وقت کا شعور
Al-Risala, September 2007, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان ایک ٹائم کا نشش مخلوق ہے۔ وہ اپنے وقت کو حال اور مستقبل میں بانٹ کر دیکھتا ہے۔ مگر دوسری طرف یہ ایک واقعہ ہے کہ ہر آدمی کو اپنی زندگی میں صرف حال (present) ملتا ہے۔ ہر آدمی اپنے مستقبل سے محروم ہو کر مایوسی کی حالت میں مر جاتا ہے۔ اپنے حال میں بہتر مستقبل کے لیے عمل کرتا ہے، لیکن اس کی محدود عمر میں اس کا وہ بہتر مستقبل اس کو نہیں ملتا اور وہ مایوسی کے ساتھ اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔
ایک بار ہم نے انٹرنیٹ پر یہ سوال ڈالا کہ بڑے بڑے لوگوں میں وہ کون ہیں جو اپنی آخری عمر میں مایوسی کا شکار ہوئے اور ڈپریشن (depression) کی حالت میں مرے۔ اس کے جواب میں انٹرنیٹ نے جو فہرست دی، اس میں چار سو دو بڑے بڑے اشخاص کے نام موجود تھے۔ (کوئی شخص سرچ انجن پر جا کر اس فہرست کو دیکھ سکتا ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے: Risk Factor: Depression)۔ کائنات کے باخدا نظریے میں انسان کے اس فطری سوال کا جواب موجود ہے، لیکن کائنات کے بے خدا نظریے میں اس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں۔