Al-Risala · July 2007

ایک اور عبادت

Al-Risala, July 2007, pp. 7–8

By Maulana Wahiduddin Khan

نماز ایک عبادت ہے۔ وہ کچھ مخصوص اوقات کے ساتھ مقرر کی گئی ہے (النساء : 103) رات اور دن کے درمیان جب یہ مقرر وقت آتا ہے، اس وقت اہل ایمان اس کو ادا کرتے ہیں۔ طرح صبر بھی ایک عبادت ہے جس کا حکم قرآن میں نماز کے ساتھ دیا گیا ہے (البقرہ: 153) بلکہ صبر ایک ایسی عظیم عبادت ہے جس کا اجر اس پر عمل کرنے والے کو بلا حساب دیا جائے گا (الزمر: 10) صبر اور نماز دونوں اگرچہ عبادت ہیں مگر دونوں میں ایک فرق ہے۔ نماز کی عبادت کا وقت رات اور دن کے لمحات میں تبدیلی پر مبنی ہے، مگر صبر کی عبادت کا وقت انسانی حالات کے ساتھ تعلق رکھتا یہ دراصل انسان ہے جو ایسے حالات پیدا کرتا ہے جب کہ کسی شخص کے لیے صبر کی عبادت ادا کرنے کا موقع آجائے۔

جب ایک شخص آپ کو غصہ دلا دے، اس وقت آپ کے لیے یہ موقع پیدا ہوتا ہے کہ آپ مذکورہ شخص کے خلاف غصہ کو برداشت کر کے صبر کی عبادت انجام دیں۔ اگر مذکورہ شخص آپ کو غصہ نہ دلاتا تو آپ کے لیے صبر کرنے کا موقع ہی نہ آتا۔ کوئی شخص آپ کو ستائے تو اس وقت آپ کے اندر اس کے خلاف انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے۔ اس وقت اپنے اندر پیدا ہونے والی انتقام کی آگ کو بجھانا ایک عبادت ہے۔ مگر اس عبادت کو انجام دینے کا وقت بھی آپ کے لیے اس وقت آیا جب کہ کسی شخص نے آپ کے خلاف منفی کارروائی کر کے آپ کو انتقام کی نفسیات میں مبتلا کیا۔ اسی طرح جب کوئی شخص آپ سے آگے بڑھ جائے تو اس کا آگے بڑھنا آپ کے اندر حسد کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ اگر وہ آپ سے آگے نہ بڑھتا تو آپ کے اندر اس کے خلاف حسد کی کیفیت نہ پیدا ہوتی، گویا اس شخص نے آگے بڑھ کر آپ کو یہ موقع دیا کہ آپ اس کے حاسد نہ بنیں بلکہ آپ اس کے خیر خواہ بنیں۔ آپ اس کی تباہی کے بجائے اس کے لیے مزید ترقی کی دعا کریں۔ اور اس طرح حسد کے موقع کو اپنے لیے نیکی اور عبادت کا موقع بنالیں۔

اسی طرح آپ کچھ لوگوں کے ساتھ یک اچھے کام میں شریک ہوتے ہیں، بعد کو آپ کے اندر دوسروں کے خلاف شکایت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اگر دوسروں کے ساتھ آپ کی شرکت نہ ہوتی تو اس قسم کی شکایت کے مواقع بھی نہ آتے۔ مگر اس شکایت اور اختلاف نے آپ کے لیے یہ عظیم موقع فراہم کر دیا کہ آپ اپنے آپ کو شکایتی نفسیات سے بچائیں اور شکایت اور اختلاف سے اوپر اٹھ کر حق کی خاطر دوسروں کا ساتھ دیتے رہیں۔ پہلے اگر آپ کو اختلاف کے بغیر اتحاد کا ثواب ملتا تھا تو اب مزید اضافے کے ساتھ آپ کو اختلاف کے باوجود اتحاد کا ثواب ملے گا۔

اگر آپ کے پاس کسی کا مال بطور امانت ہے۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ امانت کا کاغذی ثبوت کسی وجہ سے موجود نہ رہا تو یہ حادثہ آپ کے لیے ایک عظیم موقع ہے۔ کیوں کہ آپ متعلق شخص کی امانت کو حسب وعدہ ادا کر کے زیادہ بڑے ثواب کے مستحق بن سکتے ہیں۔

وقت وقت پر پیش آنے والی عبادتوں کے سوا ایک اور عبادت ہے جو حالات کی نسبت سے پیش آتی ہے۔ جب یہ حالات پیش آئیں تو سمجھ لیجیے کہ ایک اور نماز کی ادائیگی کے لیے اذان‘ ہو گئی۔ ایسے موقع پر مومن کو چاہیے کہ وہ اسی شوق کے ساتھ اس مطلوب عبادت کو ادا کرے جس شوق کے ساتھ وہ موقوت عبادتوں کو ادا کرتا ہے۔

جس طرح آپ نماز کی اذان سن کر خوش ہوتے ہیں کہ نماز ادا کر کے ثواب حاصل کرنے کا اسی طرح آپ کو ان موقعوں پر بھی خوش ہونا چاہیے جب کہ ایک شخص نے اپنی کسی منفی روش سے آپ کے اندر غصہ اور حسد اور انتقام اور شکایت جیسے جذبات پیدا کر دیے ہوں اور اس طرح اس نے آپ کو یہ موقع دیا ہو کہ آپ اپنے اندر جوابی قسم کی منفی نفسیات پیدا نہ ہونے دیں اور ایک طرفہ طور پر مثبت روش اختیار کر کے اپنے آپ کو عظیم تر ثواب کا مستحق بنالیں۔

Printed page