Al-Risala · July 2007

قتل پر انعام

Al-Risala, July 2007, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ جب مشرکین کی طرف سے آپ کی مخالفت بہت بڑھ گئی، حتیٰ کہ وہ تشدد پر اتر آئے۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدنیہ کی طرف ہجرت فرمائی۔

مکہ سے آپ رات کے وقت ہجرت کے لیے نکلے۔ صبح کے وقت جب مکہ کے مشرکین کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو انھوں نے چاہا کہ وہ آپ کے تعاقب میں اپنے آدمیوں کو دوڑائیں۔ اور آپ کو مدینہ جانے سے روک دیں۔ چنانچہ قریش نے اعلان کیا کہ اُس شخص کو سو اونٹ انعام دیا جائے گا جو محمد کو پکڑ کر لائے (جعلت قريش فيه مأۃ ناقة لمن رده عليهم) سیرۃ ابن ہشام ، جلد 2، صفحہ 102 اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی شخص سے اختلاف پیش آنے کے بعد یہ کرنا کہ اُس کے سر پر انعام مقرر کرنا اور لوگوں کو اکسانا کہ وہ اُس کو قتل کر دیں تو وہ اتنا انعام پائیں گے۔ یہ اہل کفر اور اہل شرک کا طریقہ ہے، وہ اہل ایمان کا طریقہ نہیں۔ رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ وہ انعام مقرر کرکے کسی کو قتل کرانے کی کوشش کریں۔ جو لوگ ایسا کریں وہ بلاشبہ اللہ کے نزدیک سخت مجرم ہیں۔

Printed page