احکامِ دین
Al-Risala, June 2007, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
دین میں جو احکام دیے گئے ہیں وہ مختلف نوعیت کے ہیں۔ قرآن اور سنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان احکام کی دو بڑی قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو دین کا مطلق حصہ (absolute part) اور دوسرے احکام وہ ہیں جو دین کا اضافی حصہ (relative part) ہیں۔ مطلق حصہ ہر حال میں یکساں طور پر مطلوب ہوتا ہے۔ جب کہ اضافی حصے کی مطلوبیت حالات پر منحصر ہوتی ہے۔ کے حقیقی حالات یہ طے کرتے ہیں کہ ان کا نفاذ کس طرح کیا جائے گا۔
احکامِ دین کے اس فرق کو سمجھنے کے لیے قرآن اور سنت کے دو حوالوں کا مطالعہ کیجیے۔ سورہ نمبر 109 میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہلایا گیا ہے کہ کہو کہ اے منکرو، میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو۔
قرآن کی اس آیت میں عبادت کا لفظ آیا ہے۔ اس سے صریح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک عبادت کا تعلق ہے، اس کو دین کے ایک مطلق حکم کی حیثیت حاصل ہے۔ معاملے میں دوسروں سے نہ سمجھوتہ ہے اور نہ ایڈجسٹمنٹ۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ صرف ایک خدا کی عبادت کرے اور اسی ڈھنگ پر عبادت کرے جس طرح اسلام میں بتایا گیا ہے۔ جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے، ایک خدا کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا شرک ہے اور شرک خدا کے نزدیک ناقابلِ معافی جرم ہے۔
تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ عبادت میں اگر دوسروں کی طرف سے کوئی رکاوٹ ہو تو مسلمان اس رکاوٹ کو ختم کرنے کے لیے جنگ چھیڑ دیں۔ پیغمبر اسلام کے مکی دور کی زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کے معاملے میں بھی حالات کی رعایت کی جائے گی۔
چناں چہ مکہ میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے ابتداً کئی سال تک چھپ کر عبادت کی اور باقاعدہ با جماعت نماز کا اہتمام بہت بعد کو مدنی دور میں کیا گیا۔ عبادت کے معاملے میں یہ طریقہ قرآن
کے ایک مستقل اصول کے تحت تھا۔ یہ حکم قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے: اللہ کسی بندے پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمے داری نہیں ڈالتا (البقرہ : 286)۔ یہی بات قرآن کے دوسرے مقام پر بھی کہی گئی ہے۔ (التغابن : 16)
قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کے مطلق احکام خاص طور پر تین پہلوؤں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ عقیدہ، عبادت اور اخلاق۔ یہ تینوں قسم کے احکام اپنی نوعیت کے اعتبار سے مطلق ہیں، یعنی ان پر ہر حال میں عمل کیا جائے گا۔ خود اپنے ارادے سے ان میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جائے گی۔ ان کی ادائیگی میں کسی قسم کا فرق صرف اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب کہ مجبوری کی کوئی صورت پیدا ہو گئی ہو، جس کو شریعت میں اضطرار (البقرہ : 173) کہا گیا ہے۔ ان تینوں قسم کے احکام میں حالات کی نسبت سے فرق کرنے کی اجازت ہے، مگر یہ اجازت صرف بربنائے مجبوری ہے۔ ان تینوں احکام کا تعلق ایک شخص کے انفرادی رویے سے ہے اور ہر شخص کے ذاتی حالات ہی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ ان کی تعمیل کس طرح کرے۔
احکام دین کی تعمیل فہرست احکام کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہے، بلکہ وہ آدمی کے حالات کے اعتبار سے مطلوب ہے۔ آدمی کے حالات اُس کو جس حد تک ان احکام پر عمل کرنے کی اجازت دیتے ہیں، اُسی حد تک وہ اُن پر عمل کرنے کا مکلف ہوگا۔
تعمیل احکام کی یہی ترتیب فطری ترتیب ہے۔ یہی فطری ترتیب ایک شخص اور ایک قوم سے یکساں طور پر مطلوب ہے۔ کسی شخص اور قوم کے حقیقی حالات ہی اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ احکام دین کی تعمیل کس طرح کرے۔