Al-Risala · September 2007

ذہین کائنات

Al-Risala, September 2007, pp. 29–31

By Maulana Wahiduddin Khan

کائنات میں ان گنت چیزیں ہیں، اور ہر چیز مرکّب (compound) کی صورت میں ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایٹم، کائنات کا ایک ایسا واحدہ ہے جو مفرد (single) ہے اور غیر مرکب حالت مگر آئن سٹائن کے زمانے میں جب ایٹم ٹوٹ گیا تو معلوم ہوا کہ ایٹم بھی مرکب ہے، وہ کوئی مفرد چیز نہیں۔

دورِ جدید میں ہر چیز کا سائنسی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ چیزیں جن اشیا سے ترکیب پا کر بنتی ہیں، ان کی ترکیب کے لیے ہمیشہ بہت سے آپشن (options) موجود ہوتے ہیں، مگر سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ نیچر ہمیشہ یہ کرتی ہے کہ بہت سے آپشن میں سے اُسی آپشن کو لیتی ہے جو کائنات کی مجموعی اسکیم کے عین مطابق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز بالکل پرفیکٹ نظر آتی ہے، اس دنیا کی ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔

یہ اصول جو کائنات میں رائج ہے، اُس کو ایک لفظ میں ذہین انتخاب (intelligent selection) کہہ سکتے ہیں۔ کائنات میں بلین، ٹری لین سے بھی زیادہ چیزیں موجود ہیں، لیکن ہر چیز بلا استثناء، اِس ذہین انتخاب کی مثال ہے۔ یہ اصول اتنا زیادہ عام ہے کہ ایک سائنس داں ڈاکٹر فریڈ ہائل (Fred Hoyle) نے اِسی موضوع پر ایک کتاب تیار کر کے شائع کی ہے، اُس کا نام ہے- ذہین کائنات (The Intelligent Universe)۔ یہ کتاب ڈھائی سو صفحات پر مشتمل ہے اور 1983 میں لندن سے چھپی ہے۔

کائنات کا یہ ظاہرہ (phenomenon) کوئی سادہ بات نہیں، وہ خدا کے وجود کا ایک حتمی کائنات کی بناوٹ میں ذہانت (intelligence) کی موجودگی واضح طور پر ایک اور بات ثابت کرتی ہے۔ ذہین تخلیق (intelligent creation) واضح طور پر ذہین خالق (intelligent creator) کا ثبوت ہے۔ منطقی طور پر یہ ناقابلِ قیاس ہے کہ یہاں ذہین عمل موجود ہو، لیکن ذہین عامل یہاں موجود نہ ہو۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے بلاشبہ لازم اور ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ذہین عمل کو ماننے کے بعد ذہین عامل کو نہ ماننا، ایسا ہی ہے جیسے ایک پیچیدہ مشین کو ماننے کے بعد اُس کے انجینئر کو نہ ماننا۔ ڈاکٹر فریڈ ہائل نے اپنی کتاب میں درست طور پر لکھا ہے کہ سائنس کے ابتدائی دور میں مسیحی چرچ نے سائنس دانوں کے خلاف جو متشددانہ کارروائی کی، وہ ابھی تک لوگوں کو یاد وہ ڈرتے ہیں کہ اگر وہ یہ اعلان کر دیں کہ کائنات کے پیچھے ایک ذہین خالق کے وجود کا ثبوت مل رہا ہے تو قدیم مذہبی تشدد (religious connotation) شاید دوبارہ واپس آ جائے گا۔ مگر یہ ایک بے بنیاد خوف ہے۔ ذہین خالق کے سائنسی اعتراف کے بعد جو چیز تاریخ میں واپس آئے گی، وہ سچا خدائی مذہب ہے، نہ کہ مسیحی چرچ۔

دو انتخاب (options)

کائنات میں جو غیر معمولی نظم اور تناسب پایا جاتا ہے، اس کی توجیہہ کے لیے ہمارے پاس دو

انتخاب (options) ہیں۔ ایک، یہ کہ کائنات اپنی ناظم آپ ہے۔ مگر سائنس کی تمام تحقیقات اس کی تردید کرتی ہیں۔ اس لیے کہ سائنس نے کائنات میں جس نظم کو دریافت کیا ہے، وہ مکمل طور پر ایک ذہن نظم (intelligent design) ہے۔ دوسری طرف سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ خود کائنات کے اندر سب کچھ ہے، لیکن وہی چیز اس کے اندر موجود نہیں جس کو ذہانت (intelligence) کہا جاتا ہے۔ سائنس کی دریافت کردہ کائنات، بیک وقت کامل طور پر منّظم (designed) ہے اور اسی کے ساتھ وہ کامل طور پر غیر ذہین (non-intelligent) ہے۔ ایسی حالت میں کائنات کو اپنے نظم کا خود ناظم سمجھنا، ایسا ہی ہے جیسے پتھر کے اسٹیچو کے بارے میں یہ فرض کر لیا جائے کہ اس نے اپنی با معنی ڈیزائن خود تیار کی وہ ایک خود تخلیقی وجود (self-created being) ہے۔

اس کے بعد ہمارے پاس کائنات کی توجیہہ کے لیے صرف ایک آپشن باقی رہتا ہے، اور وہ یہ کہ ہم ایک خارجی ایجنسی (outside agency) کو کائنات کے نظم کا سبب قرار دیں۔ انتخاب کے سوا، کوئی دوسرا انتخاب ہمارے لیے عملی طور پر ممکن نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے لیے بے خدا کائنات اور با خدا کائنات کے درمیان انتخاب نہیں ہے، بلکہ با خدا کا ئنات (universe with God) اور غیر موجود کا ئنات (no universe at all) کے درمیان انتخاب ہے۔ یعنی ہم اگر خدا کا انکار کریں تو ہمیں کائنات کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ چوں کہ ہم کائنات کے وجود کا انکار نہیں کر سکتے ، اس لیے ہم مور ہیں کہ ہم خدا کے وجود کو تسلیم کریں۔

Printed page