www.alrisala.org
Al-Risala, July 2007, pp. 13–17
By Maulana Wahiduddin Khan
7 فروری 2004 کو ترکی کی باسفورس یونیورسٹی (استنبول) کے پروفیسر ڈاکٹر مارک لنڈلے (Mark Lindley) کی قیادت میں ترک طالبات کا ایک وفد اسلامی مرکز میں آیا۔ ان طالبات کے نام حسب ذیل ہیں:
ان لوگوں نے راقم الحروف سے اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں گفتگو کی۔ اور جدید سیاق میں اسلام کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں ان سے جو گفتگو ہوئی اس کو کسی قدر اضافے کے ساتھ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش 570ء کو مکہ میں ہوئی۔ 610ء میں آپ کو خدا کی طرف سے پہلی وحی آئی۔ اس طرح ساتویں صدی عیسوی کی ابتداء میں اسلام کا آغاز ہوا۔ نبوت ملنے کے بعد آپ 13 سال تک مکہ میں رہے۔ اس کے بعد 622ء میں آپ ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ چلے گئے۔ وہاں آپ دس سال رہے۔ 632ء میں آپ نے مدینہ میں وفات پائی۔
اس طرح آپ کے پیغمبرانہ مشن کی مدت 23 سال ہے۔ اس مدت میں قرآن وقفہ وقفہ سے آپ کے اوپر اترتا رہا، اسی کے ساتھ آپ نے اپنے قول و عمل سے اسلام کی نمائندگی کی۔ آپ کے قول اور عمل کے اسی محفوظ ریکارڈ کو حدیث اور سنت کہا جاتا ہے۔ اسلام کی پہلی جزیشی میں یہی قرآن اور حدیث اسلام کو سمجھنے کا واحد ذریعہ تھا۔ جو شخص بھی اسلام کو سمجھنا چاہتا اس کے لیے ایک ہی پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) تھا اور وہ وہی مقدس متن تھا جس کو قرآن اور حدیث کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد اسلام میں ایک اور چیز شامل ہوئی اور وہ اسلام کی تاریخ ہے۔
اسلام کو ماننے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ اس وقت کی آباد دنیا کے بیشتر حصوں میں پھیل گئے۔ ان مسلمانوں نے اپنی سرگرمیوں کے ذریعہ اسلام کی ایک تاریخ بنائی۔ انھوں نے بہت سی بڑی بڑی سلطنتیں قائم کیں ۔ مثلاً دولت بنواميہ، دولت عباسيہ، دولت فاطمیہ، اور پھر دولت مغلیہ، دولت عثمانیہ اور دولت اندلسیہ۔ ان کے علاوہ چھوٹی چھوٹی حکومتیں مختلف علاقوں میں اتنی زیادہ تعداد میں قائم ہوئیں جن کی گنتی سو سے بھی اوپر جاتی ہے۔ تاریخ بننے کا یہ زمانہ تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا۔
اسلام کے ساتھ تاریخ کے اس اضافے نے ایک نیا مسئلہ پیدا کیا۔ اب یہ ہوا کہ بعد کے زمانے میں جولوگ اسلام کا مطالعہ کرنا چاہتے تھے ان کے لیے پائنٹ آف ریفرنس عملاً بدل گیا۔ قریبی پائنٹ آف ریفرنس (immediate point of reference) تاریخ بن گیا نہ کہ قرآن قرآن اور حدیث اسلام کا بے آمیز ماخذ تھا۔ جب کہ تاریخ میں بعد کی مسلم نسلوں کی آمیزش شامل ہوگئی۔
اب جو شخص اسلام کو اس کی واقعی حیثیت میں سمجھنا چاہے اس کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ بعد کی بننے والی تاریخ سے گزر کر پہلے دور میں پہنچے اور اسلام کو براہ راست خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرے ۔
موجودہ مسلم تاریخ ، اسلام کو سمجھنے کا مستند ذریعہ نہیں بن سکتی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ تاریخ قدیم ذوق کے مطابق ، انتخابی (selective) انداز میں لکھی گئی ہے۔ قدیم زمانے میں تاریخ نگاری کا جو طریقہ رائج تھا وہ یہ تھا کہ سیاسی واقعات کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ سیاست یا سیاست سے متعلق واقعات ہی کے بیان کا نام تاریخ تھا۔ چنانچہ شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلم مورخین نے بھی اسلام کی تاریخ اس نہج پر مرتب کی۔
ابن خلدون (وفات: 1406) نے اس نہج کو بدلنے کی کوشش کی مگر اس وقت تک تاریخ نگاری کا کام اپنی تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔ تمام کتابیں اسی قدیم نہج پر لکھی جاچکی تھیں۔ اس لیے یہ نہج بدستور
اب اس غلطی کی واحد تلافی یہ ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کو تاریخ کے بجائے قرآن اور حدیث کی روشنی میں سمجھا جائے جو کہ اس کا زیادہ مستند اور مکمل مآخذ ہے جب کہ بعد کے مسلمانوں کی لکھی ہوئی تاریخ، اسلام کو سمجھنے کے سلسلے میں ایک جزئی مآخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال لیجیے۔ اسلام پر بعد کے دور میں کتا بیں لکھی گئی ہیں ان سب میں یہ انداز اختیار کیا گیا ہے کہ سب سے پہلے پیغمبر اسلام کے بارے میں لکھا جاتا ہے۔ اور اس کے بعد سلسلہ وار اگلے واقعات درج کیے جاتے ہیں۔ مگر تاریخ کی ہر کتاب میں ایک مشترک کمی موجود ہے۔ اور وہ ہے پیغمبر اسلام کی غیر سیاسی زندگی کا تذکرہ بہت کم ہونا اور آپ کی زندگی کے سیاسی حصہ کا تذکرہ بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ کیا جانا۔
مکہ کی 13 سالہ مدت میں پیغمبر اسلام کی زندگی میں بہت سے واقعات پیش آئے مگر یہ سب کے سب غیر سیاسی نوعیت کے واقعات تھے، چنانچہ ان کا ذکر بہت مختصر طور پر ان تاریخی کتابوں میں ملتا اس کے برعکس مدینہ میں آپ صرف دس سال تک رہے مگر ان دس سالوں کے واقعات بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ ان کتابوں میں ملتے ہیں۔ یہی فرق ہے جس کی بنا پر لوگوں کی نظر میں پیغمبر اسلام کی حیثیت پیغمبر شمشیر (Prophet of sword) کی بن گئی۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کی فکری تشکیل اسی تاریخ کے زیر اثر ہوئی۔ ہر ایک کے افکار میں اسی تاریخ کا نقشہ دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اقبال نے کہا:
ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھا To every vein of falsehood every Muslim was a knife. ایک بار میں ایک مسلم پروفیسر کے لکچر میںشریک تھا۔ یہ لکچر انڈیا کے ایک شہر میںہوا۔ بعد حاضرین میں سے ایک شخص نے پوچھا کہ انڈیا میں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ ایسی حالت میں ہمارے لیے اسلام کی رہنمائی کیا ہے۔ مسلم پروفیسر نے کچھ دیر سوچا اور اس کے بعد کہا کہ اس سوال کا جواب بہت مشکل ہے۔ اس لیے کہ اسلام میں پوزیشن آف اسٹرنتھ (Position of Strength) کا
ماڈل تو موجود ہے مگر اسلام میں پوزیشن آف ماڈیسٹی(Position (Position of modesty) کا ماڈل موجود نہیں۔ مذکورہ مسلم پروفیسر نے یہ بات اس لیے کہی کہ اسلام کے حوالے سے وہ صرف بعد کو بننے والی تاریخ کو دیکھ رہے تھے نہ کہ براہ راست قرآن اور سنت کو۔ اگر وہ تاریخ میں اٹکے بغیر پیغمبر کے زمانے کو دیکھتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ اسلام پورا کا پورا پوزیشن آف ماڈسٹی ہی کا ماڈل تھا۔ پیغمبر اسلام نہ صرف ابتدا کے 13 سال کی مدت میں کامل طور پر ماڈسٹی کا نمونہ بنے رہے بلکہ بعد کے زمانے میں جب جنگ اور فتح کے واقعات پیش آئے اس وقت بھی آپ کی روش ماڈسٹی کی روش تھی۔ مثال کے طور پر 8 ہجری میں جب مکہ فتح ہوا اور آپ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت آپ اپنے اونٹ کی پیٹھ پر اس طرح جھکے ہوئے تھے جیسے کہ آپ سجدے کی حالت میں ہوں۔
مسلمانوں میں بعد کے زمانے میں جو ذہن پیدا ہوا وہ توحید کا ایک غلط تصور تھا۔ عام طور پر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم موحد ہیں، ہمارا سر ایک خدا کے سوا کسی اور کے آگے جھکنے والا نہیں۔ اس جملے میں ایک مغالطہ چھپا ہوا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ توحید کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کا سر ایک خدا کے سوا کسی اور نہ جھکے مگر یہ بات عبادت کے پہلو سے ہے نہ کہ اخلاق کے پہلو عبادت کے پہلو سے مومن کا سر صرف ایک خدا کے سامنے جھکتا ہے مگر اخلاق کے پہلو سے اس کو ہر انسان کے مقابلہ میں تواضع (modesty) کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا کے سامنے جھکنا فخر یا اکڑ کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ وہ احساس عجز کی بنا پر ہوتا ہے اور عجز اور تواضع کی نفسیات جس آدمی کے اندر حقیقی طور پر پیدا ہو جائے وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ خدا کے سامنے جھکے اور انسان کے سامنے اکڑ دکھائے۔ اس کی نفسیات دونوں جگہ اس کو جھکا دے گی۔ دونوں ہی پہلوؤں سے ایک متواضع انسان بن جائے گا۔
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان کے سامنے کے سامنے جھکنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خدا کے سامنے جھکا ہوا جو شخص بظاہر خدا کے سامنے جھکنے کا مظاہرہ کرے مگر جب انسان سے معاملہ پیش آئے تو وہ فخر اور اکڑ کی روش اختیار کرے ایسے آدمی کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ خدا کے سامنے بھی نہیں جھکا۔
کے آگے جھکنے کے نام سے اس نے جو کچھ کیا وہ ایک مصنوعی مظاہرہ تھا نہ کہ کوئی حقیقی عمل۔ جو لوگ پیغمبر اسلام کی سیرت کو تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے ہیں ان کا تصور یہ بنتا ہے کہ پیغمبر اسلام گویا پیغمبر شمشیر (Prophet of sword) تھے، لیکن پیغمبر اسلام کی زندگی کو جاننے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔ پیغمبر اسلام کی سیرت کا صحیح اور مستند ریکارڈ وہ ہے جو قرآن اور حدیث سے معلوم ہوتا یہاں اس سلسلے میں کچھ مثالیں قرآن اور حدیث سے نقل کی جاتی ہیں۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کی اصل حیثیت کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين (الأنبياء: 107) یعنی خدا نے اپنے پیغمبر کو دنیا والوں کے لیے صرف رحمت بنا کر رحمت (mercy) کا لفظ ایک جامع لفظ ہے۔ اس میں اس نوعیت کی تمام صفات پائی جاتی مثلاً شفقت، نرمی، محبت، ٹالرنس، ہمدردی، وغیرہ۔
اس طرح قرآن میں پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : فذكر إنما أنت مذكر، لست عليهم بمسيطر (الغاشيه: 21-22) یعنی تم لوگوں کو یاد دہانی کراؤ۔ یاد دہانی کرنے والے ہو، تم لوگوں کے اوپر دارو غہ نہیں ہو: