السلام علیکم ورحمۃ اللہ
Al-Risala, January 2007, pp. 43–44
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کا عنایت نامہ مورخہ ۱۸ ستمبر ۲۰۰۶ ملا۔ حالات معلوم ہوئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر طرح صحت اور عافیت میں رکھے ۔ اور آپ کو شفا عطا فرمائے۔ آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے دین کا بہت کام لیا اللہ کی ذات سے امید ہے کہ آئندہ بھی وہ آپ کی دینی خدمات کو جاری رکھے گا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کا یہ مکتوب بھی آپ کے مراتبِ عالیہ میں اضافے کا ذریعہ ہوگا۔ آپ نے جس طرح کھلے دل کے ساتھ معاملے کی وضاحت فرمائی ہے، وہ آپ کی ایمانی عظمت اور اخلاقی جرات کا ایک مزید ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار آدمی کے پاس عیادت کے لیے گیے ۔ تکلیف کی حالت میں تھا۔ اس کو دیکھ کر آپ نے فرمایا: لا باس طہور إن شاء اللہ ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحت جس طرح ایک نعمت ہے اسی طرح بیماری بھی ایک نعمت ہے ۔ مومن جب صحت مند ہو تو صحت کی حالت اس کے لیے شکر کے جذبات پیدا کرنے میں معاون بنتی ہے، اور مومن کو جب بیماری کا تجربہ ہوتا ہے تو بیماری اس کے عجز کے جذبات میں اضافے کا سبب بن جاتی ہے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، عجز اللہ سے قربت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : أنا عند المنكسرة قلوبهم۔ میری دعا ہے
کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر قسم کی رحمت اور نصرت اور عافیت عطا فرمائے۔