Al-Risala · September 2007

Too broke to save the world

Al-Risala, September 2007, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

گلوبل وارمنگ کے بارے میں آج کل روزانہ میڈیا میں خبریں آ رہی ہیں۔ دنیا بھر کے سائنس داں یہ بتا رہے ہیں کہ دنیا کی کلائمیٹ (climate) خطرناک طور پر بدل رہی ہے۔ تک، یعنی اب سے صرف آٹھ سال کے اندر زمین پر لائف سپورٹ سسٹم اتنا زیادہ بگڑ چکا ہوگا کہ یہاں زندگی کی بقا اور نشوونما ممکن نہیں رہے گی۔

یہ سادہ طور پر موسم میں تغیر کی بات نہیں ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ خدا نے انسان کو اور انسانی تہذیب کو رد کر دیا ہے۔ انسان نے موجودہ زمین پر مزید رہنے کا جواز کھو دیا ہے۔ اب وہ وقت بالکل قریب آگیا ہے جب کہ خدائی نقشے کے مطابق، پہلا دورِ حیات ختم ہو جائے اور دوسرا دورِ حیات شروع ہو، یعنی عالم آخرت کا دورِ حیات۔

خدا نے موجودہ دنیا کو انسان کے لیے تیاری کی دنیا (preparatory ground) کے طور پر یہاں وہ تمام چیزیں مہیا کی گئی تھیں جن کے ذریعے آدمی اپنے آپ کو جنت کے قابل بنائے۔ اس دنیا کی ہر چیز سامانِ تیاری تھی، نہ کہ سامانِ عیش۔ مگر انسان نے خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) سے سرتابی کی۔ اُس نے موجودہ دنیا کو اپنے لیے مقامِ عیش سمجھ لیا اور اُس نے زندگی کا یہ فارمولا بنایا: Eat, drink and be merry.

اس طرح انسان نے خدا کے تخلیقی نقشے کو بدل دیا۔ یہاں تک کہ اس موجودہ تہذیب پیدا کی جو آخری معنوں میں اسی فارمولے پر قائم ہے۔ خدا نے ہزاروں سال تک انتظار کیا کہ انسان اپنی روش پر نظر ثانی کرے ۔ وہ خدا کی دنیا میں اپنا ذاتی ایجنڈا چلانا بند کر دے۔ وہ اپنی اصلاح کر کے خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ وہ موجودہ دنیا کے مواقع کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے کہ وہ خدا کا وہ مطلوب بندہ بن جائے جس کو خدا اپنی ابدی جنت میں بسانے کے لیے منتخب کرے گا۔

مگر انسان اپنی روش پر نظر ثانی کرنے کے لیے تیار نہیں، یہاں تک کہ انسان کے اوپر خدا کی حجت تمام ہو گئی۔ اب انسان نے وہ جواز کھودیا جس کے تحت وہ زمین پر بسا ہوا تھا_ موجودہ گلوبل وارمنگ دراصل اسی حقیقت کا پیشگی انتباہ ہے۔

اس صورت حال میں ہر مذہب کے لوگوں کی یہ ذمے داری تھی کہ وہ دنیا کو آنے والے بھیانک خطرے سے آگاہ کریں۔ وہ لوگوں کو بتائیں کہ اب تیاری کا آخری موقع ختم ہونے والا ہے۔ کے بغیر ہوشیار ہو جاؤ اور خدا کے نقشے کے مطابق، زندگی گزارنا شروع کر دو۔ لیکن ہر مذہب کے لوگ، بشمول مسلمان، کسی ”آنے والے“ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ کوئی آنے والا اپر اسرار طور پر آئے گا اور معجزاتی طاقت کے ذریعے وہ سارے کام کو انجام دے دے گا۔ مگر یہ سخت بھول کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی پُر اسرار ہستی آنے والی نہیں۔ آنے والی ہے، وہ صرف قیامت ہے۔ اور قیامت جب آئے گی تو وہ کسی کے ساتھ بھی رعایت نہیں کرے گی۔ اُس کا معاملہ ہر ایک کے ساتھ یکساں ہوگا۔

Printed page