السلام علیکم ورحمۃ اللہ
Al-Risala, January 2007, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کا خط مورخہ ۱۲ اگست ۲۰۰۶ ملا۔ آپ نے میرے استفسار کے جواب میں صرف یہ مختصر جملہ تحریر فرمایا ہے—“فرمائش کے مطابق ، ایک لفظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے کسی کتاب یا کسی عالم کی زبان سے سُن کر اسے نہیں لکھا ہے۔ بلکہ یہ میری اپنی ایجاد ہے“۔
میں عرض کروں گا کہ آپ کا مذکورہ جملہ ایک مبہم جملہ ہے۔ ایسا مبہم اور غیر واضح جملہ میرے متعین سوال کا آپ کا یہ جملہ صرف ایک ٹالنے والا جواب (evasive reply) ہے، وہ میرے سوال کا کوئی واضح اور متعین جواب نہیں۔ آپ کے اس جملے میں ”یہ“ کا لفظ ہے۔ اس سے واضح طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ یہاں لفظ ”یہ“ سے آپ کی کیا مراد ہے۔ اسی طرح آپ نے اپنے جملے میں ”ایجاد‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ایجاد کا لفظ بھی اس موقع پر ایک غیر متعلق اور مبہم لفظ ہے۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، میں نے آپ سے یہ پوچھا تھا کہ دار الدعوہ کی اصطلاح آپ نے خود وضع کی ہے، یا اس کو آپ نے کہیں اور سے اخذ کیا ہے۔ مگر آپ کا مذکورہ مبہم جملہ میرے متعین سوال کا واضح جواب نہیں۔
اس لیے گزارش ہے کہ آپ دوبارہ زحمت فرمائیں، اور بالکل واضح اور غیر مبہم الفاظ میں یہ بتائیں کہ— دار الدعوہ کی اصطلاح آپ نے خود وضع کی ہے، یا آپ نے اس کو کہیں اور سے لیا ہے۔ نئی دہلی ، ۱۵ اگست ۲۰۰۶ء میرے اس خط کے بعد موصوف کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ چنانچہ میرے درج ذیل خط پر ان سے خط و کتابت کا سلسلہ بند ہوگیا :
برادر محترم مولانا منظر الاسلام ازہری !
یہ خط میں آپ کے ساتھ اپنی سابقہ مراسلت کے ضمن میں لکھ رہا ہوں ۔ میں نے اپنے خط مؤرخہ ۱۵ اگست ۲۰۰۶ میں لکھا تھا کہ آپ کے جواب کے الفاظ مبہم ہیں ، آپ صریح الفاظ میں معاملے کی وضاحت مثلاً آپ یہ تحریر فرمائیں کہ ـــ دار الدعوۃ کی اصطلاح میں نے خود اپنے ذہن سے وضع کی ہے ، کسی اور کی تقریر یا تحریر سے اخذ کرکے میں نے دار الدعوۃ کی اصطلاح وضع نہیں کی ۔ امید ہے کہ آپ اس سلسلے میں جلد اپنا واضح جواب ارسال فرمائیں گے ۔
نئی دہلی ، ۳۰ اگست ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین مراسلت نمبر ۱۲ مولا نا علی میاں کے خطوط کا ایک مجموعہ معروف عالم دین اور مفسر قرآن مولانا عبدالکریم پاریکھ (ناگ پور) نے شائع کیا۔ اس مجموعے میں ایک خط مجھ سے متعلق تھا۔ اس خط کو پڑھ کر میں نے مولانا موصوف کی خدمت میں ایک خط روانہ کیا۔ اس سلسلے کی مراسلت یہاں درج کی جاتی ہے :
مکرمی و محترمی مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب !