Al-Risala · January 2007

نئی دہلی، ۳۰ نومبر ۲۰۰۵ء دعا گو وحید الدین

Al-Risala, January 2007, pp. 3–5

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے ان دو خطوں کے بعد موصوف کا ایک خط ملا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے:

محترمی و مکرمی جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب مدظلہ العالی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ جملہ متعلقین کے ساتھ بعافیت ہوں۔ آں جناب سے معذرت ہے کہ میری طرف سے جواب میں تاخیر کے سبب دوسرا خط لکھنے کی زحمت کرنی پڑی، والعفو عند کرام الناس مقبول۔ ماہ نامہ زندگی نو میں قارئین کی طرف سے جو سوالات اور استفسارات آتے ہیں ان میں سے کچھ، محترم مدیر زندگی میرے پاس بھیج دیتے ہیں۔ تقریباً چار سال قبل ’’اقامت دین‘‘ کے موضوع پر ایک صاحب کے سوالات کے جواب میں مذکورہ تحریر لکھی تھی۔ مگر مدیر محترم کے مشورے پر سوالات اور سائل کا نام حذف کر دیا گیا اور تحریر کا جوابی انداز بھی بدل دیا گیا اور ایک معروضی تحریر کے طور پر یہ اگست ۲۰۰۱ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ آں جناب کی خدمت میں یہ تحریر بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ اس موضوع پر الرسالہ میں آپ مستقل لکھتے رہتے

کچھ عرصہ قبل الرسالہ کا ایک خصوصی شمارہ ’’دین وشریعت‘‘ کے عنوان سے نکلا تھا۔ اس میں بھی یہی بحثیں اٹھائی گئی تھیں۔ پاکستان میں ماہ نامہ اشراق میں بھی وقتاً فوقتاً اس موضوع پر تحریریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ جناب سے گزارش ہے کہ میری تحریر میں استدلال کی کوئی غلطی ہو تو مطلع فرمائیں۔ ۱۴ دسمبر ۲۰۰۵ء دعاوں کا طالب محمد رضی الاسلام ندوی مصنف محترم کا یہ خط میرے سوال کا جواب نہ تھا بلکہ وہ وہی چیز تھی جس کو ٹالنے والا جواب (evasive reply) کہا جاتا ہے۔ یہ جواب علمی اعتبار سے غیر تشفی بخش تھا۔ اس لیے میں نے انھیں دوبارہ درج ذیل خط روانہ کیا: برادر محترم ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی!

آپ کا خط مورخہ ۱۴ دسمبر ۲۰۰۵ ملا۔ عرض یہ ہے کہ آپ کا یہ خط میرے استفسار کا جواب نہیں ہے۔ یہ ہے کہ آپ نے جو کچھ لکھا ہے وہ آپ کے بیان کے مطابق ’’بعض حضرات‘‘ کے نقطۂ نظر کے جواب میں ہے۔ چوں کہ مجھے ایسے بعض حضرات کا علم نہیں ہے، اس لیے میں بالصریح ان کا نام یا ان کی کتاب کا نام جاننا چاہا ہوں، تاکہ یہ متعین کیا جاسکے کہ جن مفروضہ بعض حضرات کے نقطۂ نظر کی تردید میں آپ نے یہ تحریر لکھی ہے وہ ان کے نقطۂ نظر کی واقعی تردید ہے، یا ایسا ہے کہ آپ نے بعض حضرات کے نقطۂ نظر کو بطور خود غلط صورت میں پیش کیا اگر یہ دوسری صورت ہو تو آپ کی تنقید خود آپ کی اپنی مفروضہ صورت پر ہوگی نہ کہ بعض حضرات کے واقعی نقطۂ نظر پر۔ میں دوبارہ آپ سے گزارش کروں گا کہ آپ مذکورہ بعض حضرات کا نام اور ان کی کتاب کا نام بصراحت تحریر فرمائیں تاکہ دونوں نقطۂ نظر کا تقابل کر کے معاملے کو سمجھا جاسکے۔ آپ نے اپنی کتاب اپنے دستخط سے میرے پاس روانہ فرمائی تھی، اس لیے یہ خط لکھنے کی ضرورت پیش آئی، ورنہ اس قسم کی خط و کتابت کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ نئی دہلی، ۱۹ دسمبر ۲۰۰۵ کافی انتظار کے بعد جب ان کا جواب موصول نہیں ہوا تو میں نے حسب ذیل خط ان کو روانہ کیا: برادر محترم ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی!

عرض یہ کہ آپ کی کتاب ’’اقامت دین اور نفاذ شریعت‘‘ کے سلسلے میں آپ کو میں نے کئی خطوط لکھے، مگر آپ کی طرف سے اس کا کوئی واضح جواب مجھے نہیں مل سکا۔ میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ آپ نے اپنی اس کتاب میں جن ’’بعض حضرات‘‘ کا حوالہ دیا ہے وہ کون لوگ ہیں۔ میں متعین طور پر ان کا نام یا ان کی کتاب کا نام جاننا

مگر آپ نے اس سلسلے میں واضح اور متعین جواب دینے سے اعراض فرمایا۔ آپ کی اس روش کے بعد میں یہ سمجھنے پر مجبور ہوں کہ آپ نے جن بعض حضرات کا تذکرہ اپنی کتاب میں فرمایا تھا وہ محض ایک فرضی حوالہ تھا۔ حضرت کا یا تو حقیقت میں کوئی وجود نہیں، یا آپ نے مفروضہ بعض حضرات کی طرف ایک ایسی بات منسوب کر دی ہے جو خود انھوں نے نہیں کہی تھی۔

میں عرض کروں گا کہ یہ طریقہ سراسر غیر علمی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسا غیر علمی طریقہ اختیار نہ کرے۔ اور اگر کسی وجہ سے اُس نے ایسا کیا تھا تو اب توجہ دلانے کے بعد کھلے طور پر وہ اپنی غلطی کا اس طرح کی روش آدمی کے اندر غیر علمی مزاج پیدا کرتی ہے، اور آپ یقیناً اس اصول عام سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتے۔

Printed page