Al-Risala · August 2007

One who can overcome in the argument.

Al-Risala, August 2007, pp. 51–4

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آتا ہے کہ دجّال کی پیشانی پر ک، ف، ر (کفر) لکھا ہوا ہوگا (صحیح مسلم، کتاب الفتن) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دجّال جس دور میں پیدا ہوگا ، وہ خدا سے کفر کا دور ہوگا ، یعنی الحاد کا دور۔ پچھلی تاریخ کا فتنہ خدا کا انکار نہیں تھا ، بلکہ خدا کو مان کر اُس کا شریک بنانا تھا۔ میں خدا کا وجود ایک اصول موضوعہ (axiom) کے طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا۔ لیکن موجودہ زمانے میں یہ مسلّمہ ٹوٹ گیا۔ آج الحاد کا زمانہ ہے ، یعنی انکار خدا کا زمانہ۔

قدیم زمانے میں داعی کو یہ ثابت کرنا پڑتا تھا کہ خدا کا کوئی شریک نہیں۔ موجودہ زمانے میں

داعی کو خدا کے وجود کو ثابت کرنا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو دجّال کے فتنے سے لڑنا کہا گیا ہے۔ وجود کو علمی طور پر ثابت کرنا ، یہی دجّال کو قتل کرنا ہے۔ حدیث میں جس چیز کو ”عظیم ترین شہادت“ کہا گیا ہے ، اُس سے مراد غالباً یہی ہے۔

حدیثوں کے مطالعے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ دجّال یا دجّالیت دراصل سائنسی دور کا فتنہ ہے۔ سائنسی دور میں پہلی بار یہ ہوگا کہ کچھ لوگ دلائل کے نام پر حق کا ابطال کریں گے۔ وہ یہ تاثر دیں گے کہ حق ، علمی ترقی کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا۔ پھر خدا کی توفیق سے ایک شخص اٹھے گا جو خود سائنسی دلائل کے ذریعے اس دجّالی فتنے کا خاتمہ کر دے گا۔ وہ دجّالی دلائل کو زیادہ برتر دلائل کے ساتھ بے بنیاد ثابت کر دے گا۔ یہ واقعہ، اپنی نوعیت کے اعتبار سے ، تاریخ بشری کا پہلا واقعہ ہوگا۔ وہ دعوتِ حق کی عظیم ترین مثال کے ہم معنی ہوگا۔ اِسی لیے اُس کی بابت صحیح مسلم میں یہ الفاظ آئے ہیں: ہذا أعظم الناس شهادةً عند ربّ العالمين۔ یہ عظیم دعوتی واقعہ قیامت سے پہلے پیش آئے گا۔ دجّالی فتنہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے کوئی نیا فتنہ نہیں، وہ شیطانی فتنے ہی کا نقطۂ انتہا شیطان ہمیشہ سے یہ کرتا رہا ہے کہ وہ ’تزئین‘ کے ذریعے لوگوں کو سچائی کے راستے سے ہٹاتا ہے۔ شیطان کا یہ کام ہمیشہ سے جاری ہے۔ اِسی شیطانی فتنے کے خلاف ذہن کو بیدار رکھنے کے لیے حج کے موقع پر رمی کی جاتی ہے۔ رمی دراصل شیطان کے خلاف علامتی سنگ باری (symbolic stoning) ہے۔ سائنسی دور میں یہ شیطانی تزئین ، علمی تزئین کے روپ میں ظاہر ہوگی۔ اِسی لیے اس کو دجّالیت کہا گیا ہے۔

قرآن کے مطابق ، شیطان کا کام تزئین (الحجر: 39) کرنا ہے۔ تزئین کے لیے ہمیشہ اُس کے موافق سامان درکار ہوتا ہے۔ پچھلے زمانوں میں یہ موافق سامان زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ زمانے میں یہ موافق سامان بہت بڑھ گیا ہے ، علمی اعتبار سے بھی اور عملی اعتبار سے بھی۔ دراصل وہ شیطانِ اکبر ہے جو جدید ذرائع سے ، زیادہ پرزور انداز میں باطل کی تزئین کرے گا۔ امتِ محمدی کا ایک شخص اٹھے گا جو خدا کی خصوصی مدد سے اس کی دجّالیت کا خاتمہ کر دے گا۔

دجالیت دراصل علمی سطح پر تزئین اکبر کا فتنہ ہے۔ حدیث کے مطابق ، اُس زمانے میں ایک "رجل مومن " اُٹھے گا جو دجال کو قتل کرے گا، مگر یہ قتل جسمانی معنوں میں نہ ہوگا بلکہ فکری معنوں میں ہوگا، یعنی دجالی فتنے کو ایکسپوز (expose) کرنا۔

دجالیت ایک علمی فتنہ ہوگا اور رجل مومن بھی اس کا خاتمہ علمی دلائل کے زور پر کرے گا۔ میں "عظیم شہادت" کا لفظ اسی معنی میں آیا ہے۔ اس میں "شہادت" سے مراد گواہی ہے نہ کہ جان کی دین حق کی یہی وہ عظیم ترین گواہی ہے جس کو حدیث میں "قتل دجال" کہا گیا ہے۔ دجال اکبر کا مقابلہ کرنے والے اسی رجل مومن کو حدیث میں مہدی کہا گیا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ایک حدیث میں مہدی اور مسیح دونوں کو ایک شخصیت بتایا گیا ہے (ولا المهديُّ إلَّا عيسى بنُ مريم، ابن ماجہ، کتاب الفتن) اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دجال، شیطانی کلچر کا نقطۂ انتہا ہے اور مہدی، ربانی کلچر کا نقطۂ انتہا۔ دجال، مٹیریل آئیڈیالوجی کا نمائندہ ہے اور مہدی، اسپرچول آئیڈیالوجی کا مٹیریل آئیڈیالوجی کا نشانہ دنیا میں جنت کی تعمیر ہے، اور اسپرچول آئیڈیالوجی کا نشانہ آخرت میں جنت کی تعمیر۔

ہندی ترجمۂ قرآن زیر نظر ترجمہ، ہندی زبان میں قرآن کا سلّیس اور آسان ترجمہ ہے۔ عوام الناس کا خیال رکھتے ہوئے ہندی کے مشکل الفاظ سے اجتناب کیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ عام فہم زبان میں ہونے کی بنا پر عوام اور خواص دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔

Printed page