You are only a warner, you are not an enforcer.
Al-Risala, July 2007, pp. 17–19
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام کی یہی تصویر حدیث سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ مثلاً پیغمبر اسلام نے اپنے بارے میں کہا: بعثت لأتمم مكارم الأخلاق یعنی میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ میں مکارم اخلاق کی
I was sent to establish a society based on higher moral values. واقعات کے اعتبار سے اسلام کی تاریخ تین دوروں میں تقسیم ہوتی ہے۔ دورِ اقتدار، دورِ زوال۔ دورِ نبوت وہ ہے جس کو اسلام کی پہلی جنریشن کہا جا سکتا ہے۔ کے مسلمان خدا کی دریافت کے تحت مسلمان بنے تھے۔ اس زمانے کے مسلمانوں میں جو اسپرٹ تھی اس کو ایک لفظ میں تقویٰ اسپرٹ کہا جا سکتا ہے۔ ان کے اندر وہ تمام صفات تھیں جو تقویٰ
کے ذریعہ پیدا ہوتی ہیں ۔ یعنی خدا پرستی، سنجیدگی، ذمہ داری کا احساس، حقیقت پسندانہ مزاج، مثبت طرزِ فکر، انصاف، انسانی مساوات، وغیرہ ۔
دوسرا دور وہ ہے جب کہ مسلمانوں کی سلطنت بن گئی اور زمین کے بڑے رقبہ میں ان کی سیاسی بالا دستی قائم ہو گئی۔ اس دور کے مسلمانوں میں وہ صفات پیدا ہوگئیں جو اقتدار کی بنا پر پیدا ہوتی ہیں ۔ مثلاً فخر، تکبر، عیش پسندی، غیر ذمہ داری، احساسِ برتری، وغیرہ ۔
مسلم تاریخ کا تیسرا دور مغربی قوموں کے اسی عروج سے شروع ہوتا ہے جس کو نو آبادیاتی نظام کہا جاتا ہے۔ اس دور میں مسلمانوں کی سیاسی برتری ختم ہو گئی۔ وہ ایک قسم کی زیر دستی کی حالت میں پہنچ ان حالات میں ان کے اندر وہ نفسیات پیدا ہوئی جس کو پیرانوئیا (Paranoia) کہا جاتا ہے ۔ یعنی ’پدرم سلطان بود‘ کی نفسیات۔ وہ اس احساس میں جینے لگے کہ کچھ لوگوں نے ان کی عظمت کو ان سے چھین لیا ہے۔
اس نفسیات کے نتیجے میں ان کے اندر وہ کمزوریاں پیدا ہوئیں جو زوال کا شکار ہونے والی قوموں کے اندر پیدا ہوتی ہیں یعنی ، احساس محرومی، شکایت، احتجاج، ہر ایک کو اپنا دشمن سمجھنا۔ واقعہ کو منفی رخ سے دیکھنا، ہر طرف سازش نظر آنا۔ انسانوں کا خیر خواہ نہ ہونا، نمائشی فخر، فرضی تمناؤں میں جینا، بہت جلد مشتعل ہو جانا، معمولی بات پر تشدد پر اتر آنا۔ اپنے سوا ہر ایک کو غلط سمجھنا، وغیرہ۔ کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اسلام کے قانون پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تا کہ اس کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں بطور مثال وہ کہتے ہیں کہ اسلام میں چار شادیوں کی اجازت آج کی دنیا میں صنفی مساوات (gender equality) کا تصور چھایا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں آج کا ذہن چار شادی کے اصول کو تسلیم نہیں کر سکتا۔
مگر یہ صرف ایک غلطی فہمی ہے۔ اسلام میں ایک نکاح کا اصول ہی اصل ہے، ایک سے زیادہ شادی کی اجازت استثنائی صورت حال کے لیے ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہ ایک کرائس مینج مینٹ (crisis management) کا طریقہ ہے نہ کہ کوئی عمومی قانون۔
اصل یہ ہے کہ بعض اوقات معاشرے میں عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ جنگ پیش آنے کی حالت میں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب عورتیں معاشرے میں سرپلس (surplus) ہو جائیں تو اس وقت ان کے لیے کیا اصول مقرر کیا جائے ۔ اس بارے میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ سرپلس ہونے کی صورت میں جو عورتیں غیر شادی شدہ حالت میں رہنا چاہیں ان کو اس کی اجازت ہے لیکن جو عورتیں نکاح کی خواہش مند ہوں وہ ایک سے زیادہ کی تعداد میں مردوں کے نکاح میں آجائیں اور اس طرح اپنی بقیہ زندگی شرافت کے ساتھ گزاریں۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ عورتوں اور مردوں کی تعداد میں فطرت ایک برابری (equilibrium) قائم رکھتی ہے۔ اگر کوئی ہنگامی صورت پیش نہ آئے تو معاشرے کے اندر عورتوں کی تعداد بھی تقریباً اتنی ہوتی ہے جتنی کہ مردوں کی تعداد۔ اس لیے عام حالت میں مردوں کے لیے ایک ہی شادی کا حکم ہے۔ عام حالت میں اگر کوئی مرد ایک سے زیادہ شادی کرتا ہے تو وہ ایک ایسا فعل کرتا ہے جو اس کے لیے حد سے تجاوز کرنے کے ہم معنی ہے۔ کیوں کہ ایسا کر کے وہ فطرت کے مساویانہ نظام میں خلل ڈالتا وہ دوسرے انسانوں کے حق میں تصرف کرتا ہے۔ وہ اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے دوسرے کی ضرورت میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس لیے اسلام میں ایک سے زیادہ شادی کی اجازت صرف ہنگامی حالت میں ہے نہ کہ عام حالت میں۔
لکھنؤ اور سہارن پور میں مولا نا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں: