ہدیہ: صرف -/20 روپے
Al-Risala, August 2007, pp. 5–7
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ لوگ ضروری علمی حق ادا کیے بغیر قرآن کی تفسیر کرتے ہیں۔ مگر حدیث میں اس کو سختی سے منع کیا گیا ہے (الترمذی، باب أن يفسّر القرآن بغیر علم) مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اُس میں دو قسم کی آیتیں ہیں۔ چناں چہ ارشاد ہوا ہے: منه آيات محكمات هنّ أم الكتاب وأخر متشابهات (آل عمران: 7) یعنی اُس میں بعض آیتیں محکم ہیں، وہ کتاب کی اصل ہیں۔ آیتیں متشابہ ہیں۔
اس آیت میں ’متشابہات‘ کا لفظ لے کر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں کچھ آیتیں مشتبہ آیتیں ہیں، اُن کا مفہوم واضح نہیں۔ مگر آیت کی یہ تفسیر درست نہیں۔ متشابہات کا مطلب متماثلات ہے، یعنی بزبانِ تمثیل۔ یہ دونوں الفاظ اُسلوب کو بتانے کے لیے ہیں، نہ کہ اصل معنی کو بتانے اصل یہ ہے کہ قرآن میں دو قسم کے مضامین ہیں۔ ایک، موجودہ معلوم دنیا کے بارے میں۔ دوسرے، غیب کی دنیا کے بارے میں۔ قرآن میں موجودہ معلوم دنیا کے بارے میں جو بیانات ہیں وہ براہِ راست زبان میں ہیں اور غیب کی دنیا کے بارے میں جو بیانات ہیں وہ تمثیل کی زبان میں ہیں۔ مثلاً إن الصلاة كانت على المؤمنين كتاباً موقوتاً (النساء: 103) ایک ایسی آیت ہے جو محکم زبان میں ہے۔ اس آیت میں ’موقوت‘ کے مفہوم کو ہم پوری طرح جان سکتے ہیں۔ کے برعکس يداه مبسوطتان (المائدہ: 64) ایک ایسی آیت ہے جو متشابہ زبان میں ہے۔ اللہ کا ہاتھ کیسا ہے، اٗس کو جاننا ہمارے لیے ممکن نہیں، اس لیے اُس کو تمثیل کی زبان میں بیان کیا گیا۔ آیت کا مفہوم ہم صرف اجمالی زبان میں سمجھ سکتے ہیں۔ کلی اور حتمی طور پر اُس کا مفہوم اس دنیا میں سمجھا نہیں
متشابہ آیتوں میں غیب کی باتوں کو تمثیل کی زبان (symbolic language) میں بیان کیا چوں کہ ان غیبی باتوں کو انسان موجودہ دنیا میں کلی طور پر سمجھ نہیں سکتا، اس لیے اُن کے معاملے
میں ایسا کیا گیا۔ اس قسم کی آیتوں کے بارے میں خوض اور تعمق درست نہیں۔ ایک عالم نے بجاطور پر کہا ہے کہ: أبهموا ما أبهمه الله (تم اُس چیز کو مبہم رکھو جس کو اللہ نے مبہم رکھا ہے)۔ جہاں تک محکم آیتوں کا تعلق ہے، اُن میں ہم یہ کر سکتے ہیں کہ اُن کی تفصیلات جاننے کے لیے مکمل تحقیق اور غور و فکر کریں کیوں کہ ایسی آیتیں انسان کے دائرۂ علم سے تعلق رکھتی ہیں۔ مگر جہاں تک متشابہات کا تعلق ہے، اُن کے بارے میں طالبِ قرآن کو اجمالی مفہوم پر اکتفا کرنا چاہیے۔ 2- اسی طرح قرآن میں ’أولوا الألباب‘ کا لفظ کئی مقامات پر آیا ہے۔ مثلاً فرمایا: إنما يتذكر أولواالألباب(الرعد: (الرعد: 19)۔ ان آیتوں کے بارے میں اگر کوئی شخص کہے کہ ’أولواالألباب‘ کا مطلب ہے اوپن مائنڈ (open mind) تو یہ درست نہ ہوگا۔ قرآن کی تفسیر کے بارے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے زبان کے اعتبار سے آیت کا لفظی مفہوم بتایا جائے۔ اُس کے بعد ضروری تشریح اور تجزیہ کر کے بیان کیا جائے کہ اُس کے نزدیک آیت کا مفہوم کیا ہے۔ ’أولواالألباب‘ کی آیت میں پہلے اُس کا صحیح ترجمہ بتانا ہوگا۔ اُس کے بعد اُس کے بارے میں اپنی تشریح دلائل کے ذریعہ بتائی جا سکتی ہے۔
عربی زبان میں ’لُب‘ کے معنی عقل (intellect) کے ہیں۔ تاہم لُب میں لغوی طور پر مزید لُب اصل میں ہر چیز کے خالص کو کہتے ہیں۔ عقل کے لیے جب یہ لفظ استعمال کیا جائے تو اُس سے مراد خالص عقل ہوگی، وہ عقل جو وہم اور تعصب کی آمیزش سے پاک ہو۔ اس لیے لُب پر عقل کا اطلاق ہوگا مگر عقل پر لُب کا اطلاق ضروری نہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی بے آمیز عقل کے ساتھ سوچے تو وہ قرآن کے بیان کی تصدیق پر مجبور ہوگا۔
’أولوا الألباب‘ کی تشریح کرتے ہوئے مفسر ابن کثیر نے لکھا ہے کہ: العقول التامة الزكية التي تدرك الأشياء بحقائقها (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 438) یعنی کامل اور پاکیزہ عقل جو چیزوں کا اُن کی حقیقت کے لحاظ سے ادراک کر لے۔
عقل ہر انسان کو ملتی ہے، لیکن لوگ اپنی عقل پر طرح طرح کے پردے ڈال لیتے ہیں۔
وہ چیزوں کو ویسا نہیں دیکھ پاتے جیسی کہ وہ ہیں۔ جو آدمی اپنی عقل کو اس کمزوری سے بچائے اُس کے لیے حق کو پہچاننا کچھ بھی مشکل نہیں۔
یہاں میں ایک اور بات کا اضافہ کروں گا۔ وہ یہ کہ علم کے حصول کے لیے تواضع (modesty) لازمی طور پر ضروری ہے۔ جس آدمی کے اندر تواضع کی صفت نہ ہو وہ کبھی علم اور معرفت کا تجربہ نہیں کر سکتا۔
ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر انانیت اور کبر کا مادہ ہے، کوئی بھی آدمی اس سے خالی نہیں۔ صرف یہ ہے کہ کسی آدمی کا كبر اُس کے لہجے اور انداز میں کھلے طور پر نمایاں ہو جاتا ہے اور کوئی شخص اپنے کبر کو اس طرح چھپائے رہتا ہے کہ عام حالات میں کوئی آدمی اُس کو پکڑ نہیں سکتا۔ کبر حصول علم میں کیوں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے آپ بہت کم باتوں کو جان سکتا ہے۔ زیادہ باتیں اُس کو دوسروں سے سیکھنی پڑتی ہیں۔ اب ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی آدمی کے سامنے دوسرے کی طرف سے کوئی علم کی بات آتی ہے تو وہ أخذته العزة بالإثم (البقره: 206) کا مصداق بن جاتا ہے۔ یعنی وہ اُس کو سا کھ (prestige) کا سوال بنا لیتا ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے دوسرے کی بات مان لی تو میں اُس کے مقابلے میں چھوٹا ہو جاؤں گا۔ اس نفسیات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اُس کے سامنے علم آتا ہے مگر وہ اُس کو قبول کرنے سے محروم رہ جاتا ہے۔