Al-Risala · August 2007

چلینج کی اہمیت

Al-Risala, August 2007, pp. 32–33

By Maulana Wahiduddin Khan

جاپان کے لوگوں کی بنیادی غذا مچھلی ہے۔ وہ مچھلی کو بہت پسند کرتے ہیں۔ ایک عرصے تک مچھلی کا مسلسل شکار کرنے کی وجہ سے جاپانی ساحل کی مچھلیاں یا تو ختم ہوگئیں، یا ساحل سے دور سمندر میں چلی گئیں۔ جاپان کی فشنگ کمپنیوں نے یہ کیا کہ انھوں نے زیادہ طاقت ور انجن کی کشتیاں بنائیں اور دور پانی میں مچھلیوں کا شکار کرنے کے لیے انھیں سمندر میں بھیج دیا۔ یہ کشتیاں جاپانیوں کی محبوب مچھلیوں کا شکار تو کرتی تھیں، مگر جب ان کو مارکیٹ میں لایا گیا تو ان مچھلیوں کا ذائقہ (taste) جاپانیوں کو پسند نہ آیا۔ ایسی مچھلیاں جاپان کے مارکیٹ میں صرف کم قیمت پر فروخت ہوسکتی تھیں۔ اب فشنگ کمپنیوں نے یہ کیا کہ انھوں نے اپنی فشنگ بوٹ (fishing boat) میں بڑے بڑے فریزر رکھ دیے۔ اب یہ کیا جانے لگا کہ دور پانی میں جب مچھلیاں پکڑی جاتیں تو اُسی وقت ان کو فریزر میں رکھ دیا جاتا۔ اس طرح یہ مچھلیاں بظاہر تازہ حالت میں مارکیٹ میں پہنچائی گئیں، لیکن جاپانیوں کو اب بھی ان کا ذائقہ پسند نہ آیا۔ فریز ر میں جمی ہوئی مچھلی اپنے اصل فطری ذائقے سے محروم تھی۔ اب فشنگ کمپنیوں نے یہ کیا کہ انھوں نے اپنی فشنگ بوٹ میں پانی کے بڑے بڑے ٹینک رکھ اب یہ کیا جانے لگا کہ دور پانی میں مچھلیاں پکڑنے کے بعد ان کو فوراً پانی کے ٹینک میں ڈال دیا اس طرح یہ مچھلیاں بظاہر زندہ حالت میں مارکیٹ کے اندر آنے لگیں، لیکن جاپانیوں کو اب بھی ان کا ذائقہ پسند نہ آیا۔ یہ بظاہر زندگی مچھلیاں بھی جاپان کے مارکیٹ میں صرف کم قیمت پر فروخت ہوتی تھیں۔ مسٹر ران ہبرڈ (L. Ron Hubbard) نے اس معاملے کا مطالعہ کیا۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ مچھلیوں کا فطری ذائقہ صرف اُس وقت تک باقی رہتا ہے، جب کہ وہ سمندر میں ہر طرف دوڑ رہی فشنگ بوٹ کے ٹینک میں اگرچہ مچھلیوں کو زندہ رکھنے کے لیے پانی تھا، لیکن وہاں مچھلیوں کے لیے دوڑنے کا کوئی سبب موجود نہ تھا۔ یہ مچھلیاں واٹر ٹینک میں زندہ تو رہیں، لیکن وہ سست اور ڈل حالت اس بنا پر اُنھوں نے اپنا فطری ذائقہ کھو دیا۔

میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور رسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں:

اب فشنگ کمپنیوں نے اپنے واٹر ٹینک میں پانی کے ساتھ ایک چھوٹی شارک مچھلی بھی ڈال شارک مچھلی شکار کرنے والی مچھلی ہے۔ وہ ایک ایسی مچھلی ہے جو مچھلیوں کو اپنی غذا بناتی ہے۔ شکار کی ہوئی مچھلیوں کے ساتھ شارک مچھلی بھی پانی میں ڈالی دی گئی۔ اب یہ ہوا کہ شارک مچھلی دوسری مچھلیوں کو پکڑنے کی کوشش کرتی اور دوسری مچھلیاں پانی میں ہر طرف دوڑنے لگتیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب شکار کی ہوئی مچھلیاں مارکیٹ میں پہنچیں تو اُن کا فطری ذائقہ پوری طرح محفوظ تھا۔ یہ مچھلیاں پوری قیمت پر مارکیٹ میں بکنے لگیں۔

یہ فطرت کا نظام ہے۔ اس دنیا میں چھوٹی مچھلیوں کو دوڑانے کے لیے بڑی مچھلیاں ہیں۔ یہاں شیر ہیں جن کے خوف سے ہرن ہر وقت بھاگتے رہتے ہیں۔ حیوانات کی دنیا میں یہ دوڑ بھاگ بے حد اہم ہے۔ وہ حیوانات کی توانائی کو باقی رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہی معاملہ انسان کا خدا کے قائم کیے ہوئے فطری نظام کے تحت، انسانوں کے ساتھ بھی چیلنج اور مسابقت کے حالات پیش آتے ہیں۔ اس دنیا کا نظام یہ ہے کہ چیلنج نہیں تو ترقی بھی نہیں۔ ایسی حالت میں چیلنج کے خلاف احتجاج اور شکایت خدا کے خلاف احتجاج اور شکایت ہے۔ کیوں کہ چیلنج اور مسابقت کے حالات پیدا کرنے والا خدا ہے، نہ کہ کوئی انسان۔

الرسالہ کے قارئین سے گزارش ہے کہ اسلام کے پیغام کو بے آمیز اور قابل فہم صورت میں ہر خاص و عام تک پہنچانے کی غرض سے اپنے اپنے علاقوں میں دارالمطالعہ (study centre) اس مقصد کے لیے الرسالہ اور مولانا وحیدالدین خاں صاحب کی کتابیں (اردو اور انگریزی) نصف قیمت پر فراہم کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں خط و کتابت کا پتہ یہ ہے: 1 Nizamuddin West Market, New Delhi-110013 Tel. 24355454, 24355729, email: info@goodwordbooks.com

Printed page