Al-Risala · September 2007

حقیقت پسندانہ مزاج

Al-Risala, September 2007, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

نئی دہلی میں انڈیا گیٹ کا علاقہ بہت خاص علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ شام کے وقت یہاں لوگ سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں۔ ایک بار میں نے دیکھا کہ ایک شخص وہاں آیا۔ اس کے ساتھ اس کی بیوی اور اس کا بچہ تھا۔ بچے نے اپنے باپ سے آئس کریم کی فرمائش کی۔ باپ نے فوراً اپنی جیب سے ایک نوٹ نکالا۔ اس نے آئس کریم کا ایک پیکٹ خریدا اور پھر تینوں کھڑے کھڑے آئس کریم کھانے میں نے اُس آدمی کے چہرے کو دیکھا تو اس کے چہرے پر فخر کی چمک تھی۔ گویا کہ خاموش انداز میں وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میری جیب میں پیسہ ہے اور میں اپنے پیسے سے آئس کریم خرید کر اپنے بچے کی فرمائش پوری کر سکتا ہوں۔ یہ پورا واقعہ اُس کے نزدیک ’’میں‘‘ کا کارنامہ تھا۔ اس کے لیے اُسے کسی اور کا احسان مند ہونے کی ضرورت نہیں۔

یہی تمام انسانوں کا حال ہے۔ تمام عورت اور مرد اسی احساس میں جی رہے ہیں۔ احساس نے لوگوں کے اندر سے تواضع (modesty) کا جذبہ چھین لیا ہے۔ ہر آدمی کا کیس کبر (arrogance) کا کیس بنا ہوا ہے۔ ہر عورت اور مرد کا صرف ایک مذہب ہے، اور وہ ایگو ازم اس ایگو کلچر نے ہر ایک کو خود پسند اور سرکش اور متکبر بنا دیا ہے۔ لوگوں کا یہ مزاج صرف اُس وقت تک چھپا رہتا ہے، جب تک ان کی انا کو چھیڑا نہ جائے۔ انا کو چھیڑتے ہی ہر آدمی بتا دیتا ہے کہ وہ کبر کا کیس تھا۔ اگر چہ وہ بظاہر متواضع (modest) بنا ہوا تھا۔ یہ مزاج سرتا سر غیر حقیقت پسندانہ مزاج ہے۔ اگر آدمی حقیقت واقعہ پر غور کرے تو وہ کبھی بھی متکبر نہ بنے۔ کیوں کہ اس دنیا میں کسی کے لیے متکبر بننا مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے۔ چناں چہ کوئی سائنٹسٹ کبھی متکبر نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اُس کا میدانِ مطالعہ علومِ قطعیہ (exact sciences) ہوتے اس بنا پر اس کے اندر اپنے آپ حقیقت پسندی کا مزاج آ جاتا ہے۔ ہر سائنٹسٹ، شعوری یا غیر شعوری طور پر جانتا ہے کہ اس کو کامل طور پر حقیقتِ واقعہ کی پابندی کرنا ہے۔ اگر وہ حقیقت واقعہ سے ذرا

بھی ہٹے تو وہ مطلوب نتیجے تک پہنچنے سے محروم رہ جائے گا۔ گویا کہ ایگزیکٹ سائنس ، اس کے اندر اگزی کٹ تھنکنگ کا مزاج بناتی ہے۔ اور اگزی کٹ تھنکنگ ہی کا دوسرا نام حقیقت پسندی ہے۔ اب انڈیا گیٹ کے مذکورہ واقعہ کو لیجیے۔ آدمی کے اندر فخر کا جذبہ کیوں آیا۔ صرف اس لیے کہ اس کے اندر سائنسی مزاج، بالفاظ دیگر، حقیقت پسندانہ مزاج موجود نہ تھا۔ اگر اس کے اندر صحیح مزاج موجود ہوتا تو آئس کریم کا پیکٹ اس کے تواضع میں اضافہ کرتا نہ کہ فخر اور گھمنڈ میں، جیسا کہ عملاً پیش آیا۔ آئس کریم کیا ہے۔ آئس کریم ایک عظیم تحفہ ہے۔ آئس کریم کو وجود میں لانے میں ایک طرف نیچر کا طویل کائناتی عمل شامل ہے، اور دوسری طرف انسان کی تہذیبی جدوجہد کا لمبا سفر اس کو وجود میں لانے میں سرگرم رہا ہے۔ اس طرح ناقابلِ یقین حد تک ایک پُر از واقعات تاریخ کے نتیجے میں وہ وقت آیا کہ ایک شخص کو خوب صورت کیس میں پیک کی ہوئی آئس کریم حاصل ہو سکے۔ ایک سائنسی نظریے کے مطابق، تقریباً دس بلین سال پہلے وسیع کائنات گیسوں سے بھری ہوئی اس کے بعد لمبے عمل کے نتیجے میں ہائیڈروجن اور آکسیجن مخصوص تناسب میں ایک دوسرے کے اس کے نتیجے میں پانی وجود میں آیا۔ اس کے بعد لمبی مدت تک زمین پر پانی برستا رہا۔ کے نتیجے میں زمین پر پانی کے ذخیرے اکٹھا ہو گئے ۔ اس کے بعد حیوانات وجود میں آئے۔ انسان اس زمیں پر آباد ہوا۔

اس طرح لمبی مدت کے عمل کے نتیجے میں دودھ دینے والے جانور پیدا ہوئے ۔ تہذیب کا عمل شروع ہوا۔ انسانی تہذیب ہزاروں سال تک ایک ارتقائی سفر طے کرتی رہی۔ حیوانات سے دودھ حاصل کیا۔ پھر اس دودھ کے مختلف مرکبات بنائے ۔ پھر جدید صنعت ظهور میں اس کے بعد یہ ممکن ہوا کہ دودھ کو آئس کریم کی شکل میں ڈھالا جاسکے ۔ اور اس کو خوب صورت پیکٹ میں پیک کر کے بازار میں لایا جائے۔

عالم فطرت اور انسانی تہذیب دونوں کے اس لمبے مشترک عمل پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ آج جب ایک آدمی چند روپے دے کر بازار سے آئس کریم کا پیکٹ حاصل کرتا ہے تو اس پورے عمل (process)

کے مقابلے میں آدمی کا اپنا حصہ ایک فی بلین سے بھی بہت زیادہ کم ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی کے ہاتھ میں جب آئس کریم کا پیکٹ آئے تو وہ سرتاپا تواضع میں ڈھل دوطرفہ احسان مندی کے جذبے سے اُس کی گردن جھک جائے۔ فخر اور گھمنڈ کا کوئی ذرہ بھی اس کے دل میں باقی نہ رہے۔

یہ صرف آئس کریم کا معاملہ نہیں۔ اس دنیا میں ہر چیز کا معاملہ یہی ہے۔ کوئی بھی چھوٹی یا بڑی چیز جس کو آدمی استعمال کرتا ہے، وہ اسی طرح انسان کے لیے ایک عالمی عطیہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ فطری سپورٹ (natural support) اور دوسری طرف تہذیبی سپورٹ(civilizational support)، ان دونوں قسم کے عظیم سپورٹ کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی مرد یا عورت اس زمین پر آباد ہو اور اپنے لیے ایک کامیاب زندگی حاصل کر سکے۔

اس واقعے کا ادراک انسان کے لیے بے حد اہم ہے۔ اسی ادراک کے نتیجے میں انسان کے اندر وہ اعلیٰ صفت پیدا ہوتی ہے جس کو تواضع کہا جاتا ہے۔ یہی تواضع انسان کی اصل پہچان ہے۔ آدمی کے اندر تواضع نہیں ، وہ گویا کہ انسان بھی نہیں۔

لکھنؤ میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں:

Printed page