مذاق اُڑانا
Al-Risala, July 2007, pp. 25–27
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر 45 میں اہل باطل کی ایک روش کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے: اُسے ہماری آیتوں میں سے کسی چیز علم ہوتا ہے تو وہ اُس کو مذاق بنا لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔
یہاں یہ سوال ہے کہ قرآن تو سرتا پا حق ہے۔ پھر کسی شخص کو قرآن میں ایسی کوئی (شئ) کیسے مل جاتی ہے جس کا وہ مذاق اُڑائے اور استہزا کرے۔ جواب یہ ہے کہ اس قسم کی چیز اللہ سے بے خوف انسان کے ذہن میں ہوتی ہے نہ کہ خود کتاب اللہ میں۔ جو لوگ غیر سنجیدہ ہوں اور جن کو یہ ڈر نہ ہو کہ اللہ کو ان کی ہر بات کا علم ہے اور وہ آخرت میں پکڑے جانے والے ہیں، وہ اپنی بے خوفی اور اپنی غیر سنجیدگی کی بنا پر ہر کتاب میں اس قسم کے شوشے تلاش کر لیتے ہیں، خواہ وہ قرآن جیسی سچی کتاب ہی کیوں نہ ہو۔ اس قسم کے بعض شوشے کی مثالیں تفسیر کی کتابوں میں آئی ہیں۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جہنم پر انیس فرشتے مقرر ہیں۔ (المدثر: 30) یہ آیت جب قرآن میں اُتری تو مکہ کے ایک پہلوان نے کہا کہ جہنم پر اگر صرف انیس فرشتے ہیں تو اُن کو زیر کرنے کے لیے میں اکیلا ہی کافی ہوں ۔ (إن كانوا تسعة عشر فأنا القاهم وحدى) تفسير القرطبي 16/159 مکہ کے مذکورہ پہلوان نے قرآن کی اس آیت میں سے صرف عدد 19 (تسعة عشر) لے لیا اور اس کو نظر انداز کر دیا کہ یہ 19 اُس کے جیسے انسان نہیں ہیں بلکہ وہ غیر معمولی طاقت رکھنے والے
مذکورہ پہلوان اگر پوری بات کو ذہن میں رکھتا تو وہ کانپ اٹھتا۔ وہ کہتا کہ خدا کا تو ایک ہی فرشتہ سارے انسانوں کو مغلوب کرنے کے لیے کافی ہے، پھر انیس فرشتوں کا مقابلہ کون کرسکتا ہے۔ اُس نے جب مذکورہ بات کو خود ساختہ معنوں میں لیا تو اس کو شوشہ بنانے کا موقع مل گیا۔ عیب جوئی اور الزام تراشی قرآن کی سورہ نمبر 41 میں ارشاد ہوا ہے: اور کفر کرنے والوں نے کہا کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اُس میں خلل ڈالو، تا کہ تم غالب رہو (حم السجده: 26)۔ اس آیت میں 'والغوا فيه' کا لفظ ہے۔ اُس کی تشریح حضرت عبداللہ بن عباس نے اس طرح کی ہے کہ: عیّبوہ (تفسیر ابن کثیر، تفسیر القرطبی) یہ اُن لوگوں کی روش کا ذکر ہے جو قرآن کے منکر تھے اور قرآن اور صاحب قرآن کو زیر کرنا اُنھوں نے محسوس کیا کہ وہ دلائل کے ذریعے قرآن کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ نے یہ طے کیا کہ قرآن اور صاحب قرآن کے خلاف وہ عیب جوئی اور الزام تراشی کی مہم چلائیں۔ جس منفی مقصد کو وہ دلیل کے زور پر حاصل نہیں کرسکتے اُس کو وہ سب وشتم کے زور پر حاصل کریں اور اسی طرح عوام کو قرآنی تحریک سے دور کردیں۔
کسی بات یا کسی شخص کے بارے میں اظہار رائے کے دو طریقے ہیں۔ ایک تنقید، دوسرا تنقید کا مطلب ہے حقائق کی بنیاد پر زیر بحث امر کا تجزیہ کرنا۔ اس کے برعکس تعییب یہ ہے کہ آدمی زیر بحث مسئلہ پر دلائل پیش نہ کرے۔ وہ صرف اس میں عیب نکالے وہ اس پر الزام لگا کر اس کو تنقید کا طریقہ سراسر جائز طریقہ ہے، مگر تعییب کا طریقہ سراسر نا جائز طریقہ۔ جو لوگ کسی کی مخالفت میں یہ کریں کہ وہ دلیل کے طریقہ کو چھوڑ کر عیب جوئی اور کردار کشی کا طریقہ اختیار کریں، وہ اپنے مفروضہ حریف کو بدنام کرنے کی مہم چلائیں، ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ قرآن کے مطابق، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے یہاں اہل کفر کی روش اختیار کرنے والے قرار پائیں۔ قرآن کی سورہ نمبر 48 میں اُن مشرکین مکہ کا ذکر ہے جنھوں نے حدیبیہ کے موقع پر
متعصبانہ ضد کا طریقہ اختیار کیا۔ اس سلسلے میں ارشاد ہوا ہے :
جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی، جاہلیت کی حمیت، پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر، اور ایمان لانے والوں پر، اور اللہ نے اُن کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اُس کے اہل تھے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ (الفتح : 26) نزاع کے وقت اگر آدمی ایسا کرے کہ اُس کے سامنے حق پیش کیا جائے مگر متعصبانہ ضد کی بنا پر وہ اس حق کا اعتراف نہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ’حمیتِ جاہلیہ‘ کی بیماری میں مبتلا ہے۔ معاملات کو حق اور ناحق کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھتا بلکہ وہ اُس کو اپنے اور غیر کی نظر سے دیکھتا ہے۔ کے ذہن پر تعصب کا رنگ چڑھا ہوا ہے۔