انسان کی منزل
Al-Risala, June 2007, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان اپنے لیے ایک محفوظ دنیا چاہتا ہے، مگر سونامی (دسمبر 2004) کا واقعہ بتاتا ہے کہ انسان کو صرف ایک غیر محفوظ دنیا ملی ہے۔ انسان لامحدود زندگی چاہتا ہے، مگر موت کا واقعہ اس کو یاد دلاتا ہے کہ اس کو یہاں جینے کے لیے ایک محدود مدت ملی ہے۔ انسان آئیڈیل خوشی چاہتا ہے، مگر مختلف قسم کے حادثات یہ بتاتے ہیں کہ انسان کو اس دنیا میں صرف ایسی خوشی مل سکتی ہے جو اس کے مطلوب آئیڈیل سے بہت کم ہے۔ انسان استثنائی طور پر کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے، مگر اس کو عملاً آج (today) کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ انسان کے اندر اتاہ پوٹینشیل موجود ہے، مگر ہر انسان اپنے پوٹینشیل کا ایک فیصد استعمال کرتا ہے اور اس کے بعد اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس سوال کا جواب خود انسان کی فطری ساخت کے اندر موجود ہے۔ طور پر انسان کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ تمام حیوانات صرف آج (today) کے تصور میں کرہ ارض پر انسان واحد ایسی مخلوق ہے جو اپنے اندر کل کا تصور رکھتا ہے۔ یہی فطرت کی طرف سے مذکورہ سوال کا جواب ہے۔ وہ جواب یہ ہے کہ انسان جو چیز اپنے آج میں ڈھونڈ رہا ہے وہ اس کے کل میں موجود ہے۔ وہ اپنے جس مطلوب کو پرزنٹ میں پانا چاہتا ہے وہ خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے مطابق، اس کے مستقبل میں رکھ دیا گیا ہے۔ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کی عمر کے دو حصے ہیں۔ ایک ماقبل موت دَور (pre-death period) اور دوسرا مابعد موت دَور (post-death period)۔ انسان کی مطلوب دنیا (desired world) اس کے مابعد موت دَور (post-death period) میں رکھی گئی ماقبل موت دَور کی حیثیت امتحان گاہ (selective ground) کی ہے۔ جو عورت یا مرد ماقبل موت دَور میں خود کو اہل (qualify) ثابت کریں گے، وہ مابعد موت دَور میں اپنی مطلوب دنیا (desired world) میں بسائے جانے کے مستحق قرار پائیں گے۔ اسی مطلوب دنیا کا نام جنت ہے۔
سمامی جیسے واقعات ایک وارننگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس بات کی وارننگ کہ موجودہ دنیا میں انسان اپنی جنت نہیں بنا سکتا۔ ہماری زمین اگر چہ بہت خوب صورت ہے، مگر وہ اتنا زیادہ پر خطر (vulnerable) ہے اور یہاں اتنی محدودیتیں (limitations) ہیں کہ وہ جنت کا مسکن (abode) نہیں بن سکتی۔ ہماری زمین جنت کا ایک ابتدائی تعارف ہے مگر وہ خود جنت نہیں۔ جنت کی تعمیر کے لیے ہم کو ایک اور دنیا چاہیے، ایک ایسی دنیا جو کہ لا محدود (unlimited) ہو۔ جو ہر قسم کے خوف سے جنت ایک کامل (perfect) دنیا چاہتی ہے، جب کہ موجودہ دنیا ہر اعتبار سے غیر کامل (imperfect) ہے۔ اور غیر کامل زمین پر کامل جنت نہیں بنائی جاسکتی۔ انسان اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے جنت کا طالب ہے، مگر انسان کے اندر استثنائی طور پر کل (tomorrow) کا تصور (concept) بتاتا ہے کہ جنت ورلڈ ٹو ماررو (world-tomorrow) میں قابل حصول ہے، ورلڈ ٹوڈے (world-today) میں وہ قابل حصول نہیں۔ اس حقیقت کو جاننا بلا شبہ سب سے بڑا اور ڈم ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو جان کر 'کل' پر مبنی لائف بناسکیں وہ کامیاب ہیں اور جو لوگ اپنی زندگی صرف آج پر مبنی کر کے بنائیں، وہ ناکام ہیں۔ ہندی ترجمہ قرآن زیر نظر ترجمہ، ہندی زبان میں قرآن کا سلیس اور آسان ترجمہ ہے۔ عوام الناس کا خیال رکھتے ہوئے ہندی کے مشکل الفاظ سے اجتناب کیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ عام فہم زبان میں ہونے کی بنا پر عوام اور خواص دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔