شامت اعمال ما صورت نادر گرفت
Al-Risala, July 2007, pp. 11–12
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے آغاز سے لے کر اٹھارویں صدی تک مسلمانوں میں یہی ذہن جاری رہا۔ بعد ساری دنیا میں ایک نیا فکری انقلاب آیا۔ اس فکری انقلاب سے متاثر ہو کر مسلمانوں کے اہلِ قلم اور اہلِ زبان شعوری یا غیر شعوری طور پر بدل گئے ۔ وہ احتساب خویش کے بجائے احتساب غیر کی بولی
یہ دور نمایاں طور پر کارل مارکس سے شروع ہوا۔ کارل مارکس کے تجزیہ کے مطابق، ساری دنیا دو طبقوں میں بٹ گئی تھی۔ تھوڑے سے لوگ استحصالی (exploiter) بن گئے اور زیادہ بڑی تعداد اُن کے استحصال کا شکار ہونے لگی ۔ چنانچہ مارکس نے یہ نعرہ دیا کہ اے استحصال کا شکار ہونے والو، اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔
ماضی میں مذہب کے زیر اثر جو بھی تحریک اُٹھی وہ مبنی بر ذمہ داری (duty-based) تحریک مگر اس کے بعد جو تحریکیں اٹھیں وہ سب کی سب مبنی بر حقوق (right-based) تحریکیں اشتراکی تحریک ، جمہوری تحریک ، قومی آزادی کی تحریک، سیلف ڈٹرمنیشن کی تحریک، آزادی نسواں کی تحریک، ہیومن رائٹس کی تحریک، ٹریڈ یونین کی تحریک، غرض مارکس کے بعد دنیا میں
جتنی بھی تحریکیں اٹھیں وہ سب کی سب کسی نہ کسی اعتبار سے حقوق لینے کے نعرہ پر اٹھیں، نہ کہ اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کے عنوان پر۔
ان تحریکوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا کا تقریباً ہر سماج حقوق شناس(right-conscious) سماج بن فرض شناس (duty conscious) سماج کا تصور عملاً تقریباً معدوم ہو گیا۔ اب اگر کسی سماج میں کچھ حقوق شناسی پائی جاتی ہے تو وہ فطرت کے زور پر ہے، نہ کہ فکری تحریکوں میں سے کسی تحریک کے اثر کے تحت۔
سوچنے کا یہ ڈھانچہ جو بنا وہ ساری دنیا میں اس طرح پھیل گیا کہ مسلم اذہان بھی اسی انداز میں مسلم اہل قلم اور اہل زبان بھی وہی بولی بولنے لگے جو ساری دنیا میں عملاً معیاری بولی بن یعنی اپنی مصیبتوں کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دینا۔ اپنے مسائل کے لیے دوسروں کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان کھڑا کرنا۔ اسی مضاہاتی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ آج مسلمان ساری دنیا میں ایک قسم کے احتجاجی گروہ (protestant group) بن کر رہ گئے ہیں۔