Al-Risala · October 2007

دین اور منہاج کا فرق

Al-Risala, October 2007, pp. 6–8

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے پیغمبروں کی طرح، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دو چیزیں دی گئیں—الدین اور الدین سے مراد آپ کی تعلیمات کا وہ حصہ ہے جس کا تعلق، عقیدہ اور عبادت اور اخلاق جیسی اساسی چیزوں سے ہے۔ آپ کی تعلیمات کا یہ حصہ ابدی ہے۔ وہ اس طرح کامل ہو چکا ہے کہ اُس میں اب کسی کمی یا اضافے کی گنجائش نہیں۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کی سورہ نمبر پانچ میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: اليوم أكملت لكم دينكم وأتممتُ عليكم نعمتي، ورضيت لكم الإسلام دیناً (المائدة: 3)

دین کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو قرآن میں ’منہاج‘ کہا گیا ہے۔ اس بارے میں قرآن کی سورہ نمبر پانچ کی اس آیت سے رہ نمائی ملتی ہے: لكل جعلنا منكم شرعةً ومنهاجا (المائدة: 48) منہاج کا مطلب، طریق کار (method) ہے۔ طریق کار کا معاملہ ’’الدین‘‘ سے مختلف ہے۔ الدین، ابدی طور پر ایک ہی رہتا ہے، لیکن طریق کار کا تعلق حالات سے ہے۔ طریق کار، وقت کی صورت حال کی مناسبت سے بنتا ہے، نہ کہ کسی ابدی معیار کے تحت۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں اور اسلام کے بعد کی تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ الدین کے معاملے میں پیغمبرِ اسلام کا اُسوہ، ابدی طور پر اور غیر متغير طور پر ایک ہے اور ایک رہے گا، لیکن جہاں تک منہاج کا معاملہ ہے، اُس کا تعلق حالات سے ہے۔ ہر زمانے میں جو طریقہ حالات کے مطابق ہوگا، اُس کو اختیار کیا جائے گا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غزوۂ بدر (2 ہجری) کے لیے اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے کوچ فرمایا تو آپ نے اپنی صواب دید کے مطابق، ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ آپ کے ساتھیوں میں سے ایک ساتھی حباب بن منذر بن جموح نے آپ سے پوچھا کہ کیا یہ جگہ جہاں آپ نے پڑاؤ ڈالا ہے، یہ خدا کی وحی کی بنیاد پر ہے، آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ پھر تو یہ کوئی پڑاؤ ڈالنے کی جگہ نہیں (فإن هذا ليس بمنزل)۔ اس کے بعد آپ نے اُن کے مشورے کے مطابق، پڑاؤ کی جگہ کو بدل دیا۔

اسی طرح کی ایک مثال وہ ہے جو غزوۂ احزاب (5 ہجری) کے موقع پر پیش آئی۔ آپ کے مخالفین ایک بڑی فوج لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اُس وقت اہلِ ایمان مقابلے کی پوزیشن میں نہ تھے، اس لیے آپ نے چاہا کہ کسی تدبیر کے تحت جنگ کو ٹال دیا جائے۔ آپ نے لوگوں سے مشورہ کیا۔ اُس وقت سلمان فارسی کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے بادشاہ جب جنگ سے اعراض کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے اور مخالف فوج کے درمیان خندق (trench) کھود دیتے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رائے کو پسند کیا اور ایرانی طریقے کے مطابق، مدینہ کے باہر ایک خندق کھود دی۔ اس لیے اس غزوے کو ’غزوۂ خندق‘ کہا جاتا ہے۔

اسی طرح کا ایک معاملہ وہ ہے جو کھجور کے درختوں کی زرخیزی (pollination) سے تعلق رکھتا سیرت کی کتابوں میں اس کو ’تأبیر نخل‘ کا نام دیا گیا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ آئے تو وہاں کے لوگ کھجور کے درختوں کی زرخیزی کے لیے تأبیر نخل کا طریقہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ آپ نے اُس کو دیکھا تو آپ نے اُس سے اپنے عدم اتفاق کا چناں چہ لوگوں نے اُس کے بعد تأبیر یا تلقیح کے عمل کو چھوڑ دیا۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُس سال کھجور کی فصل کم ہوئی۔ آپ نے کمی کا سبب پوچھا تو لوگوں نے کہا کہ آپ کے کہنے کے مطابق، ہم نے تأبیر اور تلقیح کا عمل نہیں کیا، اس لیے ایسا ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ جو کرتے تھے، وہ کرو۔ کہ دنیا کے معاملے میں تم زیادہ جانتے ہو (أنتم أعلم بأمر دنیاکم)۔

اس قسم کے واقعات بتاتے ہیں کہ جہاں تک الدین کا تعلق ہے، اس معاملے میں پیغمبر اسلام کا اسوہ ایک کامل اور ابدی اسوہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن جہاں تک منہاج یا طریقِ کار کا تعلق ہے، اس میں حقیقی حالات کی نسبت سے یہ متعین ہوگا کہ کس وقت کون سا طریقہ اختیار کیا جائے۔ پیغمبر اسلام کا اسوہ اسلامی عقیدے کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انسانی زندگی کے لیے ایک عملی نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ عملی نمونہ، زندگی کے ہر پہلو سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ

پیغمبر اسلام کی عملی زندگی ہر اعتبار سے، انسان کے لیے ابدی رہ نما کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ہے کہ اُس نے پیغمبرِ آخرالزماں کی زندگی کو آخری طور پر محفوظ کر دیا۔ ورنہ جہاں تک پچھلے پیغمبروں کا معاملہ ہے، ان کی تاریخ پورے طور پر محفوظ حالت میں موجود نہیں۔ لیکن پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے نمونہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کے یہاں انسانی زندگی کے ہر معاملے کے لیے ایک مقرر مثال (set pattern) یا ایک پیشگی نمونہ (prototype) موجود ہے اور ہمیں، حقیقی صورت حال کا لحاظ کیے بغیر، صرف یہ کرنا ہے کہ ان پیشگی نمونوں کو لے کر ہمیشہ اُن کو اپنے ہر معاملے میں منطبق کرتے رہیں۔ اگر ایسا مانا جائے تو اسلام ایک جامد مذہب بن جائے گا، جس میں مزید ترقی کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ یہ بات پیغمبرِ اسلام کے زمانے کے لیے بھی درست ہے اور آپ کے بعد کے زمانے کے لیے بھی۔ اس سلسلے میں چند مثالیں اوپر آ چکی ہیں۔ کچھ مثالیں درج کی جاتی ہیں۔

Printed page