Al-Risala · August 2007

مدعو نہ کہ دشمن

Al-Risala, August 2007, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں تقریباً تمام مسلمان ، غیر مسلم قوموں کو اپنا دشمن یا حریف سمجھتے ہیں۔ اُن کا ایک طبقہ ان قوموں کے خلاف مسلح جنگ چھیڑے ہوئے ہے۔ اور ان کا دوسرا طبقہ ان کے خلاف منفی جذبات میں مبتلا ہے۔ یہ بات سرتا سر اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ اس قسم کی تمام کارروائیاں نہ تو اسلامی جہاد ہیں اور نہ اسلامی غیرت۔ وہ اسلام کے نام پر صرف غیر اسلام کا ارتکاب ہیں ، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ قرآن کے مطابق، ہمارا دشمن صرف شیطان ہے جس کو قرآن میں طاغوت کہا گیا ہے۔ لڑائی صرف شیطان سے ہے، کسی اور سے نہیں۔ انسان کے اندر امتحان کے مقصد سے مختلف قسم کے جذبات رکھے گئے ہیں۔ مثلاً غصہ اور انتقام، وغیرہ۔ ان جذبات کو غلط رُخ دے کر شیطان ہم کو صحیح راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ مواقع ہیں جب کہ ہمیں شیطان سے لڑنا ہے۔ تزئین (الحجر : 39) سے بچنے ہی کا نام تزکیہ ہے اور جو لوگ اس اعتبار سے اپنا تزکیہ کریں، وہی وہ لوگ ہیں جن کو جنت میں داخلہ ملے گا (طٰہٰ : 76) شیطان کے خلاف انسان کی لڑائی صرف نفسیات کی سطح پر ہوتی ہے، تشدد اور ہتھیار کی سطح پر نہیں۔

جہاں تک انسان کا معاملہ ہے، قرآن کے مطابق، انسان ہمارا مدعو ہے۔ وہ ہمارا حریف یا دشمن انسان کے ساتھ ہمارا تعلق داعی اور مدعو کا ہے، دشمن یا مد مقابل کا نہیں۔ انسان کے مقابلے میں ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اُس کو پر امن طور پر خدا کا پیغام پہنچائیں۔ پیغام رسانی کا یہ کام صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جو نفرت اور عداوت کے جذبات سے مکمل طور پر خالی ہوں۔ نفرت اور دعوت دونوں ایک سینے کے اندر جمع نہیں ہو سکتے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان، انسان کے خلاف اپنی طاقت ضائع کر رہے ہیں۔ یہ سراسر خدا کی اسکیم کے خلاف ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس رجحان کو بدلیں اور اپنی ساری طاقت دعوت الی اللہ کے کام میں صرف کریں۔ یہی اُن کے نجات کا واحد

Printed page