Al-Risala · June 2007

سوال و جواب

Al-Risala, June 2007, pp. 30–45

By Maulana Wahiduddin Khan

مولا نا صاحب میری ایک مخصوص سوچ ہے کہ دنیا میں جس نے بھی اسلام کے لیے کام کیے

اس کی نہ ہی تمام باتیں اس لائق ہیں کہ ان کو اپنایا جائے اور نہ ہی سب باتیں ایسی ہیں جن کو رد کیا ہمیں کسی کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ کسی کی بات سے ہمیں اختلاف ہو سکتا ہے اور یہ ہمارا حق ہے۔ (سہیل بشیر کار، کشمیر)

1- "کسی کی ہر بات درست نہیں ہو سکتی" یہ کوئی مطلق بات نہیں۔ اس طرح کے مفروضے کی بنیاد پر کسی کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی کو اُس وقت تک درست مانیں جب تک اس کی کسی بات کو آپ قرآن اور سنت کی واضح دلیل سے رد نہ کر سکیں۔

اسلام میں اس قسم کے مفروضے کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس قسم کے بے دلیل مفروضے کا نقصان یہ ہے کہ کہنے والے کے اندر یقین پیدا نہیں ہوتا۔ جب کہ یقین ہر ایک کی ایک ایمانی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ: خیر ما وقر في القلوب اليقين، والإرتياب من الكفر (البيهقی، وابن عساكر)

اس مزاج کے لوگ ہمیشہ انفرادی زندگی گزاریں گے، وہ کبھی کسی اجتماعی مشن کا حصہ نہ بن سکیں وہ یقین کے ساتھ کسی سے جڑ نہیں سکیں گے۔ وہ شک کے ساتھ جئیں گے اور شک کے ساتھ اس دنیا سے چلے جائیں گے۔ اس طرح کے لوگوں کو اپنے اس مزاج کی دو بھاری قیمت دینی پڑتی ہے— ایک، حق کے معاملے میں بے یقینی اور دوسرے، اجتماعی زندگی سے محرومی۔

اس طرح کی سوچ کے لوگ اکثر امام مالک کے اس مشہور قول کا حوالہ دیتے ہیں: کل یوخذ منہ و یرد۔ مگر مذکورہ قسم کے موقف کی تائید کے لیے یہ حوالہ غلط ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص قرآن اور حدیث کے حوالے سے ایک بات پیش کرے تو اُس کو لینا آپ کے اوپر فرض ہو جائے گا۔ فرضیت صرف اُس وقت ختم ہوگی جب کہ آپ خود قرآن اور حدیث کے دلائل سے اُس کا نادرست ہونا ثابت کر دیں۔ اگر آپ کے پاس جوابی دلیل موجود نہیں ہے تو امام مالک کے قول کا حوالہ دے کر مذکورہ قسم کی بات کرنا، میرے نزدیک ایک گناہ کا فعل ہے، وہ کوئی صحیح علمی موقف نہیں۔

جناب عالی کی خدمت میں مؤدبانہ التماس ہے کہ میں ایک ذاتی معاملے میں کافی دباؤ اور پریشانی کی حالت میں رہتا ہوں۔ لاکھ کوشش کے باوجود حالت جوں کی توں رہتی ہے۔ اس لیے اپنی خاص دعاؤں میں ناچیز کو یاد کر کے اس معاملے کی درستی میں ہمارے مسیحا بنیں۔ (محمد طاہر، شوپیاں، کشمیر) دعا کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی متعین طور پر اصل بات لکھے، تاکہ سائل کے لیے دعا کے کی مشور نہیں ہو سکتا۔ اصل بات معلوم کر کے دعا کی جا سکتی ہے اور صحیح مشورہ دیا ساتھ ضروری مشورہ بھی دیا جا سکے ۔ اصل واقعہ معلوم کیے بغیر نہ دعا کی جاسکتی ہے اور نہ صحیح مشورہ دیا جا سکتا ہے ۔

میرا تجربہ ہے کہ اکثر لوگ کسی ذاتی نادانی کی بنا پر اپنے آپ کو ایک مصیبت میں پھنسا لیتے ہیں ، اور اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے دعا کیجئے ۔ اس طرح کے معاملے میں سب سے پہلے ضروری ہے کہ واقعے کی اصل نوعیت بتائی جائے ، تا کہ صحیح مشورہ دیا جا سکے ۔ دوسری بات یہ کہ دعا کوئی لامحدود چیز نہیں۔ دعا کے معاملے میں آدھا کام خود سائل کو کرنا پڑتا اس کے بعد بقیہ آدھے کام کے لیے خدا سے دعا کی جاتی ہے۔ اس کے بغیر دعا کرنے کا کوئی

میں مختلف قسم کے فکری سوالات میں الجھا رہتا ہوں ۔ میرے پاس مطالعے کا وقت نہیں کہ اپنے کیا جا سکے۔ اسکول کے سالانہ جلسے میں ہر ایک کو باری باری مقام دیا جاتا ہے اور سب کو صحیح بات کا سوالات کا جواب پاسکوں ۔ ایسی حالت میں میں کیا کروں۔ مزید یہ بتائیے کہ مطالعے کا صحیح طریقہ کیا براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔ (محمد تاج رضا)

)ماہنامہ (مہنگا مداس رضا اگر آپ کے پاس مطالعے کے لیے وقت نہیں ہے تو آپ کو سوال اور جواب میں بھی اپنے ذہن کو الجھانا نہیں چاہیے جتنا آپ کا علم ہے، اس کے مطابق نیک نیتی کے ساتھ عمل کرتے رہیے۔ پے، تو تپ، تاپ، ٹاپ، ٹپ، پاٹ، پاپ، تات، پات۔

میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں:

مطالعے کا کوئی فریم ورک نہیں۔ آپ کو جو کتاب ملے اس کو پڑھیے۔ اگر وہ کتاب آپ کو مفید معلوم ہو تو مطالعہ جاری رکھیے، ورنہ اس کا مطالعہ چھوڑ دیجیے۔ پیشگی طور پر مطالعے کا کوئی فریم ورک مقرر نہیں کیا جاسکتا۔

صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی طاقت کے بقدر کام کرے۔ طاقت یا وسعت سے زیادہ کرنے کا کوئی آدمی مکلف نہیں ہے۔ دین میں اصل اہمیت نیک نیتی اور اخلاص کی ہے۔ بقیہ چیزیں اضافی حیثیت رکھتی ہیں۔

آج تک میں نے جو بھی کتابیں پڑھیں مجھ پر اُن کا وہ اثر نہ ہوا جو آپ کی تحریروں نے کیا۔ آج عالم یہ ہے کہ جب میں کسی الجھن میں ہوتا ہوں تو آپ کی کوئی تحریر پڑھ لیتا ہوں ۔ اور مجھے سکون مل جاتا ہے۔ جب میرے ہاتھ میں آپ کی کوئی کتاب ہوتی ہے تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا میرا رہبر میرے ساتھ ہے۔

میں اس سے پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ میرے اوپر عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ کسی بات کا اثر فوری طور پر اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ میں اس میں نڈھال ہو جاتا ہوں ۔ اور میری حالت عجیب ہو جاتی ہے۔ دھیرے دھیرے وہ اثر بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ مستحکم ہو کر کوئی فیصلہ نہیں لے پا تا ہوں ۔ نہیں چاہتا کہ فضول باتیں میرے ذہن کو منتشر کریں۔ لاکھ کوششوں کے باوجود عجیب عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ مثلاً کرکٹ اسٹار سوربھ گانگولی کو ٹیم سے کیوں نکال دیا گیا تھا۔ دھونی کو ٹیم سے باہر دنیا ان لوگوں کے پیچھے اتنا بھاگتی کیوں ہے۔ سونیا گاندھی پی ایم کیوں نہیں بنیں، من موہن سنگھ کو پی ایم کیوں بنایا گیا۔ امیتابھ بچن کو اب فلموں میں کام کرنا چاہیے ۔ اشور یہ سے ابھشیک کی شادی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اس دور کے بڑے لوگ کس طرح اپنی زندگی گزارتے ہیں ان کے رہنے سہنے کا تصور ذہن کو بھٹکاتا رہتا ہے۔ کیا میرا بھی نام اس دنیا میں ان لوگوں کی طرح کبھی روشن ہو سکے گا، وغیرہ۔

میں نے یہ سب باتیں آج تک نہ کسی کو بتایا نہ لکھا لیکن میرا دل ودماغ آپ کو یہ باتیں بتانے پر مجھے مجبور کر رہا ہے اس لیے آپ کو لکھ رہا ہوں۔ آخر یہ سب میرے ساتھ کیوں ہوتا ہے۔ اپنے کاموں میں مصروف ہے پھر میں کیوں کر ان کا تصور اپنے ذہن میں لیے پھرتا ہوں ، ایسا کیوں میں یہ جانتا ہوں کہ اگر میرے اس مسئلے کا حل آپ کے پاس نہ ہوگا تو کسی دوسرے کے پاس ہرگز نہ ہوگا۔ (محمد نثار احمد، ہزاری باغ، جھارکھنڈ)

زندگی کے کچھ حتمی اصول ہیں۔ ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان اصولوں کی پیروی ان اصولوں کی خلاف ورزی کرنا، اپنی زندگی کو تباہ کر لینے کے ہم معنیٰ ہے۔ زندگی کے انھیں اصولوں میں سے ایک اصول وہ ہے جس کو حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے — مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ المرءِ تركہ مالا یعنیہ (مسند احمد، ابن ماجہ، مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث: 4840) یعنی آدمی کے بہتر مسلم ہونے کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ اُن چیزوں کو چھوڑ دے، جس میں اُس کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔

آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ اس اصول حیات کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ آپ یہ کیجیے کہ ضروری اور غیر ضروری میں فرق کرنا سیکھیے۔ اپنے وقت اور اپنے دماغ کو صرف اُن چیزوں میں صرف کیجیے جو آپ کی ترقی کے لیے ضروری ہیں، بقیہ چیزوں کو اپنے دماغ سے نکالتے رہیے۔ اسی اصول کو جارج برنارڈ شا نے اپنے لفظوں میں اس طرح بیان کیا تھا:

”سب سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ انسان وہ ہے جس کے پاس بھلانے کے لیے کچھ نہ ہو“۔ ہم حلقۂ الرسالہ غیر مسلموں میں دعوتی کام کر رہے ہیں۔ مہاراشٹر میں چوں کہ مراٹھی زبان بولنے والوں کی اکثریت ہے۔ اس لیے آپ کی کتابوں کے مراٹھی ترجموں کی اشد ضرورت محسوس کی

ہمارا خیال ہے کہ جناب عبد السلام چاؤش (ناگ پور) جو مراٹھی زبان پر کافی عبور رکھتے ہیں اور جنھوں نے چاؤش ڈکشنری (مراٹھی۔ انگریزی) اور کئی کتابیں تصنیف کی ہیں، اس کام کے لیے موزوں اور مناسب آدمی ہیں۔ براہِ کرم آپ ان کے ذمّے یہ کام سپُرد فرمائیں، تاکہ مہاراشٹر کے غیر مسلموں کی اہم ضرورت پوری ہو اور غیر مسلموں میں دعوتی کام میں آسانی ہو سکے۔ الحمد للہ آپ کی کتب انگریزی، عربی، اردو، ہندی اور دیگر عالمی زبانوں میں چھپ رہی ہیں لیکن مراٹھی داں طبقہ اس سے محروم ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آپ اس طرف توجہ فرمائیں گے۔

اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ آپ کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم رکھے تاکہ آپ کی رہبری اور رہنمائی میں ہم دعوت کے عظیم الشان کام کو کر سکیں ۔ (حافظ زبیر احمد، ناندیڑ) عرض یہ ہے کہ دوسروں کے لیے تجویز پیش کرنا کوئی کام نہیں۔ اصل کام یہ ہے کہ دستیاب وسائل کے دائرے میں آدمی اپنا کام شروع کردے، اور بقیہ معاملے کے لیے وہ خدا سے دعا کرتا وسائل کی کمی کا حل تجویز پیش کرنا نہیں ہے، بلکہ دعا اور کوشش کرنا ہے۔ آج کل یہ عام مزاج بن گیا ہے کہ لوگ ہر معاملے میں تجویز پیش کیا کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اپنی ذمے داری کو دوسرے کے سر ڈال کر یہ سمجھتا ہے کہ میں نے اپنا کام کر دیا۔ حالاں کہ یہ محض خوش خیالی ہے۔ صحابہ کا مزاج یہ تھا کہ وہ بقدر استطاعت اپنی ذمے داریوں کو ادا کرتے وہ دوسروں کے لیے کوئی تجویز پیش نہیں کرتے تھے۔ یہی طریقہ صحیح اسلامی طریقہ ہے۔ میری عمر 29 سال ہے۔ شادی ہوئے قریب دو سال ہو گئے ۔ ایک بچہ بھی ہے۔ گاؤں میں رہتا ہوں۔ لیکن میری شادی شہر میں رہنے والی لڑکی سے ہوئی ہے۔ میری سمجھ سے میری بیوی کسی بھی طرح عقل مند نہیں ہے۔ ہمارے گھر والے اس کو بیٹی کی طرح مانتے ہیں۔ لیکن وہ جب سے میرے گھر آئی ہے گھر والوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرتی۔ ذرا ذرا سی بات پر غصہ کرنے لگتی ہے

اور کسی بات کا فوراً الٹا جواب دے دیتی ہے۔ اس کے ذہن میں ذرا سا بھی اس بات کا اثر نہیں رہتا کہ ہم سسرال میں ہیں اور سسرال والوں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے۔ یہاں تک کہ میرے ساتھ بھی الٹی سیدھی بات بول جاتی ہے۔ لاکھ سمجھاؤ لیکن وہ اپنی عادت سے باز نہیں آتی۔ ایسا بھی نہیں کہ وہ امیر باپ کی بیٹی ہے۔ بلکہ مالی اعتبار سے ہم دونوں گھر والے یکساں ہیں۔ آخر یہ اس کی نادانی ہے یا اس کا غرور کہ گھر میں کسی کو کچھ نہیں سمجھتی حالاں کہ کئی بار ہم نے اس کو مارا بھی۔ لیکن پھر بھی اُس کی عادت میں ذرا سا سدھار پیدا نہیں ہوا۔ میں سوچتا ہوں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عقل مند عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن میرا کیا ہوگا۔ میری زندگی کیسے گزرے گی۔ (ایک قاری الرساله، جھارکھنڈ) آپ کا خط مورخہ یکم اگست 2006 ملا۔ اس کو میں نے غور سے پڑھا۔ میرے نزدیک اس معاملے میں ساری غلطی صرف آپ کی ہے، کسی اور کی۔ 1 - عقل مند عورت، ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوتی۔ اس کو تربیت دے کر عقل مند بنانا میرے اندازے کے مطابق، آپ نے یہ کام نہیں کیا۔

2 - قرآن میں عورت کو تنبیہ کے لیے علامتی ضرب کی اجازت، استثنائی طور پر، صرف اُس وقت ہے جب کہ اس کے اندر نشوز (النساء: 34) پایا جائے۔ آپ نے جو اپنی بیوی کو مارا تو بلا شبہہ اس کا سبب نشوز نہیں تھا۔ اس لیے آپ نے بلا شبہہ ایک سخت غلط کام کیا ہے۔ آپ اس کی تلافی کے لیے فوراً اپنی بیوی سے معافی مانگیے اور خدا سے اُس کے لیے توبہ کیجیے۔ 3 - اپنے تجربے کے مطابق، میں یہ سمجھتا ہوں کہ بیوی سے آپ کی شکایت کا سبب صرف یہ ہے کہ وہ آپ کے والدین کی خدمت نہیں کرتی۔ میرے نزدیک، آپ کا یہ مطالبہ بھی غلط ہے۔ کہ شوہر کے والدین کی خدمت کرنا، بیوی کے شرعی فرائض میں شامل نہیں۔

4 - آپ نے لکھا ہے کہ میرے گھر والے میری بیوی کو بیٹی کی طرح مانتے ہیں۔ بلاشبہہ غلط ہے۔ آپ نے صرف یہ کیا ہے کہ گھر والوں کے بولے ہوئے لفظ کو یک طرفہ طور پر سن کر

اس کو اپنے خط میں نقل کر دیا۔ آپ نے خود سے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ کہ عملاً آپ کے گھر والوں کا رویہ آپ کی بیوی کے ساتھ کیا ہے۔ میں آپ کے اس بیان کو قطعی طور پر درست نہیں مانتا۔ آپ کی اصل غلطی یہ ہے کہ آپ مشترک خاندان میں رہتے ہیں۔ آپ کو دو میں سے ایک کام کرنا چاہیے یا تو آپ الگ گھر لے کر بیوی کے ساتھ رہیں، یا آپ کو اگر مشترک خاندان میں رہنا ہے تو آپ یک طرفہ طور پر صبر کا طریقہ اختیار کریں۔ آپ کو میرا مشورہ ہے کہ آپ میری دو کتابیں خاتونِ اسلام اور عورت معمار انسانیت کا مطالعہ فرمائیں۔

میرا یہ تیسرا خط ہے جو میں آپ کو لکھ رہا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اپنی زندگی میں آپ سے جتنا متاثر ہوا ہوں کسی اور سے کبھی متاثر نہ ہو سکا۔

میں ایک غریب گھر کا نوجوان ہوں۔ میرے ماں باپ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ آمدنی شروع سے لے کر اب تک بہت کم ہے۔ جس کی وجہ سے گھر میں ہمیشہ tension بنا رہتا مالی حالت اچھی نہ ہونے کے باوجود میرے والد نے مجھے .M.A تک کی تعلیم دلائی۔ اب ذریعہ معاش ڈھونڈنے کی فکر ہوئی۔ میں نے کئی جگہ سرکاری نوکری کی تلاش میں بھر پور کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔ اب ہمارے پاس اتنا پیسہ اور وقت نہیں رہا کہ سرکاری ملازمت کی خاطر امتحانات میں شریک ہوسکوں۔ ہمارا کوئی رشتے دار بھی کسی شہر میں نہیں رہتا کہ اُس کا سہارا لے کر میں کسی شہر میں جا کر کوئی private service کی تلاش کر سکوں۔ میری شادی بھی ہو چکی ہے۔ پریشانی دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ دن رات پریشان رہتا ہوں۔ آخر کیا کروں ۔ (محمد نثار احمد، ہزاری باغ، جھارکھنڈ)

عرض یہ کہ زندگی کی کامیابی کا کوئی پر اسرار فارمولا نہیں ہے۔ زندگی ہر ایک کے لیے جدوجہد منصوبہ بند عمل ہی کسی کو کامیابی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

آپ کے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ایم۔ اے کیا ہے۔ مجھے شک ہے کہ آپ نے اے کسی ایسے مضمون میں کیا ہے جس کی مانگ مارکیٹ میں موجود نہیں۔ اگر میرا اندازہ صحیح ہو تو یہ آپ کی منصوبہ بندی میں نقص کا ثبوت ہوگا۔

اب آپ کے لیے زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ آپ کے لیے صرف دو میں سے ایک صورت کا انتخاب ہے۔ یا تو آپ ایسا کریں کہ اپنی موجودہ لیاقت کی بنیاد پر آپ کو جو کام مل سکتا ہے آپ اس کو لے لیں، خواہ وہ کوئی چھوٹا کام کیوں نہ ہو۔ اور اگر آپ بڑا جاب چاہتے ہیں تو آپ کو پھر سے پیچھے کی طرف لوٹنا ہوگا۔ یعنی آپ ایسی کوئی ڈگری حاصل کریں جو مارکیٹ میں اہمیت رکھتی ہو، یا ایسا کوئی ہنر سیکھیں جس کی بنیاد پر آپ کو آج کے زمانے میں کوئی اچھا جاب مل جائے۔ غم اور ٹینشن میں جینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ ماضی کو بھلا کر مستقبل کے لحاظ سے از سر نو اپنا عمل شروع کیجیے، اور پھر یقیناً آپ کامیاب ہو جائیں گے۔

آپ کی کتاب ’’رہنما ئے حیات‘‘ پڑھ رہی ہوں۔ بہت اچھی کتاب ہے۔ آپ کی کتابیں بہت اچھی ہوتی ہیں۔ آپ کی کتابیں پڑھنے کے بعد کسی اور کی کتاب پڑھ نہیں سکتی۔ دوسروں کی کتابیں طبیعت پر بھاری لگنے لگتی ہیں۔ جس دن الرسالہ آتا ہے میں اُسی دن اُسے پورا پڑھ لیتی ہوں۔ روزانہ اس کا ایک ایک article پڑھتی ہوں ۔ آپ کی تحریریں پڑھ کر سوچ مثبت ہوتی ہے۔ توکل بڑھتا ہے۔ اور ہم اس دنیا میں امتحان کے لیے آئے ہیں، یہ احساس قوی ہوتا ہے۔ ’رہنمائے حیات‘ صفحہ 204 ’صبر کا فائدہ‘ میں آپ نے لکھا ہے کہ فکری ارتقاء رُوحانی ارتقاء سے جُڑی ہوئی ہے۔ میرے ذہن میں یہ سوال آ رہا ہے کہ فکری ارتقاء کے نتیجے میں مادی ترقی ہو رہی ہے۔ مگر جو لوگ مادی طور پر بڑھ رہے ہیں اُن میں رُوحانی ترقی نظر نہیں آتی بلکہ وہ زیادہ materialistic نظر آتے ہیں۔ اس کو ذرا واضح کر دیں کہ فکری ارتقاء اور رُوحانی ارتقاء میں کیسے ہم آہنگی ہے۔

2 - شیطانی وسوسوں سے بچنے کا کیا حل ہے۔ سورہ الفلق اور سورہ الناس پڑھتی ہوں۔ کے علاوہ کوئی اور طریقہ بھی ہے۔ (فرزانہ فیصل، کراچی)

1- آپ نے غالباً فکری ارتقاء کو تعلیمی ارتقاء کے معنی میں لے لیا ہے، مگر میرا مطلب یہ نہیں۔ تعلیمی ترقی کا فائدہ صرف یہ ہوا ہے کہ ڈگری یافتہ لوگوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ مگر فکری ترقی کا مطلب ہے_ بصیرت کی ترقی، وزڈم کا بڑھنا اور شعوری ارتقاء۔ اس اعتبار سے ابھی ہمارا معاشرہ بہت پیچھے اس کی ایک پہچان یہ ہے کہ تعلیمی ترقی کے باوجود تمام لوگوں کے اندر منفی سوچ پرورش پارہی ہے۔ جب کہ حقیقی معنوں میں باشعور لوگوں کی پہچان یہ ہے کہ ان کے اندر منفی سوچ کا خاتمہ ہوجائے۔ پوری طرح مثبت سوچ والے انسان بن جائیں۔

روحانیت کا تعلق، ہمارے نزدیک قلب سے نہیں ہے بلکہ ذہن سے ہے۔ ذہنی ترقی جب مثبت انداز میں ہوتی ہے تو اس کے نتیجہ کے طور پر وہ چیز بھی پیدا ہوتی ہے جس کو روحانی ترقی کہا جاتا یہی وجہ ہے کہ فکری ارتقاء لازمی طور پر روحانی ارتقاء سے جڑا ہوا ہے۔ فکر اور احساس کا منبع صرف اس لیے دوسری چیزوں کی طرح روحانیت بھی مائنڈ کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ 2- آپ کے دوسرے سوال کے بارے میں عرض ہے کہ آپ راقم الحروف کی تفسیر تذکیر القرآن کا مطالعہ کریں۔

سورہ یس میں ایک آیت ہے_ تنزیل العزیز الرّحیم (یس: 5)۔ مجھے عربی پر مہارت تو نہیں، تھوڑا علم ہے۔ اسی تھوڑے علم کی بنیاد پر مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس آیت میں تنزیل کی جگہ تنزیل یعنی لام پر فتحہ کی جگہ پیش ہونا چاہیے تھا۔ میں نے کئی عربی دانوں سے رجوع کیا مگر مجھے صحیح جواب ابھی تک نہیں مل پایا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ آپ اس کی صراحت کریں گے۔ لیے مشکور ہوں گا۔ (رستم علی، پٹنہ، بہار)

سورہ یس کی آیت میں لفظ تنزیل کا اعراب حذف کے اصول پر ہے۔ اس آیت میں تنزیل فعل محذوف سے منصوب ہے۔ تفسیر قرطبی میں اس کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے: ”تنزیل العزيز الرحيم“ قرأ ابن عامر و حفص والأعمش وحمزة والكسائي وخلف: ”تنزیل“ بنصب اللام على المصدر؛ أى نزّل الله ذلك تنزیلاً۔ (القرطبی، جلد 15، صفحہ: 6) الرسالة مئی 2006 میں ایک سوال کے جواب میں آپ نے لکھا تھا کہ۔ کسی ایسے شخص کو کافر نہیں کہیں گے جو قبلے کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کی تاریخ میں جن لوگوں کو قادیانی یا احمدی کہا جاتا ہے اُن لوگوں کو کافر کس بنا پر کہا جاتا ہے۔ جب کہ وہ لوگ بھی قبلے کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ (شبیر احمد وانی، سری نگر، کشمیر) کون کافر ہے اور کون کافر نہیں ہے، یہ فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے۔ انسان کا کام نہیں۔ زمانے میں تکفیر کا جو طریقہ رائج ہوا ہے، میں اس کو غلط سمجھتا ہوں۔ اہلِ ایمان کی ذمے داری صرف تبلیغ ہے، تکفیران کی ذمے داری نہیں۔

سائنٹفک نقطہ نظر (scientific attitude) کیا ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص کے اندر سائنٹفک مزاج یا سائنٹفک نقطہ نظر نہیں ہے۔ اس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو اس کی وضاحت (عبدالسلام اکبانی، ناگ پور)

سائنس کے لفظی معنی علم کے ہیں، مگر جدید استعمال میں اس سے مراد وہ علوم ہیں جن کو

علومِ قطعیہ (exact sciences) کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں قیاسی منطق کا رواج تھا، اس کے تحت مفروضات کی بنیاد پر رائے قائم کی جاتی تھی۔ موجودہ زمانے میں مسلّمہ حقائق (established facts) پر رائے قائم کی جانے لگی۔ اسی سے سائنسی علوم پیدا ہوئے۔ سائنٹفک نقطۂ نظر مبنی بر حقائق نقطۂ نظر کا نام ہے۔ اس کے برعکس نقطۂ نظر وہ ہے جس کو مبنی بر مفروضات نقطۂ نظر کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ عام طور پر مشرقی اقوام میں سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ ان کے درمیان سائنٹفک نقطۂ نظر کا ارتقاء نہ ہوسکا۔ تمثیل بیان کرنا، ایک شعر پڑھ دینا، یا ایک لفظی تک بندی پیش کر دینے کو بھی دلیل سمجھا جاتا ہے۔ حالاں کہ اس قسم کی چیزیں دلیل نہیں ہیں۔ چند مثالوں سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ ہندوستان کی آزادی (1947) کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو یہاں کے وزیر اعظم بنے۔ انھوں نے ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے پانچ سالہ پلاننگ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ملک کے اوپر بہت بڑے بڑے ٹیکس عائد کر دیے۔ جب ان سے کہا گیا کہ آپ اتنے بڑے بڑے ٹیکس ملک پر کیوں لگا رہے ہیں تو انھوں نے ایک تمثیل کے ذریعے اس طرح اُس کا جواب دیا کہ گرمی کے زمانے میں نالوں اور ندیوں کا پانی بھاپ بن کر اُڑ جاتا ہے اور ہر طرف سوکھا نظر آنے لگتا ہے۔ مگر یہ پانی فضا میں جا کر بادل بن جاتا ہے اور دوبارہ زمین پر برستا ہے۔ میں ہر طرف سرسبزی پھیل جاتی ہے۔ اسی طرح ہم جو ٹیکس لے رہے ہیں تو وہ مختلف ترقیوں کی صورت میں دوبارہ ملک کی طرف لوٹیں گے اور اس کی خوش حالی کو بڑھائیں گے۔ یہ ایک غیر سائنٹفک استدلال ہے جو واقعات پر نہیں بلکہ مفروضات پر مبنی ہے۔ اس لیے کہ بھاپ اور بارش کا معاملہ فطرت کے اٹل قانون کے تحت ہوتا ہے۔ چناں چہ جب زمین کا پانی بھاپ کی صورت میں اوپر جاتا ہے تو اس کے بعد وہ فطرت کے لازمی قانون کے تحت دوبارہ زمین پر واپس آتا ہے اور یکساں طور پر سب کو سیراب کرتا ہے۔

مگر ٹیکس اور پلاننگ کا معاملہ اس سے یک سر مختلف ہے۔ یہاں ٹیکسوں کے ذریعے حاصل شدہ

دولت کچھ انسانوں کے پاس جمع ہوتی ہے۔ یہ سرکاری انسان اگر دیانت دارانہ طور پر اس کو لوٹائیں تو وہ عوام کی طرف لوٹے گی ورنہ وہ انھیں کی جیبوں میں رہ جائے گی۔ چناں چہ عملاً یہی ہوا۔ 60 سال سے زیادہ مدت سے نہایت بڑے بڑے ٹیکس عوام سے وصول کیے جا رہے ہیں مگر حالت یہ ہے کہ ملک کے تھوڑے سے با اختیار لوگ تو بہت زیادہ امیر ہو گئے اور ملک کی اکثریت کے حصے میں غربت اور مصیبت کے سوا کچھ نہ آیا۔

میرا نام فاضل محمد وانی، عمر تقریباً 31 سال ہے۔ میں نے M. Sc. Chemistry میں کیا ہے اور کچھ عرصے سے ایک کالج میں contact پر لیکچر رہا ہوں۔

محترم مولانا صاحب! جب بھی میں اپنے حال اور مستقبل کے متعلق سوچتا ہوں تو ایک بے چینی کی لہر دوڑتی ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ میں اپنے pattern of life سے مطمئن نہیں ہوں۔ اللہ کے فضل سے میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ میں ایک اچھے مسلمان کی طرح زندگی گزاروں۔ وقت نماز، روزہ، زکوٰۃ ادا کرنا، سودی معاملات نہ کرنا وغیرہ۔ لیکن ان سب کے باوجود میرے دل اور ذہن میں ایک خلش رہتی ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ سب کافی نہیں۔ ایک تڑپ ہے جو کوئی outlet نہ ملنے کی وجہ سے کبھی کبھی مجھ کو بے بسی اور لاچارگی (اور شاید نا اُمیدی) کی انتہا تک پہنچادیتی ہے۔ میں شاید اپنے جذبات اور احساسات کی صحیح ترجمانی نہیں کر پاؤں گا۔ مختصرًا عرض کروں کہ میں ایک داعی بننا چاہتا ہوں۔ میں ہندوستان میں یا ہندوستان کے باہر غیرمسلموں میں اسلام کی تبلیغ کرنا میں اس کو اپنا کیریر (career) بنانا چاہتا ہوں۔

تقریباً 2001 کی بات ہے کہ میں ہندوستان کے ایک دعوتی ادارے میں گیا اور اُن سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ لیکن شاید میں اپنے آپ کو واضح نہ کر سکا اور بات آگے نہ بڑھ سکی۔ اس کے بعد میں نے وقفے وقفے سے South Africa کے دعوتی اداروں کو لکھا (میں صرف انھیں اخبار وغیرہ سے جانتا تھا) لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ میں نے CPS International کو لکھا، لیکن پھر وہی خاموشی رہی۔

اب میں آپ کو لکھ رہا ہوں اور میں محسوس کرتا ہوں کہ شاید یہ میری آخری کوشش ہوگی کیوں کہ اب میری حالت نا اُمیدی سے گزر کر frustration level تک آ رہی ہے۔ مولانا صاحب، میں خود کو ایک شکست خوردہ انسان محسوس کرتا ہوں۔

میں اللہ تعالیٰ سے دست بدعا ہوں کہ وہ آپ کا سینہ میرے لیے کھول دے اور آپ میرے متعلق اللہ کی مرضی سے وہ فیصلہ کر سکیں جو میری اس زندگی اور آنے والی زندگی کے لیے باعث رحمت (فاضل محمد وانی، سری نگر، کشمیر)

1 - دعوت ایک مشن ہے، دعوت کوئی کیریئر (career) نہیں۔ آپ اگر دونوں کے درمیان اس فرق کو سمجھ لیں تو آپ کا کنفیوژن اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ آدمی کے اندر اگر کیریئر کا مزاج ہو تو وہ کوئی خارجی نقشہ تلاش کرنے لگتا ہے جس کے اندر وہ اپنی جگہ پا سکے، لیکن صاحب مشن کو کسی خارجی نقشے کی ضرورت نہیں۔ اُس کی ذاتی تڑپ ہی اس کے لیے کافی ہو جاتی ہے کہ وہ جہاں ہے، وہیں وہ اپنا کام شروع کر دے۔

2 - اگر آپ دعوت الی اللہ کا کام کرنا چاہتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ یہ کام خود اپنے آپ سے شروع آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ آپ اپنا مطالعہ بڑھائیں ۔ اپنے آپ کو ذہنی اور فکری اعتبار سے حقیقی داعی بنانے کی کوشش کریں۔ اگر آپ نے یہ فکری تیاری کی ہوتی تو آپ ’’شکست خوردگی‘‘ کے احساس سے دوچار نہ ہوتے۔

3 - اس وقت ساری دنیا میں کہیں بھی صحیح معنوں میں دعوت کا کام نہیں ہو رہا ہے۔ دعوت کے ساتھ مدعو سے نفرت اور شکایت بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔ دعوت کا کام صرف الرسالہ مشن کے تحت ہو رہا ہے۔ اگر آپ واقعی دعوت کا کام کرنا چاہتے ہیں تو اپنے مقام پر تعمیری ذہن کے تحت رہیے اور ماہ نامہ الرسالہ کی ایجنسی لے لیجیے۔ ہمارے یہاں سے اردو، ہندی اور انگریزی میں بہت سی چھوٹی اور بڑی دعوتی کتابیں چھپی ہیں، اُن کو لے کر اپنے آس پاس کے لوگوں میں پھیلائیے۔

یاد رکھیے، دعوت کا کام ممکن سے شروع ہوتا ہے، نہ کہ ناممکن کی طرف چھلانگ لگانے سے۔ حال ہی میں ہمارے یہاں اپنی برادری میں ایک مسئلہ پیش آیا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک باپ کے دو بیٹے ہیں جن میں ایک بیٹا دو بچے چھوڑ کر طویل علالت کے بعد چل بسا اور دوسرا بیٹا اگر چہ ابھی جوان اور غیر شادی شدہ ہے اور اس سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے مرحوم بھائی کی بیوہ سے شادی کرلے تاکہ یتیم بچوں کو اپنے ہی گھر میں ایک باپ کا سایہ اور اچھی پرورش مل سکے مگر اس نے کسی کی نہ سنی اور صاف صاف بیوہ سے شادی کرنے سے انکار کر دیا اور اب اس کی کسی اور لڑکی سے منگنی بھی ہو چکی ہے، نیز ان میں جو بھائی چل بسا وہ کچھ عرصے سے الگ مکان میں رہ رہا تھا اور وہ بڑے پیمانے پر کاروبار بھی کر رہا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا مرحوم کے بچے یعنی پوتے اپنے دادا کے اسی طرح وارث قرار پائیں گے جس طرح ان کا مرحوم باپ وارث تھا یا وہ اپنے باپ کے فوت ہو جانے کی صورت میں اپنے دادا کی میراث سے محروم رہیں گے۔ اس سلسلے میں کچھ علماء سے بھی استفسار کیا گیا ہے اور انھوں نے کہا کہ شریعت اسلامی کی رو سے یتیم پوتے اپنے دادا کی میراث سے بحیثیت وارث کچھ نہیں لے سکیں گے۔ لیکن اگر ان کا دادا چاہے تو وہ اپنے طور سے کچھ حصہ لکھ کر دے سکتا ہے یا ان کے حق میں 3 / کی حد تک وصیت کر سکتا ہے۔

میں نے اس مسئلے کے بارے میں اپنے طور سے بھی کئی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے اور حاصل مطالعہ یہ ہے کہ اس مسئلے میں کہ یتیم پوتے اپنے دادا کی میراث کے وارث نہیں ہیں، کے بارے میں تقریباً تمام فقہاء اور ائمہ اربعہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ بلکہ بعض کتابوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس مسئلے کے بارے میں غلط فہمیاں اور شبہات منکرین حدیث نے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور جس سے وہ عام مسلمانوں کو ذخیرۂ حدیث سے بدظن کرتے ہوئے ان میں اپنے گمراہ کن خیالات پھیلانا چاہتے ہیں۔ (غلام نبی کشافی، سری نگر، کشمیر)

محبوب پوتے کے بارے میں یہ صحیح ہے کہ فقہاء کا اتفاق اُس بات پر ہے جو آپ نے تحریر مگر میرے علم کے مطابق، فقہاء کا یہ اتفاق قرآن اور حدیث کی کسی واضح نص پر مبنی نہیں ہے۔ اِس معاملے میں صرف ابو بکر صدیق کا ایک قول نقل کیا گیا ہے، اور وہ ہے: "الجَدُّ أَبٌ"۔ مگر یہ ایک مبہم قول ہے، اور وہ شرعی ثبوت کے لیے کافی نہیں۔

اِس لیے میری رائے ہے کہ یا تو دادا وراثت کی تقسیم کرکے پوتے کو اس کا پورا حق دے دے۔ بصورتِ دیگر، پوتے کو یہ حق ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کرکے اپنا قانونی حق وصول کرے۔

Printed page