Al-Risala · September 2007

Thinking exists, therefore God exists.

Al-Risala, September 2007, pp. 34–36

By Maulana Wahiduddin Khan

سوچ ایک مجرد (abstract) چیز ہے۔ جو لوگ خدا کا انکار کرتے ہیں، وہ اسی لیے خدا کا انکار کرتے ہیں کہ خدا انھیں ایک مجرد تصور معلوم ہوتا ہے، اور مجرد تصور کی موجودگی ان کے لیے ناقابلِ فہم ہے، یعنی ایک ایسی چیز کو ماننا جس کا کوئی مادی وجود نہ ہو۔ لیکن ہر انسان سوچنے والی مخلوق ہے۔ اپنے تجربے کی بنیاد پر ہر آدمی سوچ کے وجود کو مانتا ہے۔ حالاں کہ سوچ مکمل طور پر ایک مجرد تصور ہے، یعنی ایک ایسی چیز جس کا کوئی مادی وجود نہیں۔

اب اگر انسان ایک قسم کے مجرد تصور کے وجود کو مانتا ہے تو اُس پر لازم آجاتا ہے کہ وہ دوسری قسم کی مجرد تصور کے وجود کو بھی تسلیم کرے۔ یہ بلاشبہ خدا کے وجود کا ایک ایسا ثبوت ہے جس کا تجربہ ہر آدمی کرتا ہے اور جس کی صحت کو ہر آدمی بلا اختلاف مانتا ہے۔ اگر سوچ کے وجود کا انکار کر دیا جائے تو اس کے بعد یقینی طور پر انسان کے وجود کا اور خود اپنے وجود کا انکار کرنا پڑے گا۔ کوئی بھی آدمی اپنے وجود کا انکار نہیں کر سکتا، اس لیے کسی بھی آدمی کے لیے منطقی طور پر یہ ممکن نہیں کہ وہ خدا کے وجود کا انکار کرے۔

خدا کا غیر مرئی (invisible) ہونا، اِس بات کے لیے کافی نہیں کہ خدا کے وجود کا انکار کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ غیر مرئی ہونے کی بنا پر خدا کا انکار کرنا، ماڈرن سائنس کے زمانے میں ایک خلافِ زمانہ استدلال (anachronistic argument) ہے۔ اس لیے کہ آئن سٹائن (وفات: 1955) کے زمانے میں جب ایٹم ٹوٹ گیا اور علم کا دریا عالمِ صغیر (microworld) تک پہنچ گیا تو اس کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں ہر چیز غیر مرئی ہے۔ پہلے جو چیزیں مرئی (visible) سمجھی جاتی تھیں، اب وہ سب کی سب غیر مرئی ہوگئیں۔ ایسی حالت میں عدمِ رؤیت کی بنیاد پر خدا کے وجود کا انکار کرنا، ایک غیر علمی موقف بن چکا ہے۔ اس موضوع کی تفصیل کے لیے حسبِ ذیل دو کتابوں کا مطالعہ کافی ہے: Unseen World, by Sir Arthur Eddington Human Knowledge, by A. W. Bertrand Russel موجودہ زمانے میں جو نئی چیزیں وجود میں آئی ہیں، اُن میں سے ایک چیز وہ ہے جس کو خلائی سفر کہا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ راکٹ کے ذریعے خلا میں گیے اور وہاں سے مخصوص دور بینوں کے ذریعے انھوں نے زمین کا مطالعہ کیا۔ ان لوگوں نے اپنے خلائی مشاہدے کی بنیاد پر بہت سی نئی باتیں بتائی ہیں۔

اُن میں سے ایک بات یہ ہے کہ ایک خلا باز نے کہا کہ خلائی سفر کے دوران انھوں نے یہ تجربہ کیا کہ وسیع خلا میں کہیں بھی زمین جیسا کوئی کُرہ موجود نہیں۔ زمین پر لائف ہے اور اُسی کے ساتھ اعلیٰ پیمانے پر لائف سپورٹ سسٹم بھی۔ یہ دونوں چیزیں زمین پر انتہائی موزوں اور متناسب انداز میں پائی

ایک خلا باز نے زمین کے بارے میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا۔ صحیح قسم کا سامان صحیح جگہ پر: Right type of material at the right place. زمین کی یہ انوکھی صفت ہے کہ یہاں زندگی پائی جاتی ہے، یہاں چلتا پھرتا انسان موجود ہے،

مگر اس قسم کی زندگی کی موجودگی کوئی سادہ بات نہیں ۔ اس کے لیے دوسرے ان گنت اسباب درکار ان اسباب کے بغیر زندگی کا وجود اور بقا ممکن نہیں۔ زمین ، اس اعتبار سے وسیع کائنات میں ایک انوکھا استثنا ہے۔ یہاں استثنائی طور پر انسان موجود ہے اور اسی کے ساتھ یہاں اس کے وجود اور بقا کے لیے انتہائی متناسب انداز میں تمام سامان حیات موجود ہے۔

وسیع کائنات میں یہ بامعنی استثنا بلا شبہ ارادی عمل اور منصوبہ بند تخلیق کا ثبوت ہے، اور جہاں ارادی عمل اور منصوبہ بند تخلیق کا ثبوت موجود ہو، وہاں ایک صاحبِ ارادہ اور ایک صاحبِ تخلیق ہستی کا وجود اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے۔

Printed page