Al-Risala · January 2007

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

Al-Risala, January 2007, pp. 34–35

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کا خط مورخہ ۲۶ جولائی ۲۰۰۶ء ملا۔ مگر آپ نے اپنے خط میں میری اصل بات کا جواب نہیں دیا۔ یہ بات میں خود اپنے مطالعے کے تحت، پہلے سے جانتا ہوں کہ عباسی دور سے لے کر اب تک کے پورے مسلم لٹریچر میں دارالدعوۃ کی اصطلاح استعمال نہیں ہوئی ہے۔ میرا اصل سوال یہ تھا کہ آپ پر استثنائی طور پر دارالدعوۃ کی اصطلاح کیسے منکشف ہو گئی۔ اگر یہ آپ کی اپنی دریافت ہے تو میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کو یہ ذاتی دریافت جو چیز ہزار سال تک کسی عالم نے نہیں جانا تھا، اس کو آپ نے استثنائی طور پر کیسے جان لیا۔ اگر یہ آپ کی اپنی ذاتی دریافت ہے تو آپ سے میں نے یہ معلوم کرنا چاہا تھا کہ یہ ذاتی دریافت آپ کو استثنائی طور پر کیسے میں اسی خاص نکتے کی بابت آپ کا جواب معلوم کرنا چاہتا تھا۔

اس معاملے میں میرے اشکال کی بنیاد یہ ہے کہ میں اس کو اجتہاد مطلق کی نوعیت کا ایک واقعہ سمجھتا ہوں۔ جیسا کہ معلوم ہے، اب تک کی پوری مسلم تاریخ میں کسی نے دارالدعوۃ کی اصطلاح استعمال نہیں کی۔ پچھلے ہزار سالہ عمل کے نتیجے میں مسلم کمیونٹی تقلید کے اصول پر قائم ہو گئی ہے۔ متفقہ طور پر یہ مان لیا گیا ہے کہ اب اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ ایسی حالت میں کسی کا دارالدعوۃ کی اصطلاح استعمال کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ کا یہ واقعہ اُسی استثنائی شخص کی زندگی میں پیش آسکتا ہے جو لمبی مدت تک اُس علمی اور فکری پراسس سے گذرا ہو جو کسی کو اجتہادِ مطلق کے مقام پر پہنچاتا ہے۔ دارالدعوۃ جیسا مجتہدانہ قول اتفاقاً کسی کی زبان پر جاری نہیں ہوسکتا۔

ماضی کے معلوم فکری پس منظر اور معلوم مجتہدانہ سفر کا کلمنیشن ہے۔ وہ کسی شعر کا کوئی مصرعہ یا اچانک پیش آجانے والا کوئی واقعہ نہیں۔

آپ نے اپنے خط میں دارالدعوہ کے متعلق، اپنے فکری ماخذ کو بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ ”زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں، فقہاء کی مشہور اصطلاح ”عرف‘‘ کا بھی سہارا لیا ہے۔ “ آپ کی یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ کیوں کہ اصطلاح فقہ میں عرف کسی قوم کے معمولات عام کو کہا جاتا ہے (عادة جمہور قوم في قول أو عمل)۔ اس اعتبار سے عرف کے تصور کا کوئی تعلق، دارالدعوہ سے نظر نہیں آتا۔ براہِ کرم اس معاملے کی وضاحت فرمائیں۔

Printed page