Al-Risala · July 2007

یہ ’مُضاہاۃ‘ ہے

Al-Risala, July 2007, pp. 9–11

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر 9 میں اہل کتاب کے حوالے سے ارشاد ہوا ہے: اور یہود نے کہا کہ عُزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ اُن کے اپنے منھ کی باتیں ہیں۔ لوگوں کی بات کی نقل کر رہے ہیں جنھوں نے ان سے پہلے کفر کیا۔ اللہ اُن کو ہلاک کرے، وہ کدھر جا رہے ہیں (التوبہ: 30)

اس آیت میں مضاہاۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مضاہاۃ کے معنی مشابہت یا تقلید (imitation) یہ پچھلی اُمّتوں کا طریقہ رہا ہے کہ جب اُن کے اندر خدا کا عقیدہ طاقتور عقیدہ کی حیثیت سے باقی نہ رہا تو اُنھوں نے اپنے زمانے کے مروّجہ خیالات و نظریات پر اپنے دین کو ڈھالنا شروع کر دیا۔ اُنھوں نے خدا کے دین کو وقت کے غالب افکار کے رنگ میں رنگ دیا۔

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشین گوئی فرمائی کہ میری امت بعد کے زمانے میں وہی سب کرے گی جو یہود و نصاریٰ نے اس سے پہلے کیا۔ راقم الحروف کا احساس ہے کہ جس مضاہاۃ میں یہود و نصاریٰ مبتلا ہوئے تھے، مضاہاۃ کی اسی برائی میں موجودہ زمانے کے مسلمان بھی پوری طرح مبتلا ہو چکے ہیں۔

اسی کا ایک پہلو یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان اپنے مسائل و مصائب کا ذمہ دار دوسری قوموں کو قرار دیتے ہیں۔ ہر مسلم قلم اور ہر مسلم زبان یہ بتانے میں مصروف ہے کہ غیر مسلم قومیں اُن کی دشمن ہوگئی ہیں اور موجودہ مسلمان ہر جگہ اُن کی سازش اور ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔

قرآن کا مطالعہ کیجئے تو اس میں برعکس طور پر یہ بات ملتی ہے کہ ہر قوم کا زوال اُس کی اپنی داخلی کمزوری کی بنا پر ہوتا ہے۔ مثلاً فرمایا: إن الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بأنفسهم

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ غیر مسلم قوموں نے اُن کی حکومت چھین لی، اُن کے غلبہ کو ختم کر دیا۔ حالاں کہ قرآن واضح طور پر اس سوچ کی تردید کرتا ہے۔ قرآن کے مطابق، مسلمانوں کو ماضی میں جو سیاسی غلبہ ملا ہوا تھا وہ اللہ کی طرف سے دی ہوئی ایک نعمت تھی۔ یہ نعمت خدائی قانون کے تحت اُس وقت اُن سے چھن گئی جب کہ وہ داخلی زوال کا شکار ہو گئے ۔ یہ تاریخی قانون قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے:

” یہ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ اس انعام کو جو وہ کسی قوم پر کرتا ہے اُس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اس کو نہ بدل دیں جو ان کے نفسوں میں ہے۔ اور بے شک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے“ (الأنفال : 53)

فطرت کا یہ قانون قرآن میں ایک اور جگہ اس طرح بتایا گیا ہے: و ما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم (الشوریٰ : 30) یعنی جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمھارے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں کے سبب سے ہوتی ہے۔

مذکورہ قرآنی آیتوں کی روشنی میں اس معاملے میں جو اصول بنتا ہے وہ یہ اصول ہے کہ خود اپنے آپ کو الزام دو (blame thyself) مگر موجودہ مسلمانوں نے برعکس طور پر یہ اصول بنا لیا ہے کہ دوسروں کو الزام دو (blame others)۔

قرآن کا مذکورہ اُصول ظہورِ اسلام کے بعد ہزار سال تک جاری رہا۔ مسلم علماء ہمیشہ یہی کرتے رہے کہ مسلمانوں کے اوپر جب بھی کوئی قومی مصیبت پڑی تو اُس کا ذمہ دار اُنھوں نے ہمیشہ مسلمانوں کی اپنی داخلی کمزوری کو قرار دیا۔ مثال کے طورپر تیرھویں صدی میں تاتاریوں نے عباسی سلطنت پر حملہ کر کے سمرقند سے لے کر حلب تک مسلم آبادیوں کو تباہ کر دیا۔

یہ واقعہ مشہور مؤرخ ابن اثیر کے زمانے میں ہوا۔ ابن اثیر نے اپنی کتاب ’الكامل فی التاريخ‘ کی آخری جلد میں لکھا ہے کہ تاتاریوں کے حملہ کا سبب یہ تھا کہ خوارزم شاہ نے تاتاریوں کے کچھ تاجروں کو قتل کر دیا اور اُن کے اموال کو چھین لیا۔ اس کے نتیجے میں اُن کا سردار چنگیز خاں غضب ناک

ہو گیا اور اُس نے مسلم سلطنت پر حملہ کر دیا۔

اسی طرح اٹھارویں صدی کے وسط میں دہلی میں ایک قیامت خیز واقعہ پیش آیا۔ حکمران نادر شاہ نے 1739 میں ہندوستان پر حملہ کیا اور بڑھتا ہوا دہلی پہنچ گیا۔ یہاں اُس وقت مغلوں کی سلطنت قائم تھی ۔ نادر شاہ کی فوج جب دہلی میں داخل ہوئی تو اُس کے ایک فوجی کو علیحدہ پا کر کچھ مسلمانوں نے اُس کو قتل کر دیا۔

اس کے نتیجے میں نادر شاہ سخت غضب ناک ہو گیا اور اُس نے دہلی میں قتل عام کا حکم دے دیا۔ واقعہ کے ایک معاصر صوفی شاعر نے اس پر اپنا تبصرہ ان الفاظ میں کیا تھا کہ یہ خود ہماری بداعمالی تھی جس نے ظالم نادر کی صورت اختیار کر لی:

Printed page