڈسکورڈ (Islam Rediscovered)، آئیڈیالوجی آف پیس (Ideology of Peace)،
کریشن پلان آف گاڈ (Creation Plan of God)، وغیرہ۔ اس کے علاوہ، آپ اپنے علاقوں میں لائبریری اور اسٹڈی فورم قائم کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے ان کتابوں تک رسائی ممکن ہو سکے۔ 4- چھوٹے چھوٹے دعوتی کتابچے (Dawah Booklets) تقریباً تیس کی تعداد میں چھپ ان کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا، یہاں تک کہ وہ تمام تعلیم یافتہ انسانوں تک پہنچ جائیں۔ 5- ڈوائن لائٹ سیریز، پمفلٹ بھی چھپ کر تیار ہو چکے ہیں۔ یہ پمفلٹ امن اور روحانیت اور اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ آدمی ان مطبوعہ کتابچوں کو ایک نشست میں پڑھ سکتا ہے۔ پمفلٹ مدعو کے ساتھ دعوتی کام کرنے کے لیے معیاری پمفلٹ ہیں۔ ان کے ذریعے آپ اسلامی تعلیمات اور تصورات (concepts) کو نہایت آسانی کے ساتھ اپنے مدعو تک پہنچا سکتے ہیں۔ ان دعوتی پمفلٹ کے ذریعے اپنے ارد گرد کے تمام لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچانے میں اپنی کوشش صرف کرنا ہے۔
6- الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت کو سمجھنا اور دعوتی مقصد کے لیے اس کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا ہو گا۔ میرے دعوتی لکچر مختلف چینل پر ٹیلی کاسٹ ہو رہے ہیں۔ مثلاً: ’گڈ لائف سیریز‘، جاگرن پر، ’رازِ حیات سیریز‘، اے آر وائی پر، وغیرہ۔ خدا کے فضل سے ہم ’قرآن اور احادیثِ رسول سیریز‘ کو بھی ریکارڈ کر رہے ہیں۔ اسی طرح ’حیاۃ الصحابہ سیریز‘ اور اس کے علاوہ ’حکمتِ ربانی سیریز‘ بھی تیار کر رہے ہیں۔
اب آپ کو یہ کرنا ہے کہ آپ ان چیزوں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ اپنے علاقوں میں اپنے طور پر بھی ان پروگراموں کو کسی ٹی وی چینل یا ریڈیو اسٹیشن کے ذریعے نشر کر سکتے ہیں۔
میرے دعوتی لکچر کے آڈیو کیسٹ بھی تیار ہو چکے ہیں۔ اس وقت اُن کے درج ذیل چھ سیٹ
1- ارکانِ اسلام 2- درسِ حدیث
3- اسلامی تعلیمات 4- رسول اللہ ﷺ کا طریقہ کار 5- تعارفِ اسلام 6- دعوتِ اسلام مختلف موضوعات پر وی سی ڈی (VCDs) تیار ہو چکے ہیں۔ مثلاً: 'امن اور تشدد' (Peace and Non-violence) اور 'فطرت اور روحانیت' (Nture as a role Model)، وغیرہ۔ اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر ہم آڈیو کیسٹ، آڈیو سی ڈی، وی سی ڈی اور ڈی وی ڈی بھی تیار کر رہے ہیں۔ آپ ان کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ اپنے طور پر آپ ان چیزوں کو مقامی ٹی وی چینل پر نشر کر سکتے ہیں۔
خدا کے ابدی پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچانے کے لیے ہم نے اپنے ویب سائٹ بھی درج ذیل عنوان سے تیار کرلیے ہیں:
آپ زیادہ سے لوگوں کو ان ویب سائٹس کے متعلق آگاہی دیں۔ مذکورہ وسائل ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے آپ کو متحد ہو کر خدا کا پیغام ہندوستان میں اور پھر ساری دنیا کے انسانوں تک پہنچانا ہے۔ ہندوستان میں دعوت الی اللہ حدیث رسول میں ہم کو یہ پیشین گوئی ملتی ہے کہ بعد کے زمانے میں دعوت الی اللہ کا کام کرنے کے لیے ہندوستان میں ایک مخصوص گروہ (عصابة) اٹھے گا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں ــــ عصابة تغزوا الهند (نسائی، كتاب الجهاد، باب غزوة الهند) یعنی ایک گروہ ہے جو ہندوستان میں غزوہ کرے گا، یہاں 'غزوہ' سے مراد دعوتی جدوجہد ہے۔
یہ مخصوص دعوتی گروہ انڈیا میں بھی دعوت الی اللہ کا کام اُسی طرح کرے گا جس طرح وہ عالمی سطح پر دعوت الی اللہ کے کام کو انجام دے گا اور لوگوں کو جنت کا راستہ دکھائے گا۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ حدیث میں جس دعوتی گروہ کی پیشین گوئی کی گئی ہے، وہ امکانی طور پر سی پی ایس انٹرنیشنل اور الرسالہ مشن کی دعوتی ٹیم ہے۔
خدا کی طرف سے اس بات کا فیصلہ ہو چکا ہے کہ ہندوستان میں دعوت الی اللہ کا کام اس طرح منظم ہو کہ اُس کے ذریعے لوگ خدا کی ابدی رحمت کے سائے میں آسکیں۔ مذکورہ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں اٹھنے والا یہ دعوتی گروہ عذابِ جہنم سے محفوظ رہے گا (أحر زهما الله من النار)، جنت کے دروازے ان کے لیے کھول دیے جائیں گے اور یہ لوگ خدا کی ابدی جنت میں جگہ پائیں گے۔ اس لیے سی پی ایسی کی ٹیم کو اس دعوتی کام میں پورے یقین کے ساتھ کامل طور پر شامل ہو جانا سی پی ایس کی ٹیم کے ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس دعوتی گروہ کا ناقابلِ تقسم حصہ اگر آپ نے اپنی دعوتی ذمے داریوں کو پورا کیا تو خدا آپ کو ضرور اُس دعوتی گروہ میں شامل فرمائے گا جس کے لیے اس کی طرف سے پیشگی طور پر خوش خبری اور بشارت دے دی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واحد مشن توحید تھا، یعنی لوگوں کو شرک سے نکال کر ایک خدا کی عبادت کی طرف لانا ۔ توحید کا یہ مشن دنیا کے بڑے حصے تک پہنچ چکا ہے۔ میں صرف ہندوستان کا استثنا ہے۔ یہاں شرک اب بھی زندہ شکل میں موجود ہے، کیوں کہ یہاں دعوت الی اللہ کا کام مطلوب انداز میں نہ کیا جا سکا۔ تاہم میرے اندازے کے مطابق، اب وہ وقت آچکا ہے کہ ہندوستان میں دعوت الی اللہ کے لیے وہ گروہ اٹھے جس کی پیشین گوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی ۔ مجھے یقین ہے کہ یہی دعوتی گروہ وہ عصابہ‘‘ ہے جس کے لیے خدا کی طرف سے کامیابی کا فیصلہ مقدر ہو چکا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اُس گروہ میں شامل فرمائے۔ نوٹ: اگلے صفحے پر ایک فارم منسلک کیا جار ہا ہے۔ الرسالہ مشن کے ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ مطلوبہ تفصیلات لکھ کر سی پی ایس کے پتے پر روانہ فرمائیں۔
پتا مع پن کوڈ (انگریزی میں): خریداری یا ایجنسی نمبر:
ٹیلی فون مع کوڈ نمبر (گھر): موبائیل:
ای میل (اگر ای میل نہیں ہے تو براہ کرم اپنا ای میل بنالیں): ملازمت یا موجودہ مصروفیت:
الرسالمشن سے آپ کس طرح وابستہ ہوئے: الرسالمشن سے وابستگی کی مدت: الرسالمشن کے دعوتی مشن میں آپ کس طرح جڑنا چاہیں گے: تبصرہ، یا تجویز:
پٹنہ بک فیئر کا شمار ہندوستان کے بڑے بک فیئر میں ہوتا ہے۔ یہ بک فیئر پٹنہ کے مشہور گاندھی میدان میں لگتا ہے۔ اس بار پٹنہ میں یہ بک فیئر یکم نومبر 2006 تا 12 دسمبر 2006 تک تھا۔ اس میں پہلی بار گڈ ورڈ بکس (Goodword Books) نے حصہ لیا۔ کافی تعداد میں لوگ گڈ ورڈ بکس کے اسٹال پر آئے۔ قرآن کے ہندی اور انگریزی ترجمے جو کافی تعداد میں تھے، وہ بک فیئر کے اختتام سے پہلے ہی ختم ہو گیے۔ صدر اسلامی مرکز کے ہندی ترجمہ قرآن کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔ پٹنہ ہائی کورٹ کے جج مسٹر دتّہ، صدر اسلامی مرکز کے حوالے سے خاص طور پر اسٹال پر آئے۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کی کتاب 'اسلام ری ڈسکورڈ' (Islam Rediscovered) کو اہتمام اور شوق کے ساتھ خریدا۔ پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا دونوں نے گڈ ورڈ بکس کے اسٹال کو نمایاں طور پر کور کیا۔ میں الرسالہ مشن اور سی پی ایس انٹر نیشنل سے متعلق احباب بطور خاص مسٹر ایم ٹی خان، مسٹر امام غزالی اور مسٹر اے ایم ایچ دانیال اہتمام کے ساتھ اسٹال پر موجود رہتے تھے۔ یہ لوگ اسلام سے متعلق معلومات حاصل کرنے والے لوگوں کو مثبت انداز میں اسلام کا تعارف پیش کرتے تھے اور صدر اسلامی مرکز کے دعوتی کتابچے (Dawah Booklets) اور سی پی ایس کے دعوتی بروشر (Dawah Brochure) اُن کے درمیان مفت تقسیم کرتے تھے۔ (محمد مصطفیٰ عمری) 2- ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 6 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق، بابری مسجد سانحے سے تھا جس کو اب چودہ سال ہو چکے ہیں۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ مسئلہ کچھ خود ساختہ لیڈروں کا مسئلہ ہے جو اس مسئلے پر عوام کو بھڑکاتے رہتے ہیں۔ اس سے کوئی مثبت فائدہ نکلنے والا نہیں۔
3- ماہ نامہ 'افکار ملی' (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر اسلم مقبول نے 9 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو کار ڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع تھا— مسلم تنظیمیں، جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلم تنظیموں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مثبت طرزِ فکر کو اپنائیں۔ مثبت طرزِ فکر ہی تمام ترقیوں کا ذریعہ ہے۔
4- نئی دہلی کے اُردو روزنامہ راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر اسجد نواز نے 13 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر حکومت کے تجویز کردہ مرکزی مدرسہ بورڈ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ تجویز اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہی ہے جو تمام مسلم ملکوں میں بالفعل قائم ہے۔ البتہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ہمارے مدارس کے علماء صرف علماء سند ہیں، وہ حقیقی معنوں میں علماء دین نہیں۔ اس لیے اس تجویز کا عملاً مفید ہونا بظاہر مشکوک نظر آتا ہے۔ کیوں کہ عملی طور پر اس بورڈ کو چلانے والے یہی علماء ہوں گے۔ تاہم حکومت کی اس تجویز نے ہمارے مدارس کو ایک بہت اچھا موقع فراہم کیا ہے۔ جیسا کہ بتایا گیا ہے، مرکزی مدرسہ بورڈ کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس کا پورا بجٹ حکومت ہند دے گی، جب کہ اس کا نظام عملاً مسلم علماء کے ہاتھ میں ہوگا۔ ایک تجویز پر منفی روش کا اظہار کرنا صرف بے دانشی کی بات ہے۔ ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ 1857 میں علماء نے فتویٰ دیا
تھا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ اس کے بعد تقسیم ہند کی تحریک چلی۔ اس تاریخی پس منظر نے مسلمانوں ایسا ذہن پیدا کر دیا ہے کہ وہ ہندوستانی حکومت کو غیر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس مزاج کو ختم کرنا بے حد ضروری ہے۔ کہ اس مزاج کی بنا پر مسلمانوں میں منافقانہ کلچر تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ یعنی ایک سیاسی نظام کو غیر دینی نظام سمجھنا اور اسی کے ساتھ اس سے بھر پور فائدہ اٹھانا۔
5- دور درشن (نئی دہلی) کی ٹیم نے 28 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویوئر مسٹڑ شیم تھے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ عید الاضحیٰ کا مطلب ہے قربانی کی عید۔ قربانی سے مراد یہ ہے کہ آدمی سچائی کو قربانی کی حد تک اختیار کرے۔ وہ کسی بھی حال میں سچائی کے راستے سے نہ ہٹے۔ 6- این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 30 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویوئر مسٹر اوما شنکر تھے۔ سوالات کا تعلق، صدر صدام حسین کی پھانسی سے تھا جو آج ہی عراق میں پیش آئی ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ جو کچھ ہوا اُس کے خلاف احتجاج کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ صدام حسین نے تقریباً 30 سال تک عراق پر ڈکٹیٹرانہ حکومت کی، لیکن آخرمیں انھو ںنے عراقیوں کے نام اپنے ایک پیغام میں عراقیوں کو مثبت طرز فکر کا پیغام دیا۔ انگریزی میں رپورٹنگ میں ان کے یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں:
I call on you not to hate Americans, because hate closes all doors of thinking. یہ بلاشبہ ایک صحیح پیغام ہے۔ اور نہ صرف عراقیوں کو بلکہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ 7- ڈینک ٹی وی (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر احمد نے 25 جنوری 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق، سچر کمیٹی کی رپورٹ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ترقی ذاتی محنت سے ملتی ہے، رعایت سے ترقی ممکن نہیں۔ 8- مسٹر باوا جین (مقیم امریکا) اور مسٹر رمیش بھنڈاری (سابق گورنر، یوپی) کی قیادت میں ایک تنظیم ’ہندو جوئش سمٹ‘ بنی ہے۔ اُس کے تحت 7 فروری 2007 کو ایک ڈائیلاگ ہوا۔ یہ پروگرام نئی دہلی کے ہوٹل ’آبرائے کانٹی نینٹل‘ میں منعقد کیا گیا۔ اس میں اسرائیل اور دوسرے مقامات کے یہودی مذہب کے بڑے بڑے پیشوا شریک اس کا موضوع یہ تھا کہ اسرائیل اور فلسطین میں امن کس طرح قائم کیا جائے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور قرآن اور حدیث کے حوالے سے مسئلے کا حل بتایا۔ اُن کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور وہ ہر حال میں امن کو قائم کرنا چاہتا ہے۔
9- صدر اسلامی مرکز کے نام ایک خط مورخہ 22 دسمبر 2006 موصول ہوا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے: محترمی و مکرمی جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ الرساله جنوری 2007 کا شمارہ بعض حقائق کے انکشاف کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ میں ہمیشہ اس احساس
سے رنجیدہ رہاہوں کہ آپ ایک مظلوم ترین انسان ہیں۔ گزشتہ تقریباً چالیس سال سے آپ مسلمانوں کو جو مشورے دیتے آئے ہیں اور جن کے صلے میں آپ کو کیا کیا نہ ذہنی اذیتیں برداشت کرنی پڑی ہیں، آج ملک کے تمام مکاتب فکر کے علماء کسی اعتراف اور احساس ندامت کے بغیر ان پر عمل کر رہے ہیں ۔ مالے گاؤں ہی کی مثال لے لیجیے ۔ 2006 کو یہاں بم دھماکہ ہوئے، 30 افراد ہلاک اور 300 افراد زخمی ہوئے ۔ مسلمانوں کے اس صبر کی تمام طبقوں کی جانب سے خوب خوب تعریفیں ہوئیں اور ابھی بھی ہو رہی ہیں۔ پولیس افسران، سیاست دان، وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ شیو راج پاٹل اور سونیا گاندھی نے بھی مسلمانوں کے اس صبر و ضبط کی سراہنا کی ۔ حالاں کہ یہ صبر مسلمانوں نے ’بعد از خرابی بسیار کیا ہے ۔ 2001 کے فسادات میں مالے گاؤں کے اطراف و جوانب کے لگ بھگ 35 دیہاتوں کی مساجد گرا دی گئی تھیں اور وہاں کے مسلمانوں کے گھروں کا بھی یہی حال ہوا تھا۔
اس سب کے باوجود کسی شخص میں یہ اخلاقی جرأت نہیں ہے کہ وہ یہ اعتراف کرے کہ آپ طویل عرصے سے مسلمانوں کو یہی مشورہ دیتے آئے ہیں ۔ آج جب مختلف طبقات کی جانب سے علما کی رہنمائی کی تعریفیں ہو رہی ہیں تو یہ حضرات بڑے آرام سے کسی احساس اور اعتراف کے بغیر اس کریڈٹ کو اپنے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔ تازہ الرسالہ میں دی گئی خط و کتابت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اور بھی کئی طریقوں سے آپ کی حق تلفی اور آپ کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔ دین کو عصری اسلوب میں آپ پیش کر رہے ہیں تاہم کچھ لوگ جو بے بنیاد طور پر اس کا سہرا اپنی اپنی محبوب شخصیتوں کے سر باندھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ اس سے غلط ذہن بنتا ہے۔ دار الدعوہ کا تصور بھی سب سے پہلے آپ نے پیش کیا، لیکن کوئی بھی اس کا اعتراف نہیں کر رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ کچھ لوگ نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اس کا بھی کریڈٹ خود لے رہے ہیں ۔ دیانت داری کا تقاضا اور ضمیر کی آواز وغیرہ ایسے لوگوں کے نزدیک سب سے معنی ہیں۔ افسوس، صدافسوس، یہ اُن لوگوں کا حال ہے جو شب و روز اخلاقیات کا درس دیتے ہیں۔ ( رمضان شکور، مالے گاؤں) )
10- شہر بہرائچ (یوپی) میں برادرم رفیع احمد انصاری ( بھٹے والے Tel. 941 544 2201) اور برادرم عبداللہ انصاری کے مخلصانہ تعاون سے الرسالہ مشن کے دعوتی لٹریچر کی اشاعت اور توسیع کے لیے ایک اسٹڈی فورم قائم کیا گیا ہے۔ اس کے تحت، تعلیم یافتہ حضرات کی ایک ٹیم نے الرسالہ کی مطبوعات کا اجتماعی طور پر مطالعہ شروع کر دیا ہے۔ 11 - لکھنؤ میں برادرم محمد سلمان نوری ( ناظم مدرسہ سید نا عمر فاروق ، رستم نگر ، چوک لکھنؤ (1027 980 983 .Tel) کے تعاون سے دعوتی مقصد کے تحت، ایک دار المطالعہ قائم ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں اسلامی مرکز ( نئی دہلی ) کی طرف سے دعوہ بک لٹس (Dawah Booklets)، اور الرسالہ کی تمام مطبوعات کا ایک مکمل سیٹ اُن کو روانہ کر دیا گیا ہے۔