Al-Risala · September 2007

عقلی موقف

Al-Risala, September 2007, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کے وجود کے معاملے میں اصل غور طلب بات یہ ہے کہ خالص عقلی نقطہ نظر سے ہم کیا موقف اختیار کر سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ اس کے سوا کوئی اور طریقہ اس معاملے میں سرے سے قابل عمل

یہ ایک مسلّم بات ہے کہ کائنات میں انتہائی معیاری حد تک نظم پایا جاتا ہے۔ نظم کا یہ معاملہ ہر آدمی کا ذاتی مشاہدہ ہے۔ مذکورہ مضمون نگار نے ایٹم کی ساخت کو لے کر اسی معاملے کی ایک سائنسی مثال دی ہے۔ اس لیے جہاں تک کائنات میں نظم کا سوال ہے، یہ ہر فریق کے نزدیک ، ایک مسلّم

عقلی موقف کے اعتبار سے دوسری اہم بات یہ ہے کہ نظم کا تصور ناظم کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جہاں نظم ہے، وہاں یقیناً اس کا ایک ناظم موجود ہے۔ ناظم کے بغیر نظم کا تصور عقلی اعتبار سے محال ہے۔ نظم کی موجودگی ایک مجبورانہ منطق (compulsive logic) پیدا کرتی ہے، یعنی کسی بھی عذر کے بغیر ناظم کی موجودگی کا اقرار کرنا۔ کسی کے ذہن میں ناظم کی موجودگی کی توجیہہ نہ ہونا ، اُس کو یہ منطقی جواز نہیں دیتا کہ وہ ناظم کی موجودگی کا انکار کر دے۔

ایٹم کے ڈھانچے کی مثال لے کر مضمون نگار نے جو بات کہی ہے، وہی اس دنیا کی ہر چیز کے بارے میں درست ہے۔ اس دنیا کا ہر جز، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ، وہ اس قدر محکم اور متناسب ہے کہ اس

کے ڈھانچے میں کوئی بھی تغیر سارے نظام عالم کو درہم برہم کرنے کے لیے کافی ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے سیارہ زمین میں جو کشش (gravity) ہے، وہ آخری حد تک ہماری ضرورتوں کے مطابق ہے۔ اگر زمین کی کشش نصف کے بقدر زیادہ ہو جائے، یا نصف کے بقدر کم ہو جائے تو دونوں حالتوں میں سیارہ زمین پر انسانی تہذیب کا بقا ناممکن ہو جائے گا۔ معلوم ہے، خلا میں ہمارے دو قریبی پڑوسی ہیں سورج اور چاند۔ اگر ایسا ہو کہ سورج وہاں ہو جہاں آج چاند ہے، اور چاند وہاں ہو جہاں آج سورج ہے، تو زمین پر انسانی زندگی تو درکنار خود زمین جل کر ختم ہو جائے گی۔

ہماری زمین پر تمام چیزیں اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہیں۔ لیکن درخت کا معاملہ استثنائی طور پر یہ ہے کہ اس کی جڑیں تو زمین میں نیچے کی طرف جاتی ہیں اور اس کا تنا اوپر کی طرف جاتا ہے۔ اگر ایسا ہو کہ درخت میں یہ دو طرفہ خصوصیت نہ ہو تو اس کے بعد زمین کی سطح پر ہرے بھرے درختوں کا خاتمہ ہو جائے گا، وغیرہ۔

Printed page