Al-Risala · September 2007

تقابلی مطالعہ

Al-Risala, September 2007, pp. 38–39

By Maulana Wahiduddin Khan

پرابلم آف اول کے اس معاملے کا علمی مطالعہ کرنے کا پہلا اصول وہ ہے جس کو تقابلی طور پر سمجھنا (in comparision that we understand) کہا جاتا ہے۔ تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ محدود طور پر صرف انسانی دنیا کا مسئلہ ہے، جب کہ انسان پوری کائنات کے مقابلے میں ایک بہت ہی چھوٹے جُز کی حیثیت رکھتا ہے۔ بقیہ کائنات اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ مکمل طور پر ایک بے نقص کائنات (zero-defect world) ہے۔ کائنات میں بے شمار سرگرمیاں ہر آن جاری رہتی ہیں، لیکن اُس میں کہیں بھی کوئی خرابی (evil) دکھائی نہیں دیتی۔

انسانی دنیا میں بیماریاں ہیں، انسانی دنیا میں حادثات ہیں، انسانی دنیا میں ظلم ہے، انسانی دنیا میں کرپشن ہے، انسانی دنیا میں بے انصافی ہے، انسانی دنیا میں استحصال ہے، انسانی دنیا میں لڑائیاں ہیں، انسانی دنیا میں نفرت اور دشمنی ہے، انسانی دنیا میں سرکشی ہے، انسانی دنیا میں فسادات ہیں، انسانی دنیا میں جرائم ہیں، اِس قسم کی بہت سی برائیاں انسانی دنیا میں پائی جاتی ہیں، لیکن انسان کے سوا، بقیہ کائنات اِس قسم کی برائیوں سے مکمل طور پر خالی ہے۔ یہی فرق یہ ثابت کرتا ہے کہ برائی کا مسئلہ (problem of evil) خود انسان کا پیدا کردہ ہے، نہ کہ فطرت کا پیدا کردہ۔ اگر یہ مسئلہ فطرت کا پیدا کردہ مسئلہ ہوتا تو وہ بلاشبہ پوری کائنات میں پایا جاتا۔

Printed page