آڈیئل ازم کی ناکامی
Al-Risala, September 2007, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
تمام فلاسفہ اور مفکرین موجودہ دنیا کو ابدی (eternal) سمجھتے رہے ہیں۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اسی موجودہ عالم میں ہم کبھی نہ کبھی اپنی مطلوب دنیا بنا لیں گے۔ آئیڈیل سوسائٹی، آئیڈیل ریاست، آئیڈیل نظام کے تصورات اسی فکر کے تحت پیدا ہوئے۔ ایسے تمام مفکرین ان تصورات سے اپنی آخری عمر تک مسحور رہے۔
لوگوں کے نزدیک تہذیب (civilization) اسی انسانی خواب کی تعبیر تھی۔ ترقیوں کے بعد لوگوں نے یہ سمجھا کہ تہذیبی ارتقا آخر کار اُنھیں اس منزل تک پہنچانے والا ہے، جب کہ اسی موجودہ دنیا میں وہ اپنی جنت تعمیر کر لیں۔ لیکن یہ تصور مکمل طور پر باطل ثابت ہوا۔ دنیا کا خاتمہ جدید سائنس کے بانی سر آئزاک نیوٹن (وفات: 1727) نے 1704 میں قوانین طبیعی کا مطالعہ کر کے بتایا تھا کہ موجودہ دنیا 2060 میں ختم ہو جائے گی۔ (ٹائمس آف انڈیا، 18 جون اب دنیا بھر کے تمام سائنس داں خالص مشاہدات کی بنیاد پر یہ بتا رہے ہیں کہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں دنیا کا خاتمہ یقینی بن چکا ہے۔ تہذیب کا مزید ارتقا اب سرے سے یہاں ممکن ہی نہیں۔ الون ٹا فلر (Alvin Toffler) کی کتاب 'فیوچر شاک' پہلی بار 1970 میں چھپی۔ الون ٹا فلر نے بتایا تھا کہ دنیا انڈسٹریل ایج سے نکل کر اب سپرانڈسٹریل ایج میں داخل ہو رہی ہے۔ تہذیب کا اگلا دور مکمل آٹومیشن (complete automation) کا دور ہوگا۔ پش بٹن کلچر (push button culture) اس حد تک ترقی کرے گا کہ ہر کام آٹومیٹک طور پر ہونے لگے گا۔ لیکن گلوبل وارمنگ کا مسئلہ تکمیل تاریخ کے بجائے خاتمۂ تاریخ (end of history) کا پیغام لے کر سامنے آگیا۔
تاریخِ انسانی کا یہ ظاہر ہ بلا شبہ آج کا سب سے بڑا سوال ہے۔ اس سوال کی اطمینان بخش توجیہہ صرف با خدا کائنات کے نظریے میں موجود ہے۔ بے خدا کائنات کے نظریے کے تحت، اس ظاہرے کی کوئی اطمینان بخش توجیہہ کرنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔
اس طرح کی مثالیں واضح طور پر ثابت کرتی ہیں کہ بے خدا کائنات کے نظریے میں ایک بہت بڑا خلا موجود ہے، وہ یہ کہ اس نظریے کو ماننے کی صورت میں ایک انتہائی با معنی کائنات ایک انتہائی بے معنی انجام پر ختم ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔
دوسری طرف، با خدا کائنات کا نظریہ اس نقص سے مکمل طور پر خالی ہے۔ با خدا کائنات کے نظریے کو ماننے کی صورت میں یہ ہوتا ہے کہ با معنی کائنات کا انجام ایک انتہائی با معنی مستقبل پر منتہی یہ واقعہ، با خدا کائنات کے نظریے کے حق میں ایک ایسی دلیل کی حیثیت رکھتا ہے جو عقل اور منطق کو پوری طرح مطمئن کرنے والا ہے۔