Al-Risala · January 2007

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

Al-Risala, January 2007, pp. 32–34

By Maulana Wahiduddin Khan

ماہ نامہ جامِ نور (دہلی) کے شمارہ جولائی ۲۰۰۶ء میں آپ کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے : ’’اوامِ رکا کے ممالک دارالدعوۃ ہیں‘‘۔ اس نے اس مضمون میں آپ نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ مختلف ممالک کی فقہی حیثیت کیا ہے ۔ اس سلسلے میں آپ نے فقہا کی معروف اصطلاحوں، دار الاسلام، دار الحرب، دار الکفر، نیز دار الامان اور دار العہد کا ذکر کیا ہے۔ آپ نے لمبی بحث کے بعد یہ بتایا ہے کہ امریکا اور یورپ کے ممالک پر یہ فقہی اصطلاحات منطبق نہیں ہوتیں۔ اس کے بعد آپ نے ایک اور اصطلاح دار الدعوۃ“ کا ذکر کیا ے، اس میں بچت، ہوٹل ، پراپرٹیز، اور اس کے علاوہ اور بہت سی چیزیں مٹھی میں آ جاتی ہیں۔

ہے اور لکھا ہے کہ”امریکا اور یورپ کے ممالک کو دار الدعوہ کہا جائے تو بہتر ہوگا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ دوسری فقہی اصطلاحوں کے ضمن میں تو آپ نے متعلقہ فقہی کتابوں اور علماء کے حوالے دیے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ دوسری اصطلاحیں کہاں سے نقل کی ہیں، لیکن دار الدعوہ کی اصطلاح کے بارے میں آپ نے کوئی حوالہ نہیں دیا۔ براہ کرم مطلع فرمائیں کہ آپ نے دار الدعوہ کی اصطلاح کہاں سے اخذ کی ہے۔ صفحہ نمبر کی تعیین کے ساتھ کتاب کے مکمل حوالے سے آگاہ فرمائیں۔ نئی دہلی، ۱۱۷ جون ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین کافی انتظار کے بعد جب مضمون نگار کا کوئی جواب مجھے نہیں ملا تو میں نے دوبارہ انھیں یاد دہانی کا ایک خط وہ خط یہاں نقل کیا جاتا ہے:

برادر محترم مولانا منظر الاسلام ازہری! السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض یہ کہ میں نے اپنے خط مورخہ ۷ جون ۲۰۰۶ء میں، آپ کے مضمون میں مذکور اصطلاح ”دار الدعوہ“ کے متعلق، آپ سے دریافت کیا تھا کہ اس اصطلاح کا ماخذ کیا ہے، مگر ابھی تک آپ نے اس کا کوئی حوالہ مجھے ارسال نہیں فرمایا۔ براہ کرم مذکورہ اصطلاح کے اصل ماخذ کا متعین حوالہ روانہ فرما کر شکریے کا موقع دیں۔ نئی دہلی، ۱۷ جولائی ۲۰۰۶ جواب کا منتظر وحید الدین میرے ان دو خطوں کے بعد صاحبِ مضمون کا درج ذیل ایک خط مجھے بذریعہ ای میل موصول ہوا: مکرمی مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اٹھارہ جولائی اور پھر چودہ کا بھیجا ہوا آپ کا مراسلہ ملا، مصروفیت کے سبب میں فی الفور جواب نہیں لکھ آپ نے ”دار الدعوۃ“ سے متعلق ماخذ کے بارے میں لکھا ہے، اس سلسلہ میں آپ سے یہ کہنا ہے کہ بشمول مذاہب اربعہ کسی قدیم فقہی کتاب میں میری نگاہ سے یہ اصطلاح نہیں گزری، میں اس موضوع پر بار بار سوچا کرتا تھا، یہاں امریکا پہنچنے کے بعد کئی دانشوروں کے ساتھ علمی نشست ہوئی جہاں یہ مسئلہ بھی زیر بحث رہا، میں نے ان کے سامنے اپنی رائے پیش کی تو انھوں نے اس سے اتفاق کیا، اسی دوران مجھے ہندوستان کے ایک ادارہ کی جانب سے منعقد سیمینار میں اس موضوع پر لکھنے کے لیے کہا گیا، میں نے اپنی فکر کو عملی شکل دے کر یہ مقالہ ترتیب دے دیا، جو بعد میں ”جامِ نور“ میں بھی شائع ہوا۔

اس ضمن میں ایک خاص نکتہ میری نگاہ میں نبی اکرم ﷺ کی مکی زندگی کا ہے جہاں میری سمجھ کے مطابق نہ تو ”دارالحرب‘‘ کی اصطلاح فٹ ہو سکتی ہے نہ ہی ”دارالاسلام‘‘ اور ”دارالعہد‘‘ کی کیوں کہ یہ زمانہ آپ کی دعوت رسانی کا ہے، اس کے ساتھ ساتھ زمانہ کے بدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں فقہاء کی مشہور اصطلاح ”عرف‘‘ کا بھی سہارا لیا ہے۔ انھیں دو چیزوں کو اپنی فکر کی بنیاد بنا کر میں نے مقالہ تحریر کیا، اس کے علاوہ اور کوئی ماخذ میری نگاہ میں نہیں۔

۲۶ جولائی ۲۰۰۶ء منظر الاسلام، نارتھ کیرولینا، امریکا مضمون نگار کا یہ خط میرے سوال کا واضح جواب نہیں تھا، اس لیے میں نے دوبارہ انھیں درج ذیل خط لکھا: برادر محترم مولانا منظر الاسلام ازہری!

Printed page