Al-Risala · January 2007

نئی دہلی، ۲۹ جولائی ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین

Al-Risala, January 2007, pp. 35–38

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے اس خط کے بعد صاحبِ مضمون کا ایک طویل خط مجھے ملا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے:

مکرمی مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا مکتوب ۲ ؍اگست کو ملا، میں نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۴ جولائی میں اس امر کی وضاحت کر دی تھی کہ ”دارالدعوہ“ کے سلسلہ میں میرا اصل ماخذ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی اور فقہاء امت کی وضع کردہ اصطلاح ”ضرورت“ ہے مگر آپ کو میرے جواب سے تشفی نہیں ہوسکی اور آپ نے اسے اجتہاد مطلق کی نوعیت سمجھ کر مجھ جیسے باحثین کے لیے اس فکر تک رسائی تقریباً محال قرار دیا۔ بحمدہ تعالیٰ میں نے ہندوستان کے مدارس میں درسِ نظامیہ پر کامل عبور حاصل کرنے کے بعد جامعہ ازہر شریف میں بھی ساڑھے پانچ سال گزارا ہے، جہاں مجھے ایسے عظیم اساطین ملت سے استفادہ کا موقع ملا جو اپنی فقہی بصیرت، اجتہادی افکار اور دانشورانہ نظریات کے اعتبار سے موجودہ عالم اسلام کی ناک سمجھے جاتے ہیں اور آج کسی بھی زبان بالخصوص اردو میں علمی و فکری مضامین پر قلم اٹھانے والے اکثر مفکرین بھی میرے انہیں اساتذہ کے افکار کے مرہون منت ہیں، پھر قدرت نے کچھ اور ہی نظارہ دکھایا کہ عالمی منظر نامہ پر اسلام کے خلاف جن نظریات کی طرف میرے اساتذہ نے اشارہ کیا تھا اس کو عملی شکل میں ملاحظہ کرنے کے لیے امریکا کا سفر کرنا پڑا، جہاں ہر آن ٹریڈیشنل اور نیومسلم کے مابین ”تجدید فی الفقہ الاسلامی“ اور ”تجدید فی المصطلحات الفقهيه“ ہی کی بحث چھڑی رہتی ہے، اسی طرح کی ایک مجلس ”معايير التجديد فی الفقه الاسلامی“ کا راقم نائب صدر بھی ہے، ایسے ماحول میں رہنے والا انسان پہلے سے

موجود کسی لفظ کو حسنِ ترتیب کے ساتھ اگر پیش کرے تو مجھے نبیس معلوم کہ اس میں اشکال کیوں کر ہو سکتا ہے، کیا حالات اور زمانہ کے شکست و ریخت کی وجہ سے الفاظ و اصطلاحات میں تبدیلی نبیس آتی؟ جہاں سیکڑوں افکار و نظریات ہر آئے دن جنم لے رہے ہوں ایسے ماحول میں بسنے والا انسان خواہ کسی بھی عمر کا ہو اسلام میں موجود مفرد الفاظ کو ترکیب کا جامہ پہنا کر بیان کردے تو اس میں کون سا تعجب ہے؟ کیا اگر کسی نے ایسا کر دیا تو وہ مجتہد مطلق ہو جاتا ہے؟ کیا اجتہادِ مطلق کی یہی تعریف ہے کہ دو لفظوں کو ایک کر دیا جائے؟

میری یہ فکر بھی آپ کے اشکال کا باعث بن سکتی ہے کہ حادثہ سنامی کے وقت عالم اسلام کے تمام فقہاء، مجتہدین، دانشوران اور مفکرین نے بیک زبان کہا کہ یہ عذاب الہی ہے، جب کہ راقم کا موقف یہ تھا کہ اس طرح کے حادثات کو عذاب الہی سے جوڑنا دانشمندی نہیں، سورہ طور اور سورہ تکویر کی آیتوں کی تفسیر میں قدیم تمام مفسرین کی آراء سے اختلاف کرتے ہوئے ان آیتوں کو میں نے قرب قیامت کی ہولنا کیوں پر محمول کرنے کے بجائے حقیقت پر محمول کیا، جس کی یہاں پورے امریکا میں زبردست پذیرائی ہوئی، تو کیا اسے بھی اجتہاد مطلق کی نوعیت کا واقعہ سمجھ لیا جائے؟ الازہر میں تعلیم کے دوران اپنے ایک استاذ ڈاکٹر عبد المعطی بیومی جو فلسفہ کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ فقیہ اعظم سمجھے جاتے ہیں اور مصری پارلیمنٹ کے ممبر بھی ہیں، سے شہادت کے مسئلہ پر سیکڑوں عربی و عجمی طلبہ کی موجودگی میں مسلسل تین دن گفتگو کرتا رہا جہاں تمام فقہاء سے میرا نظریہ بالکل الگ تھا اور بعد میں جس کی میرے استاذ نے مجھے مبارک باد بھی دی تو کیا اسے بھی اجتہاد مطلق سمجھ لیا جائے؟ کی رائے میں اگراس طرح کے واقعات کا تعلق اجتہاد مطلق سے ہے تو الحمد للہ راقم مجتہد مطلق ہے۔ علم و تحقیق کے میدان میں میرا نہیں خیال کہ عمر سے بحث کی جاتی ہے، اگر عمر کا دخل مان لیا جائے تو سیکڑوں وہ علماء جو بارہ، اٹھارہ اور ہیں سال کی عمر میں ہی قوم مسلم کے امام بن چکے تھے، کے بارے میں آپ کیا امام غزالی کی المنقذ من الضلال“ آپ کے مطالعہ میں یقیناً آئی ہوگی، کیا انہوں نے اپنے فکری سفر کا آغاز بیس سال سے قبل کی عمر میں نہیں کیا تھا؟ اگر عمر ہی مقیاس ہے تو آج سیکڑوں مسلم فلاسفہ اور مستشرقین ہیں سال سے پہلے فکری سفر شروع کرنے والے غزالی کے ’’منہج شک“ پر کیوں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں؟ عجیب تضاد بیانی بھی ہے جب متفقہ طور پر یہ مان لیا گیا ہے کہ اب اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے“ تو پھر استثنائی طور پر بڑی عمر کے تجربہ کار لوگوں کو ان کی علمی کاوش کے نتیجہ میں کیوں مجتہد مطلق مانا جا رہا ہے؟

ویسے میں اس نظریے سے خود بھی اتفاق نہیں کرتا کہ اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ اب کوئی مجتہد مطلق پیدانہیں ہوگا، اس سلسلہ میں درجنوں علماء کے مواقف موجود ہیں، خاص طور پر علامہ سیوطی کا رسالہ ”الرد علی من اخلد الی الأرض وجهل ان الاجتهاد فی کل عصر فرض“ شاہد عدل ہے۔

میں نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۶ جولائی میں یہ لکھا تھا کہ یہاں مجھے”ضرورت“ لکھنا تھا جو”عرف“ لکھ گیا ہے، مگر آپ نے اس جانب کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ یہ چند الفاظ ذہن میں آئے تھے جو آپ کے جواب میں تحریر کردیا ہوں، اگر میری بات میں کہیں سختی آگئی ہو تو درگزر کیجئے گا۔

۶ اگست ۲۰۰۶ء منظر الاسلام از ہری مضمون نگار کے اس طویل خط کو پڑھنے کے بعد میں نے دوبارہ ان کو اپنا درج ذیل خط روانہ کیا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ برادر محترم مولانامنظر الاسلام ازہری!

آپ کا خط مورخہ ۶ اگست ۲۰۰۶ء ملا۔ اس کو تین بار پڑھنے کے بعد میں اپنا یہ خط تحریر کر رہا ہوں۔ عرض یہ ہے کہ آپ نے اپنے تفصیلی خط میں جو باتیں لکھی ہیں، وہ سب میرے سوال کی نسبت سے بالکل غیر متعلق ان باتوں سے میرے سوال پر کوئی روشنی نہیں پڑتی۔

میرا سوال سادہ طور پر صرف یہ ہے کہ دار الدعوہ کی اصطلاح، آپ کی خود اپنی ذاتی دریافت ہے، یا آپ نے اس کو کسی کتاب میں پڑھا ہے، یا اس کو کسی عالم سے سنا ہے۔ دونوں میں سے جو بات بھی ہو، اس کو آپ پوری صراحت کے ساتھ تحریر فرمائیں۔

ایسی حالت میں آپ کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ یا تو آپ واضح الفاظ میں یہ کہیں کہ دار الدعوہ کی اصطلاح مجھے کہیں اور سے نہیں ملی، بلکہ میں نے اس کو خود اپنے طور پر بطور ذاتی دریافت کے یا پھر متعین طور پر صفحہ نمبر کے ساتھ آپ یہ بتائیں کہ میں نے فلاں مصنف کی فلاں کتاب میں اس کو پڑھا، یا اس کو فلاں عالم یا فلاں مصنف سے سنا ہے اور پھر میں نے اس کو اختیار کر لیا۔ میں نے آپ سے صرف یہی بات دریافت کی تھی، اور اسی کا واضح جواب میں آپ سے معلوم کرنا چاہتا مجھے امید ہے کہ آپ میرے اصل سوال کو سمجھ کر متعین الفاظ میں اس کا جواب روانہ فرمائیں گے۔ نئی دہلی، ۱۰ اگست ۲۰۰۶ء

میرے اس خط کے جواب میں موصوف نے جو کچھ لکھا، اس کی نقل یہاں درج کی جاتی ہے: مکرمی مولا نا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط مورخہ ۱۲ اگست کو ملا، فرمائش کے مطابق ایک لفظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے کسی کتاب یا کسی عالم کی زبان سے سن کر اسے نہیں لکھا ہے، بلکہ یہ میری اپنی ایجاد ہے۔ ۱۲ اگست ۲۰۰۶ء مضمون نگار کی اس غیر واضح تحریر کو پڑھ کر میں نے دوبارہ ان کو اپنا درج ذیل خط ارسال کیا : برادر محترم مولا نا منظر الاسلام ازهری !

Printed page