جذبات پرستش
Al-Risala, August 2007, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان اپنے پیدائشی مزاج کے اعتبار سے ایک پرستش پسند مخلوق ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ کوئی اس کا معبود ہو جس کی وہ پرستش کرے۔ کوئی ہو جس کو وہ اپنی توجہات کا مرکز بنا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام قومیں ہیرو پرست ہوتی ہیں۔ وہ اپنے اکابر کو اپنے خدا پر ستارانہ جذبات کا مرکز بنا لیتی ہیں۔ ہیروؤں سے غیر معمولی لگاؤ در حقیقت اس جذبہ عبودیت کا غلط استعمال ہے جو اللہ نے ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر رکھ دیا ہے۔ جس طرح ہر آدمی کو پیاس لگتی ہے اور وہ پانی پینے پر مجبور ہوتا ہے۔ ہر آدمی خود اپنے اندرونی جذبے کے تحت مجبور ہے کہ وہ کسی کو معبود بنا کر اس کی پرستش کرے۔ شخص اس احساس سے خالی نہیں ہوسکتا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ جو لوگ اپنے جذبات پرستش کا مرکز ایک خدا کو بنائیں وہ سچے پرستار ہیں، وہ امتحان میں کامیاب ہو گئے۔ جو لوگ اپنے جذبات پرستش کا مرکز کسی غیر خدا کو بنالیں وہ جھوٹے پرستار ہیں، وہ امتحان میں نا کام ہو گئے۔ کچھ لوگ ہیں جو اپنی فطرت میں چھپے ہوئے جذبات پرستش کا مرکز بتوں کو یا مظاہر فطرت کو کچھ اور لوگ ہیں جو اپنے قومی ہیروؤں کو اپنا معبود بنا لیتے ہیں اور اپنے جذبات پرستش ان کے لیے خاص کر دیتے ہیں۔ یہ سب شرک ہے۔ اور شرک کو خدا کبھی قبول نہیں کرے گا۔ اسی طرح ایک اور طبقہ ہے جو اپنے اکابر سے وہ محبت کرنے لگتا ہے جو خدا سے ہونی اپنے اکابر کی باتوں کو وہ اہمیت دینے لگتا ہے جو خدا کی باتوں کو دینا چاہیے۔ جو اپنے اکابر پر کسی بھی قسم کی تنقید سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اکابر کی تقدیس و تعظیم ہی اس کا سرمایہ حیات ہوتی ہے۔ بھی بلاشبہ وہی چیز ہے جس کو غیر اللہ کو معبود بنانا کہا گیا ہے۔
حقیقی موحد وہ ہے جس کے جذبات کا مرکز آخری حد تک صرف خدا بن جائے۔ شخصیتوں میں اٹکا ہوا نہ ہو۔ ایسا آدمی اکابر کے خلاف تنقید سن کر کبھی نہیں بھڑکے گا۔