Al-Risala · September 2007

Flaw in creationists' argument

Al-Risala, September 2007, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

مضمون نگار لکھتے ہیں کہ سائنس داں دھیرے دھیرے ایک ناگوار سچائی (inconvenient truth) تک پہنچ رہے ہیں، وہ یہ کہ کائنات ایک نہایت محکم کائنات ہے۔ سائنس داں چالیس سال سے کائنات میں کام کرنے والے قوانینِ طبیعی کی تحقیق کر رہے ہیں۔ یہ تحقیق، کائنات کے پیچھے ایک شعوری وجود (concious being) کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ کائنات کے قوانین میں سے کسی ایک کو بھی اگر بدلا جائے تو اس کا نتیجہ نہایت مہلک ہوگا۔ کائنات اتنی زیادہ منظم ہے کہ اس کے موجودہ ڈھانچے میں معمولی تبدیلی بھی اس کو درہم برہم کرنے کے لیے کافی ہے۔ مثال کے طور پر ساری کائنات ایٹم سے بنی ہے۔ اور ہر ایٹم نیوٹران اور پروٹان کا مجموعہ ہے۔ نیوٹران کسی قدر وزنی ہوتا ہے اور پروٹان کسی قدر ہلکا۔ یہ تناسب بے حد اہم ہے۔ کیوں کہ اگر اس کا الٹا ہو، یعنی پروٹان بھاری ہو اور نیوٹران ہلکا، تو معلوم قوانین کے مطابق، ایٹم کا وجود ہی نہ رہے۔ نیوکلیس نہ ہوگا تو ایٹم بھی نہ ہوگا، اور جب ایٹم نہ ہوگا تو کیمسٹری بھی نہیں ہوگی۔ اور جب کیمسٹری ہوگی تو زندگی بھی نہیں ہوگی۔

اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ سائنس ناقابلِ حل سوالات سے دوچار ہے۔

کے موجودہ قوانین کہاں سے آئے، وہ اپنی موجودہ محکم حالت میں کیوں قائم ہیں، وغیرہ۔ روایتی طور پر سائنس داں یہ فرض کر رہے تھے کہ یہ قوانین، کائناتی کا لازمی حصہ ہیں۔ قوانینِ طبیعی کی حقیقت کی کھوج کرنا، سائنس کا موضوع نہیں سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب یہ سوالات سائنس دانوں کو پریشان کر رہے ہیں۔ کیمبرج کے سائنس داں مارٹن ریس (Martin Rees) جو کہ رائل سوسائٹی کے صدر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ طبیعیات کے قوانین، مطلق اور آفاقی نہیں ہیں، وہ ایک بڑے کائنات نظام کے متفرق حصے ہر حصے کے اپنے ضوابط ہیں۔ وہ اس نظام کو متعدد کائنات نظام (the multiverse system) ان تحقیقات کے مطابق، ہماری کائنات ایک ایسی کائنات ہے جو موافق حیات قوانین (bio-friendly laws) کی حامل ہے۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ کائنات کو ہم اس طرح پاتے ہیں کہ وہ ہماری ضرورتوں کے عین مطابق ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہاں انسان کا قیام ناممکن ہو جاتا۔ یہ محکم قوانین جو کائنات کو نہایت منظم طور پر کنٹرول کر رہے ہیں، وہ کہاں سے آئے۔

تمام مشکلات کا سبب، جدید مفکرین کے نزدیک ، یہ ہے کہ مذہب اور جدید سائنس، دونوں کائنات کا جو تصور دے رہے ہیں، وہ کائنات کے علاوہ ایک ایسی ایجنسی کا تقاضا کرتے ہیں جو کائنات کے باہر سے کائنات کا نظم کر رہی ہو۔ تاہم کائنات کی توجیہہ کے لیے ایک ایسے ڈیزائنر کو ماننا جو کائنات سے پہلے موجود ہو، وہ اس مسئلے کی کوئی توجیہہ نہیں۔ کیوں کہ یہ توجیہہ فوراً یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ ڈیزائنر نے اگر کائنات کو بنایا تو خود ڈیزائنر کو کس نے بنایا:

Printed page