Al-Risala · October 2007

اُسوہ حسنہ

Al-Risala, October 2007, pp. 10–11

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کے انھیں دونوں حصوں میں فرق کو واضح کرنے کے لیے قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُسوہ حسنہ (الأحزاب: 21) بتایا گیا ہے۔ اگر اس موقع پر قرآن میں ’اُسوہ‘ کاملہ کا لفظ استعمال کیا جاتا تو لوگ غلط فہمی میں پڑ سکتے تھے، اور یہ سمجھ سکتے تھے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے الدین میں آپ کے ذریعے انسان کو کامل رہ نمائی عطا فرمائی ہے، اُسی طرح منہاج کے معاملے میں بھی ابدی طور پر ہمیں آپ کے طریقے کی پیروی کرنا ہے۔ ایسا سمجھنا، بلاشبہ ایک غلط فہمی اور نتیجہ طریقہ کار کے اعتبار سے اسلام جُمود کا شکار ہو جاتا۔

مثلاً طریق کار کو ابدی سمجھنے کے بعد یہ ہوتا کہ ہم کار اور ہوائی جہاز کے زمانے میں بھی اونٹ پر بیٹھنا ضروری سمجھتے۔ جدید فنی تعمیر کے ظہور میں آنے کے بعد بھی ہم مسجد نبوی کو کھجور کے تنوں اور پتوں کے ذریعے بناتے رہتے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ظہور کے بعد بھی ہم قرآن کو درخت کی چھالوں اور جانور کی جھلیوں پر بدستور لکھتے رہتے۔ جدید طرز کے دور مار ہتھیاروں کے ظہور میں آنے کے بعد بھی ہم قدیم نمونے کے مطابق، دستی تلوار کے ذریعے جہاد کرتے رہتے۔ جدید سائنسی دلائل کے ظہور میں آنے کے بعد بھی ہم قدیم روایتی معقولات کو اپنے علم کلام کا واحد سرمایہ سمجھتے۔ جدید کمیونی کیشن اور ٹیلی فون کے زمانے میں بھی ہم پرندوں اور جانوروں سے پیغام رسانی کا کام لیتے رہتے۔ جدید الیکٹری سٹی کے ظہور کے بعد بھی ہم چراغوں اور دِیوں کے ذریعے اپنے گھروں کو روشن کرتے رہتے۔ ٹریکٹروں کے ظہور میں آنے کے بھی ہم ہل اور بیل کے ذریعے زراعت کا کام جاری رکھتے، وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ ایک عظیم حکمت تھی کہ اُس نے قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رہ نمائی

کو بتانے کے لیے اُسوہ حسنہ کا لفظ استعمال کیا۔ اگر اس آیت میں اسوۂ کاملہ کا لفظ ہوتا تو لوگ یقینی طور پر غلط فہمی میں پڑ جاتے ۔ لوگ الدین اور منہاج میں فرق کرنے سے قاصر رہتے۔ وہ غلط فہمی کی بنا پر یہ سمجھ لیتے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم، جس طرح الدین کے بارے میں ابدی اور کامل نمونہ ہیں، اسی طرح منہاج اور طریق کار کے معاملے میں بھی آپ کا طریقہ ابدی ہے۔ اس غلط فہمی کا یہ نتیجہ ہوتا کہ اسلام جمود کا شکار ہوجاتا۔ دوسری قومیں جدید ترقیاتی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتیں اور مسلمانوں کا قافلہ اُن سے بہت زیادہ پیچھے ہوجاتا۔

اس غلط فہمی اور اس کے غیر مطلوب نتائج کی ایک مثال ترکی میں ملتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عثمانی خلافت کا فوجی نظام، قدیم طرز کے مطابق چلا آرہا تھا، یعنی اُن کی فوجی تیاری تلواروں اور گھوڑوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ پھر نشاۃ ثانیہ کے بعد مغربی یورپ کی مسیحی قوموں نے سامانِ جنگ کے لیے نئی ٹکنک اور نئے ہتھیار دریافت کیے ۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ ترکوں اور ان مسیحی قوموں کے درمیان فوجی جدید ہتھیاروں سے مسلح مغربی فوجوں کے مقابلے میں ترکوں کی فوج شکست کھانے لگی۔ ترکی کے مسلمانوں کے لیے یہ ایک چشم کشا واقعہ تھا۔ چناں چہ بحث ومباحثے کے بعد یہ طے ہوا کہ ترکی کی فوج کو جدید ہتھیاروں کے ذریعے مسلح کیا جائے۔ چناں چہ وہاں ایسا ہی کیا گیا۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول مسیج (The Spiritual Message) ہے ۔ اس کی تفصیل یہ ہے :

دی اسپرچول مسیج، فی کاپی 15/- روپے، سالانہ -/165 روپے ۔

خط و کتابت کا پتہ ہے :

The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)

Tel.: 2834 1654/28346079/2821 8609, Fax: 2823 6323

Printed page