پیغمبر انقلاب
Al-Risala, October 2007, pp. 2–4
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذکر ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔ نبوت کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک ہر زمانے میں جاری رہا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اوّل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ قرآن کے مطابق، آپ خدا کے رسول بھی تھے اور نبیوں کے خاتم بھی۔
پیغمبروں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام پیغمبر مشترک طور پر توحید کا پیغام لے کر آئے، لیکن پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں یہ پیغام زیادہ تر فکری مرحلے میں رہا، وہ عملی انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ آپ کو اپنے اصحاب کی صورت میں ایک مضبوط ٹیم مل گئی۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ توحید کی دعوت کو فکری مرحلے سے آگے بڑھا کر عملی انقلاب کے درجے تک پہنچا دیا جائے۔ پیغمبرِ اسلام اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں یہ انقلاب عملی طور پر پیش آیا اور پھر وہ تاریخِ بشری کا ایک معلوم اور مسلّم حصہ بن گیا۔ پیغمبرآخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اتنی زیادہ واضح ہے کہ وہ صرف آپ کے پیروؤں کے ایک ’’روایتی عقیدہ‘‘ کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ وہ ایک مسلمّہ تاریخی واقعہ ہے۔ پیغمبر آخرالزماں سے پہلے جو انبیا آئے، اُن کی زندگی مدوّن تاریخ کا جُز نہ بن سکی، مگر پیغمبر اسلام کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ آپ کی حیثیت ایک مسلّم تاریخی پیغمبر کی ہے، آپ کی نبوت پورے معنوں میں ایک ثابت شدہ نبوت ہے۔ انسانی زندگی کے جس پہلو کو بھی دیکھا جائے، اِس میں پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی ابدی تعلیم کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی دیں گے۔ وہ تمام بہترین روایات اور وہ تمام اعلیٰ قدریں جن کو آج اہمیت دی جاتی ہے، وہ سب پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے عظیم انقلاب کے براہِ راست نتائج ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ تاریخ کے سب سے بڑے انسان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انسانِ کامل بنا کر انسانی نسل پر اپنا سب سے بڑا احسان فرمایا ہے۔
پیغمبر آخرالزماں کی شکل میں تاریخ میں ایک ایسا بلند ترین مینار کھڑا کر دیا ہے کہ آدمی جس طرف بھی نظر اٹھائے، وہ آپ کو دیکھ لے ۔ جب وہ اپنے رہ نما کی تلاش میں نکلے تو اُس کی نظر سب سے پہلے آپ پر جب وہ حق کا راستہ جاننا چاہے تو آپ کا روشن اور بلند و بالا وجود اُس کو سب سے پہلے اپنی طرف متوجہ کر لے۔ آپ ساری انسانیت کے لیے ہادی اعظم اور رہبر کامل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ لیے خدا نے آپ کو نبیوں کے خاتم (الأحزاب : 40) کی حیثیت سے مبعوث فرمایا۔ صرف اللہ کے رسول تھے ، اور آپ اللہ کے رسول ہونے کے ساتھ خاتم النبیین بھی۔ میری کتاب ’پیغمبر انقلاب‘ پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اس وقت میں نے اس کتاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو الفاظ لکھے تھے، وہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیرمسلموں کے لیے بھی نشان راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
قرآن کے مطابق ، اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو محمودیت کے مقام پر کھڑا کیا ہے (الإسراء : 79)۔ چناں چہ نہ صرف اہل اسلام بلکہ عام مصنفین اور مورخین نے آپ کی عظمت کو کھلے طور پر تسلیم کیا ہے۔
بارھویں اور تیرھویں صدی عیسوی میں مسلم قوموں اور مسیحی قوموں کے درمیان لڑائیاں پیش آئیں، جن کو صلیبی جنگ (crusades) کہا جاتا ہے ۔ ان جنگوں میں مسیحی قوموں کو شکست ہوئی۔ اُس کے بعد مسیحی مصنفین نے اسلام کے خلاف ایک قلمی جنگ چھیڑ دی۔ کثرت سے ایسی کتابیں لکھی گئیں جن میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی تصویر کو بگاڑ کر پیش کیا گیا تھا۔ یہ سلسلہ لمبی مدت تک جاری رہا۔ اس سلسلے کو توڑنے والا پہلا قابل ذکر شخص اسکاٹ لینڈ کا ایک مصنف ٹامس کارلائل (وفات: 1881) ہے۔ اُس نے جرأت مندانہ طور پر اس رجحان کو بدلا۔ اُس کی مشہور کتاب ہیرو ورشپ (On Heroes, Hero Worship) پہلی بار 1841 میں چھپی۔ کتاب میں اُس نے پیغمبر اسلام کی مثبت تصویر پیش کی۔ اُس نے پیغمبر اسلام کو دوسرے تمام پیغمبروں کے مقابلے میں ’’ہیرو‘‘ کا درجہ دیا۔
اس کے بعد کثرت سے مختلف زبانوں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کتابیں شائع ہوئیں ۔ ان کتابوں میں تاریخ میں آپ کے انقلابی رول کا کھلے طور پر اعتراف کیا گیا۔ کے ایک اسکالر ایم این رائے (وفات : 1954) کی کتاب (Historical Role of Islam) 1939 میں پہلی بار دہلی سے چھپی ۔ اس میں انھوں نے لکھا کہ پیغمبر اسلام ، تمام پیغمبروں میں سب سے بڑے پیغمبر تھے۔ انھوں نے سب سے بڑا تاریخی معجزہ دکھایا:
Every prophet esptablishes his pretentions by the performance of miracles. On that token, Muhammad must be recognised as by far the greatest of all prophets, before or after him. The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (p. 4)
پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن میں یہ پیشین گوئی آئی ہے کہ آپ کو مقام محمودیت کا درجہ عطا کیا جائے گا (الإسراء : 79)۔ مقامِ محمود کا ایک پہلو وہ ہے جو آخرت میں ظاہر ہوگا۔ دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق موجودہ دنیا سے ہے۔ موجودہ دنیا کی نسبت سے مقامِ محمود یہ ہے کہ آپ کو تاریخی اعتبار سے ایک مسلم نبوت (established prophethood) کا درجہ حاصل ہوگا۔ آپ سے پہلے جو انبیا آئے ، وہ مدوّن تاریخ میں ریکارڈ نہ ہوسکے ۔ آپ کے سوا ہر ایک کی حیثیت ، اعتقادی نبوت کی ہے نہ کہ تاریخی نبوت کی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ کو خدا نے آخری پیغمبر آپ کے بعد کوئی دوسرا پیغمبر آنے والا نہ تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ آپ کی لائی ہوئی کتاب اور آپ کی پیغمبرانہ زندگی کامل طور پر محفوظ ہوجائے ، وہ تسلیم شدہ تاریخی ریکارڈ کی حیثیت حاصل کیوں کہ قانونِ الہی کے مطابق ، جب پیغمبر مستند تاریخی ریکارڈ کا درجہ حاصل کرلے تو اس کے بعد اُس کی لائی ہوئی کتاب اور اُس کی تعلیمات کا یہی ریکارڈ پیغمبر کا قائم مقام بن جاتا ہے ، اس کے بعد کسی نئے پیغمبر کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔