دعوہ ورک، کمیونٹی ورک
Al-Risala, August 2007, pp. 23–24
By Maulana Wahiduddin Khan
دو کام ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک ہے، کمیونٹی ورک، اور دوسرا ہے، دعوہ ورک۔ یہ صحیح ہے کہ دونوں ہی کام اہمیت رکھتے ہیں۔ مگر دونوں میں یہ بنیادی فرق ہے کہ کمیونٹی ورک کی اہمیت دنیا کی تعمیر کے اعتبار سے ہے، اور دعوہ ورک کی اہمیت آخرت کی تعمیر کے اعتبار سے۔ موجودہ زمانہ میں دعوہ ورک حقیقی معنوں میں تو کہیں موجود نہیں۔ البتہ کمیونٹی ورک ہر ملک کے مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانہ پر انجام دیا جا رہا ہے۔ امریکی اصطلاح میں، ایسے کسی شخص کو کمیونٹی ایکٹیوسٹ (community activist) کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ جن میدانوں میں کام کرتے ہیں وہ یہ ہیں— تعلیم، اقتصادیات، ملی مسائل، فرقہ وارانہ نزاعات، ریلیف ورک، سوشل ویلفیر، رفاہی کام، دوسری قوموں کی طرف سے مشکلات کا حل تلاش کرنا، وغیرہ۔
یہ کمیونٹی ورک ہے۔ اس قسم کا کام ہر قوم میں پایا جاتا ہے۔ ہندو، عیسائی، سکھ اور دوسری قوموں میں اس قسم کا کام بہت بڑے پیمانہ پر اور بہت منظم انداز میں کیا جا رہا ہے۔ جب بھی کوئی قوم قابلِ لحاظ تعداد میں موجود ہو تو اُس کے افراد میں فطری طور پر قومی حمیت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ اپنی قوم کو دنیوی معنوں میں مستحکم اور ترقی یافتہ بنائے، وہ اپنی قومی کلچرل شناخت کو برقرار رکھے۔ اس کے نتیجہ میں ہر قوم میں ایسے افراد پیدا ہوتے ہیں جو اپنی قوم کی خیر خواہی کے جذبہ کے تحت مذکورہ قسم کے کام انجام دیتے ہیں۔ اس قسم کے قومی کام کا داعیہ پیدا ہونے کی مزید وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس سے آدمی اپنی قوم کے اندر مقبول ہوتا ہے۔ اس کو لیڈری ملتی ہے۔ اُس کو ہر جگہ باعزت مقام پر بٹھایا جاتا ہے۔ میڈیا میں شان دار الفاظ میں اُس کا چرچا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو معاشرہ کے اندر وہ چیز ملتی ہے جس کواسٹیٹس (status) کہا جاتا ہے۔
مگر قرآن اور سنت کے مطالعہ سے میں نے یہ سمجھا ہے کہ اس قسم کا کمیونٹی ورک دنیا میں لوگوں کو خواہ کتنا ہی زیادہ اہم نظر آئے، آخرت کے اعتبار سے اُس کی کوئی قیمت نہیں۔ میرے فہم دین کے
مطابق، آخرت کے اعتبار سے صرف دو چیزوں کی اہمیت ہے— ایک، اللہ سے عجز کا تعلق، اور دوسرے، اللہ کے بندوں کو اللہ کا پیغام پہنچانا، جس کو میں نے دعوہ ورک کہا ہے۔ صحیح مسلم اور مسند احمد میں ایک روایت آئی ہے۔ اس کے مطابق، حضرت عائشہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، عبداللہ بن جُدعان جاہلیت کے زمانہ میں خوب صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو بہت کھانا کھلاتا تھا تو کیا اُس کا یہ عمل اُس کو آخرت میں نفع دے گا۔ آپ نے فرمایا کہ اے اُس نے کسی دن یہ نہ کہا کہ: ربّ اغفر لي خطيئتي يوم الدين (اے میرے رب، جزا کے دن میرے گناہ کو معاف کر دے) صحیح مسلم، کتاب الایمان، مسند احمد 6/93۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رب اغفر لي خطیئتی یوم الدین کے الفاظ میں کچھ ایسے فضائل چھپے ہوئے ہیں کہ اگر کوئی آدمی ان الفاظ کو اپنی زبان سے بول دے تو اُس کے بعد پر اسرار طور پر اُس کو نجات حاصل ہو جائے گی۔ یہ جملہ دراصل عجز کا کلمہ ہے، نہ کہ معروف معنوں میں فضیلت کا کلمہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدا کی بے پایا ں عظمت کو اس طرح دریافت کرے کہ اُس کے مقابلہ میں وہ سراپا عجز بن جائے۔ عاجزانہ احساس اُس کے دل کی گہرائیوں سے مذکورہ دعا کی صورت میں نکلنے لگے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی بندہ کی طرف سے جو چیز سب سے زیادہ محبوب ہے وہ عجز ہے، وہ عجز جو داخلی معرفت کا اظہار ہو، نہ کہ محض کچھ الفاظ کی تکرار۔ دعوہ ورک سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ اور شہادت علی الناس جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ حق کی پیغام رسانی کا وہی کام ہے جس کو پیغمبر نے اپنے معاصرین کے سامنے انجام یہ کام ہر قوم میں اور ہر نسل میں مطلوب ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اُس کو ہر زمانہ میں مسلسل طور پر جاری رکھا جائے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ پیغمبر نے اپنے زمانہ میں براہِ راست طور پر اس دعوتی کام کو انجام دیا تھا۔ اور امت مسلمہ کی بعد کی نسلیں بالواسطہ طور پر اُس کو ہر زمانہ میں انجام دیتی رہیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو ایمان باللہ آدمی کے اندر عجز کی کیفیت پیدا نہ کرے وہ ایمان ہی نہیں۔ طرح جو شخص دعوت الی اللہ کا کام انجام نہ دے اُس کے بارے میں یہ امر ہی مشتبہ ہے کہ وہ آخرت میں امت محمدی میں شمار ہو گا یا نہیں۔