Al-Risala · June 2007

فیصلہ کن چیز

Al-Risala, June 2007, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

لکھنؤ میں ایک اشاعتی ادارہ راشٹر دھرم پر کاشن ہے ۔ اس نے آرایس ایس کے سابق سرسنچالا ک گرو گولوالکر (وفات : 1973) کی ایک ہندی کتاب چھاپی ہے ۔ اس کا نام ہے ۔ راشٹر جیون کی سمسیا ئیں (1960)۔ گرو گولوالکر نے اپنی اس کتاب میں لکھا ہے کہ : مسلمان اور عیسائی کبھی سچے نیشنلسٹ نہیں ہو سکتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سچا نیشنلسٹ بننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی وطن کی زمین کو مقدس سمجھتا ہو۔ مسلمان اور عیسائی اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ اس لیے صرف ہندو ہی سچا نیشنلسٹ ہوسکتا ہے، کیوں کہ وہ بھارت کو مقدس سمجھتا ہے۔ ہندو کے لیے اس ملک کا ایک ایک ذرہ مقدس ہے۔ سے ثابت ہوا کہ ہندو ہی اس ملک میں سچا نیشنلسٹ ہے اور ہندو نیشنل ازم ہی سچا نیشنل لکھنؤ میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے اس کتاب کا حوالہ دیا اور بھرے ہوئے انداز میں وہ اس پر تبصرہ کرنے لگے۔ انھوں نے کہا کہ اس ملک میں ایسے ایسے نظریات ابھر رہے ہیں جو تمام مسلمانوں کو غدار ثابت کر رہے ہیں اور آپ مسلمانوں کو تلقین کر رہے ہیں کہ وہ صبر اور اعراض کی پالیسی اختیار کریں۔

میں نے کہا کہ آرایس ایس 1925 میں بنی۔ اب اس پر تقریباً اسی سال پورے ہورہے اس کی پہلی نسل ختم ہوچکی۔ دوسری نسل بوڑھی ہوگئی اور اب تیسری نسل کا دور شروع ہو رہا ہے، مگر ملک کے کسی بھی طاقت ور ادارے پر اس کا قبضہ نہ ہوسکا۔ حکومت، صحافت، تعلیم، انڈسٹری، فوج، قانونی نظام، ٹریڈ یونین، غرض جس شعبے کو بھی دیکھیے، وہ آرایس ایس کے قبضے سے باہر دکھائی دے گا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں آرایس ایس کے مقابلے میں غیر آرایس ایس طاقتیں زیادہ مؤثر

حیثیت رکھتی ہیں۔ ایسی حالت میں اس سے خائف ہونے کی کیا ضرورت ۔

دوسری بات یہ کہ اس دنیا میں آخر کار جو چیز غالب (prevail) ہوتی ہے، وہ حقیقت (reality) ہے نہ کہ کسی کے بولے ہوئے الفاظ۔ نیشنلسٹ یا وطن پرست کون ہے، اس کے بارے میں اصل فیصلہ کن چیز عالمی معیار ہے، نہ کہ آرایس ایس کے سرسیدا لک کے بولے یا لکھے ہوئے الفاظ۔ ذہن بلا شبہہ اس کو رد کر رہا ہے۔

نیشنل ازم کی مذکورہ تعریف کے مطابق، تمام ملکوں کے باشندے غدار ہیں، کیوں کہ کسی بھی ملک کے باشندے اپنے ملک کو مقدس نہیں سمجھتے۔ نیشنل ازم کا جو اصول ساری دنیا میں چل رہا ہے وہی انڈیا میں بھی چلے گا۔ کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی خود ساختہ نظریے کے تحت، انڈیا کو ایک نیشنلسٹ جزیرہ بنا سکے۔

Printed page