Al-Risala · August 2007

Relevance of Sufism in the post 9/11 world.

Al-Risala, August 2007, pp. 15–17

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ دعوت نامہ ملنے کے بعد میں نے از سر نو صوفی ازم کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ اس سلسلے میں میں نے صوفیوں اور غیر صوفیوں کی بہت سی کتابوں سے استفادہ کیا، اُردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں اس مطالعے کے بعد، بہت سی حقیقتیں میرے سامنے آئیں۔

صوفی یا تصوف کی اصطلاحیں قرآن میں مذکور نہیں ہیں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، اس کے بجائے قرآن میں الربّانیۃ (آل عمران : 79) کا لفظ آیا ہے۔ قرآن میں الربّانیۃ تقریباً اُسی مفہوم کے لیے استعمال ہوا ہے جس کے لیے بعد کے زمانے میں تصوف کے الفاظ استعمال ہوئے۔ الربّانیۃ یا الربّانیون کا لفظی مطلب ہے، رب والا۔ یعنی وہ شخص جس کی سوچ اور جس کا عمل، سب کچھ رب کی طرف متوجہ ہو جائے ۔ جس کی زندگی مکمل طور پر رب کے رنگ میں ڈھل جائے ۔ بظاہر دنیا میں رہے مگر وہ نفسیاتی اعتبار سے دنیا سے قطع تعلق کر کے آخرت سے جُڑ جائے۔ لکھنؤ اور سہارن پور میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں :

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ابتدا میں جو آیتیں اتریں ان میں آپ کو مدثر اور مزمل کے لفظ سے خطاب کیا گیا ، یعنی اے چادر اوڑھنے والے۔ چادر اوڑھنا در اصل اس بات کی علامت ہے کہ آدمی خارجی دنیا سے قطع تعلق کر کے داخلی دنیا کی طرف متوجہ ہو گیا۔ دنیا سے کٹ کر روحانی دنیا سے جڑ گیا۔ وہ انسانوں کی طرف سے اپنا رخ موڑ کر خدا کی طرف دیکھنے نبوت کے بعد پیغمبر اسلام کے اندر یہی نفسیاتی حالت پیدا ہوئی۔ چناں چہ آپ کو مدثر اور مزمل کے لفظ سے خطاب کیا گیا۔

صوفی کلچر اس مخصوص نام (تصوف) سے عباسی خلافت کے زمانے میں شروع ہوا۔ صوفی مزاج کے لوگوں نے پیغمبر اسلام کی پیروی میں ”چادر اوڑھنا شروع کیا۔ یہ چادر عام طور پر صوف (اون) کی بنی ہوئی ہوتی تھی۔ اس لیے ایسے لوگوں کو صوفی کہا جانے لگا، یعنی اون کی چادر اوڑھنے پھر صوفی کے لفظ نے مزید ترقی کی اور اس فعل کو تصوف کہا جانے لگا۔ بعد کے زمانے میں اگر چہ تصوف کے حلقوں میں کچھ بدعتیں رائج ہو گئیں، مگر ابتدائی زمانے میں تصوف کا مطلب صرف یہی تھا۔ صوفی ازم اور روحانیت اور ربانیت سب تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں ۔ یہ سب بنیادی طور پر مراقبہ (meditation) پر مبنی ہیں۔ یعنی داخلی عبادت کرنا ، ذکر و فکر میں مشغول ہو کر حقیقتِ اعلیٰ کی طرف دھیان لگانا۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ عمل دنیا میں رہتے ہوئے انجام دیا جاتا ہے، نہ کہ دنیا سے باہر جنگلوں اور پہاڑوں میں جا کر۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی تصوف یا ربانی زندگی کا بہترین اظہار مندرجہ ذیل حدیث میں پایا جاتا ہے:

وعلى العاقل مالم يكن مغلوباً على عقله أن تكون له ساعات۔ فيها ربه، وساعة يحاسب فيها نفسه، وساعة يتفكر فيها في صنع الله تعالى، وساعة يخلو فيها لحاجته من المطعم والمشرب (صحيح ابن حبان عن أبي ذر، جامع العلوم والحكم لابن رجب الحنبلی البغدادی، صفحہ (98)

یعنی ہر صاحب عقل پر لازم ہے کہ اُس کے لیے کچھ گھڑیاں ہوں ۔ (1) وہ گھڑی جب کہ وہ

اپنے رب سے سرگوشی کرے۔ (2) وہ گھڑی جب کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔ (3) وہ گھڑی جب کہ وہ خدا کی کاری گری میں غور کرے۔ (4) اور وہ گھڑی جب کہ وہ اپنے کھانے پینے کی ضرورتوں میں مشغول ہو۔

اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی اپنے چوبیس گھنٹے کے وقت کو چھ چھ گھنٹے کے حساب سے چار حصوں میں تقسیم کرے اور ہر حصے کو مذکورہ چار کاموں میں سے ایک کام کے لیے وقف کردے۔ قسم کی ساعاتی تقسیم نہ فطری طور پر ممکن ہے اور نہ مذکورہ حدیث کا یہ منشا ہے۔ حدیث کا مدعا یہ ہے کہ آدمی کو اپنے رات اور دن کے اوقات اس طرح گزارنا چاہئیں کہ اُس پر مذکورہ قسم کے لمحات برابر آتے رہیں۔ وہ بار بار اس قسم کے تجربات سے گذرتا رہے۔ تجربات کے تنوع کو بتانے کے لیے ہے، نہ کہ اوقات کی حسابی تقسیم کو بتانے کے لیے۔ ایک انسان کو جب حقیقتِ اعلیٰ (خدا) کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اُس کے اندر ایک نفسیاتی انقلاب آجاتا ہے۔ اس نفسیاتی انقلاب کے تحت اُس کی روز و شب کی زندگی اُنھیں تجربات ربانی کے درمیان گزرنے لگتی ہے جن کا ذکر مذکورہ حدیث میں ملتا ہے۔ یہ حدیث دراصل اُس ربانی انسان کی زندگی کی تصویر ہے جس کو خدا کی دریافت ہو گئی ہو اور اس دریافت کے نتیجے میں اُس کی زندگی کا نقشہ بالکل بدل گیا ہو۔

ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی خدا کی یاد میں اس طرح ڈوب جاتا ہے کہ اُس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خدا سے باتیں کر رہا ہے۔ اسی طرح یہ دریافت اُس کے اندر احتسابِ خویش کا جذبہ جگادیتی ہے اور وہ اپنا بے لاگ جائزہ لینے لگتا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنا تزکیہ کر سکے۔ طرح خالق کی دریافت اُس کے اندر خالق کی تخلیقات میں غور وفکر کا مزاج پیدا کر دیتی ہے۔ تخلیقات میں خالق کا جلوہ دیکھنے لگتا ہے۔ یہ اُس کی روحانی یا ربانی مصروفیات ہیں۔ اسی کے ساتھ اُس کی ایک ضرورت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ایک جزئی حصّے میں اپنی معاشی حاجتوں کے لیے کچھ وقت نکالے۔

Printed page