السلام علیکم ورحمۃ اللہ
Al-Risala, January 2007, pp. 39–43
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کی صحت اور عافیت کے لیے دعا گو ہوں۔ عرض یہ کہ آپ کی شائع کردہ کتاب نظر سے گذری جس کا پورا نام یہ ہے ــــ "مرشد روحانی ، مصلح امت حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی صاحب عرف علی میاں صاحب کے خطوط ، حضرت مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب کے نام "۔
آپ کی اس کتاب کا مکتوب نمبر ۱۱۳ میرے لیے نا قابل فہم ہے۔ چوں کہ کاتب محترم کی وفات ہو چکی ہے ، اس لیے اس کی وضاحت کے لیے آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں ۔ آپ کے نام حضرت مولانا کے مذکورہ مکتوب کے الفاظ یہ ہیں : " اپنی خیریت کی اطلاع کے علاوہ میں یہ خط اس ضرورت سے بھی لکھ رہا ہوں کہ میرے پاس حیدر آباد سے ایک فہیم وسنجیدہ دوست کا خط آیا ہے کہ ندوہ ایجنسی کے نام سے ، سید جمیل الدین صاحب کی طرف سے جو اشتہار شائع ہوا ہے اس کا تعارف کرایا گیا ہے۔ اس میں میری کتابوں کے علاوہ جہاں بعض اور دوسرے حضرات کی تصنیفات کا تذکرہ ہے ، اُن میں مولوی وحید الدین خاں صاحب کی کتابوں کے دستیاب ہونے کا بھی اعلان ہے۔ میں سید جمیل الدین صاحب کو براہ راست نہیں لکھنا چاہتا ۔ آپ اشارہ کر دیں کہ اُن کے بہت سے خیالات سے اتفاق نہیں۔
ہماری اور اُن کی کتابوں کا جوڑ نہیں۔ اس لیے آئندہ وہ اس کا لحاظ رکھیں۔ آپ اپنے انداز میں مناسب طریقے سے لکھ دیجیے گا۔ مجھے مولوی وحید الدین خاں صاحب سے کوئی ذاتی خصومت نہیں۔ لیکن اُن کے خیالات میں سخت نا ہمواری اور بے اعتدالی ہے، اور سلف و مجاہدین اور شہدائے اسلام سے بد عقیدگی پیدا ہوتی ہے۔ حضرت مولانا علی میاں کے اس مکتوب کے بارے میں آپ سے دو باتیں قابلِ دریافت ہیں۔ ایک یہ کہ مکتوب کے مطابق، میرے خیالات میں سخت نا ہمواری اور بے اعتدالی ہے، مگر اس مکتوب میں، اور نہ اس مجموعۂ خطوط میں اور نہ صاحبِ مکتوب کی دوسری کسی تحریر میں ایسی کوئی وضاحت یا حوالہ موجود ہے، جس سے معلوم ہوتا ہو کہ وہ کیا چیز ہے جس کو اس مکتوب میں سخت نا ہمواری اور بے اعتدالی‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اپنی کتاب میں اس مکتوب کی اشاعت اور حضرت مولانا سے خصوصی قربت کی بنا پر آپ ضرور اس بات سے واقف ہوں گے۔ براہِ کرم مطلع فرمائیں کہ وہ کیا چیز ہے جس کو اس مکتوب میں سخت نا ہمواری اور بے اعتدالی قرار دیا گیا ہے۔
اس مطبوعہ مکتوب میں دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ راقم الحروف کی کتابوں سے اسلاف کے بارے میں بد عقیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں بھی اس مکتوب میں کوئی وضاحت یا حوالہ موجود نہیں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ میری کتابوں میں وہ کون سی بات ہے جو اسلاف کے بارے میں بد عقیدگی پیدا کرتی ہے۔ حضرت مولاناعلی میاں کا یہ بیان بلاشبہ ایک بے دلیل بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۵۹ء میں حضرت مولانا علی میاں کی ایک عربی کتاب چھپی۔ اس کا نام یہ تھا: ردّۃ ولا أبا بکر لھا۔ اس کتاب میں امت کے اندر ایک خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ امت کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ ذہنی ارتداد کا شکار ہو گیا ہے۔ میں نے اس مسئلے کی تحقیق کی تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کا کیس ، ذہنی ارتداد (intellectual apostasy) کا کیس نہیں ہے۔ یہ لوگ ذہنی عدم اطمینان (intellectual discontent) کا موجودہ زمانے میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا وہ ان کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کرتا۔ اس بنا پر وہ اسلام کی صداقت کے بارے میں ذہنی بے اطمینانی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔
اس دریافت کے بعد میں نے اس مسئلے کو اپنا موضوع بنا لیا۔ میں نے قدیم اور جدید دونوں علوم کا گہرا مطالعہ کر کے عصری اسلوب میں بہت سی اسلامی کتابیں لکھیں، اور ان کو مختلف زبانوں میں شائع کیا۔ یہ خدا کا فضل ہے کہ یہ کتابیں نہایت مفید ثابت ہوئیں۔ اور مختلف ملکوں میں لاکھوں لوگوں کو اس سے ایمان اور یقین کا سرمایہ ملا۔ اسی بنا پر
ایک عرب شیخ نے میری کتاب الاسلام یتحدی کا سکینڈ ٹائٹل یہ تجویز کیا تھا_ مدخل علمی إلى الإيمان_ حضرت مولانا علی میاں کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ انھوں نے جس خطرے کی نشاندہی کی تھی، میں نے اس کو گہرائی کے ساتھ سمجھا، اور وقت کے فکری مستوی کے مطابق ،طاقت ور علمی انداز میں اس کا سد باب کیا۔ حالت میں میری کتابوں کے متعلق، حضرت مولانا کا مذکورہ بیان میرے لیے سخت ناقابل فہم ہے۔ چوں کہ آپ نے حضرت مولانا کے اس خط کو اپنی کتاب میں شائع فرمایا ہے۔ اس لیے یقیناً آپ اس کی نوعیت کو پوری طرح سمجھتے ہوں گے_ میری گذارش ہے کہ آپ اپنے علم کے مطابق، متعین صورت میں مذکورہ دونوں باتوں کی وضاحت فرمائیں۔
نئی دہلی، ۲۵ اگست ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین میرے اس خط کے بعد مولانا موصوف کا درج ذیل خط مجھے ملا:
محترم المقام، عالم ربانی حقانی ،صاحب قلم مشہور شخصیت، حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب مدظلہ العالی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۲۵ اگست ۲۰۰۶ کا عنایت نامہ موصول ہوا، جزاك الله۔ میں پچھلے تین سالوں سے گلوکوما آپریشن ناکام ہونے کے سبب دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوں_ صاحب فراش بھی ہوں ۔ سارے کام کاج بند لیکن خطوط بڑی تعداد میں آتے رہتے ہیں_ جواب دینا مشکل پڑتا ہے۔ آپ کا خط اہم تھا، آپ کو دکھ پہنچا، اس لیے جواب کے لیے حاضر خدمت ہوں۔
میرے بزرگ، آپ نے جس خط کا حوالہ دیا ہے، وہ ۲ اگست ۱۹۷۷ کا ہے۔ اور حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کو انتقال فرمائے ۷۸ برس ہو گئے ہیں۔ اور اس مذکورہ خط کو ۲۰ سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔ کے شائع ہونے کا مجھے افسوس ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو دکھ پہنچا_ اللہ مجھے معاف فرمائے_ میرے بزرگ، مجھ سے زیادہ دین کا فہم علم اور گہرائی اللہ نے آپ کو دی ہے۔ یہ ۲۰ سال پہلے کی بات جمیل الدین صاحب سے میری ملاقات ہوئے ۱۰، ۱۵ سال ہو گئے ۔ ند وہ ایجنسی ہے بھی یا نہیں، مجھے لگتا ہے شاید ختم ہوگئی ہو۔ دراصل ندوہ ایجنسی مولانا کا خود کا ادارہ تھا اور ساتھ ہی جمیل الدین صاحب کے گھر پر ہی ادارہ میں ایک مدرسہ بھی چلتا تھا۔ مولانا اپنی کتابیں اس میں رکھتے تھے۔
آپ کا خط سننے کے بعد تقریباً ۲۵ نسخے مجموعۂ خطوط کے میرے پاس تھے۔ ان تمام نسخوں سے خط نمبر ۱۱۳ پھاڑ کر نکلوا دیا ہے۔ آئندہ ایڈیشن جب چھپے گا، جس کی امید تو کم ہے، کیوں کہ میں اب اس حال میں نہیں ہوں، لیکن اگر چھپنے کی نوبت آئی اور احباب کا تقاضا رہا تو اس خط کو دوبارہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مجھے امید ہے کہ میرے اس سہو کو میرے تعلق سے معاف فرمائیں گے۔ اب رہا مولانا کے تعلق سے، تو دیر یا سویر ہم کو بھی اللہ کے دربار میں پہنچنا ہے۔ وانما توفون أجوركم يوم القيامة (آخرت میں تمہارے اجور پورے پورے دیے جائیں گے) آپ کو بھی آپ کے کاموں کا اجر اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ دے گا۔ کے سامنے میری کیا ہستی ہے۔ لیکن آپ کو تکلیف پہنچی اس کے لیے معافی چاہتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ حسن ظن سے کام لیں گے۔ میری دھندلی یادداشت میں آپ کی اور حضرت مولانا کی برسہا برس پہلے مجھ سے کہیں زیادہ وابستگی رہی ہے، ایسا سنا ہے۔ ہاں جو جملے مولانا نے ہم آہنگی نہ ہونے کے استعمال کیے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے اس خط سے متعلق جمیل الدین صاحب کو کچھ بھی ہدایت نہیں دی تھی۔ میرا یہ مزاج بھی نہیں ہے۔
ایک بات کی طرف آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ جن جملوں سے آپ کو تکلیف پہنچی وہ صفحہ ۲۰۳ کے دوسری جانب صفحہ ۲۰۲ میں ہے۔ میری نظر سے نہ گذرا ہو ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ بہرحال بندہ بشر ہے۔ مولانا ہوں یا میں ہوں یا کوئی اور ہو، غلطی کا امکان ہے۔
آپ کے خط سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تعلیم یافتہ طبقہ کی ذہنی بے اطمینانی پر ان کی اصلاح کو آپ نے اپنا موضوع بنا کر محنت کی اور الحمد للہ اس کا نتیجہ ، بقول آپ کے'' اس سے لاکھوں لوگوں کو ایمان اور یقین کا سرمایہ ملا‘‘۔ اسی بنا پر آپ کی تحریریں عرب دنیا میں الحمد للہ مقبول عام و خاص ہوئیں، اس پر مجھے بڑی مسرت ہوئی ۔ نے آپ کی اس محنت کو قبول فرمایا۔
آپ کے یہ جملے'' مگر اس مکتوب میں ایسی کوئی وضاحت یا حوالہ موجود نہیں ہے جس سے معلوم ہوتا ہو کہ وہ کیا چیز ہے جس کو اس مکتوب میں ''سخت نا ہمواری اور بے اعتدالی‘‘ قرار دیا گیا ہے‘‘۔ (حضرت مولاناعلی میاں) کو اس کا حوالہ دینا ضروری تھا۔
ایک عرصہ پہلے میں نے الحمد للہ آپ کی کتابیں پڑھی ہیں اور خود اس ملک میں اور ملک کے باہر آپ کے
قلم سے بے شمار لوگوں کو دینِ حق کی واقفیت ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں مزید اضافہ فرمائے۔ آپ کی تشریف آوری ناگپور کبھی کبھار ہوتی رہتی ہے۔ بھائی عبد السلام اکبانی جو میرے بھانجے ہیں، آپ کے بہت مداح ہیں، کبھی آنا ہوا تو اس نابینا کو ملاقات کا شرف عنایت فرمائیں۔
آپ کے ترجمہ و تشریح قرآن (تذکیر القرآن) کا ایک نسخہ وی پی کے ذریعہ ارسال فرمائیں، عنایت مجھے امید ہے کہ اس خط کا آپ اچھا اثر لیں گے اور میرے لئے دعا کریں گے۔ ہم سب اللہ کی رضا کے لیے کام کرتے ہیں اس میں اجر کا زیادہ حصہ آپ ہی کا ہے۔ آپ کے لیے دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کی محنت کو شرف قبولیت بخشے۔
۱۸ ستمبر ۲۰۰۶ء مولا نا موصوف کے خط کو پڑھ کر میں نے ان کی خدمت میں اپنا درج ذیل خط روانہ کیا: محترمی و مکرمی مولانا عبد الکریم پاریکھ صاحب !