نسخ کیا ہے
Al-Risala, October 2007, pp. 12–15
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو نسخ کہا جاتا ہے۔ نسخ کا مطلب اُردو مفہوم کے لحاظ سے منسوخی نہیں ہے۔ عربی زبان میں نسخ کا مطلب ہے ہٹانا، یعنی ایک چیز کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسری چیز لانا (replacement)۔ مشہور عربی لغت، لسان العرب میں نسخ کا مفہوم ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: النّسخ، تبديل الشيئ من الشيئ (جلد 3، صفحہ 61)، یعنی ایک چیز کو بدل کر اُس کی جگہ دوسری چیز لانا۔
نسخ کا یہ مفہوم خود قرآن کی دوسری آیت سے واضح ہورہا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 16 میں ارشاد ہوا ہے: وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مكان آيَةٍ (النّحل: 101)، یعنی جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کی جگہ اس آیت میں ایک چیز کو بدل کر اُس کی جگہ دوسری چیز لانے سے مراد عین وہی چیز ہے جس کو پہلی آیت میں نسخ کہا گیا ہے۔
مفسرین نے بھی دونوں آیتوں میں نسخ کا تقریباً یہی مفہوم لیا ہے۔ قرطبی کے الفاظ یہ ہیں: النسخ والتبديل: رفع الشيئ مع وضع غيره مكانه (القرطبی، جلد 10، صفحہ 176) یعنی نسخ اور تبدیلی کا مطلب کسی چیز کو اُس کی جگہ سے ہٹانا، اور وہاں دوسری چیز کو لے آنا ہے۔ نسخ کے معاملے کو عام طور پر یہود سے، یا یہود کی شریعت سے جوڑا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک قانونِ فطرت ہے۔ اس قانون کا تعلق بہت سے معاملات سے ہے۔ جب بھی کسی صورتِ حال میں تبدیلی ہو تو وہاں نسخ کی ضرورت پیش آتی ہے۔ نسخ جب بھی ہوتا ہے، ظاہری صورت میں ہوتا ہے، معنوی حقیقت کے اعتبار سے کسی حکم میں نسخ واقع نہیں ہوتا۔ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم نے مکہ میں کعبہ کی تعمیر کی۔ یہ کعبہ حج کا مرکز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو ان الفاظ میں اس کا حکم دیا: اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ وہ تمھارے پاس آئیں گے پیروں پر چل کر اور دُبلے اونٹوں پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز راستوں سے آئیں گے (الحج: 27)
موجودہ زمنے میں ہمیشہ سے زیادہ لوگ حج کے لیے مکہ جاتے ہیں، مگر اب یہ لوگ موٹر اور ہوائی جہاز سے اُس کا سفر کرتے ہیں۔ بظاہر دیکھیے تو یہ بھی نسخ کی ایک صورت ہے۔ اس نسخ میں حقیقت نہیں بدلی ہے، بلکہ اس کی ظاہری صورت بدلی ہے۔ اس معاملے کی اصل حقیقت سواری پہلے زمانے میں سواری کی عملی صورت اونٹ ہوتے تھے۔ اس لیے لوگ اونٹ پر سفر کرتے اب سواری کی عملی صورت ہوائی جہاز ہے۔ اس لیے اب لوگ ہوائی جہاز کے ذریعے یہ سفر طے کرتے ہیں۔
اسی طرح دفاعی جنگ کی تیاری کے لیے قرآن میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ: اور ا اُن کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے، تیار رکھو قوت اور پلے ہوئے گھوڑے کہ اس سے تمھاری ہیبت رہے اللہ کے دشمنوں پر اور تمھارے دشمنوں پر (الأنفال : 60)
جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ زمانے کی مسلم حکومتیں دفاعی تیاری کے لیے جدید ہتھیار کا سہارا لیتی ہیں، یہ بھی گویا کہ نسخ کی ایک صورت ہے۔ غور کیجیے تو اس حکم کی اصل حقیقت دفاعی تیاری ہے۔ اس دفاعی تیاری کی ظاہری شکل پہلے زمانے میں گھوڑا ہوتا تھا، اب اُس کی ظاہری شکل مشینی ہتھیار بن گئے ہیں۔
یہی معاملہ قتال (جنگ) کا بھی ہے۔ قرآن کی چند آیتوں میں دفاع کے لیے قتال کی اجازت دی گئی ہے۔ فقہانے کہا ہے کہ اسلام میں قتال حسن لذاتہ نہیں ہے، بلکہ وہ حسن لغيره ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قتال، نماز کی طرح مطلق طور پر مطلوب نہیں ہے بلکہ اُس کی مطلوبیت اضافی ہے، یعنی ضرورت کے وقت قتال، اور جب ضرورت نہیں تو قتال بھی نہیں۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کو قتال کا جو حکم دیا گیا تھا، اُس کا مقصد 'فتنہ' کو ختم کرنا تھا۔ قرآن کی سورہ نمبر آٹھ میں ارشاد ہوا ہے: اور اُن سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ اور دین سب اللہ کا ہو جائے (الأنفال : 38) اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے۔
قدیم بادشاہت کے نظام میں ہر جگہ یہ مذہبی جبر قائم تھا۔ بادشاہ لوگ اسٹیٹ کے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کے اختیار کرنے کو اپنے خلاف بغاوت سمجھتے تھے، اس لیے ایسے مذہب کو وہ ہمیشہ کچل دیتے تھے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں ہوئی۔ قدیم بادشاہت کے تحت، ہر جگہ مذہبی جبر کا نظام قائم تھا۔ پیغمبر اسلام نے مذہب توحید کا اعلان کیا تو وہ اُس وقت کے تمام اَرْبابِ اقتدار کے اختیار کردہ مذہب کے خلاف تھا، اس لیے وہ اس کو کچلنے کے لیے سرگرم ہو گئے۔
سب سے پہلے عرب مشرک سرداروں نے اِس کو ختم کرنا چاہا، لیکن خدا کی خصوصی نصرت سے چند مقابلوں کے بعد ان کے اوپر فتح حاصل ہوگئی۔ اِس طرح خود پیغمبر اسلام کے زمانے میں اُس وقت کے دو بڑے ایمپائر، ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر، آپ کے مشن کے دشمن بن گئے۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد خلافتِ راشدہ کے زمانے میں ان شہنشاہیتوں کی جارحیت کے نتیجے میں اُن سے لڑائی اِس لڑائی میں دوبارہ دونوں شہنشاہیتوں کو شکست ہوئی اور اہل توحید کو فتح حاصل ہوئی۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو قرآن میں فتنہ کے خلاف لڑکر اُس کو ختم کرنا بتایا گیا ہے۔ نظامِ اقتدار ختم ہوا تو اس کے نتیجے میں مذہبی جبر کا نظام بھی ختم ہوگیا اور اس کے بجائے مذہبی آزادی کا تاہم اس قسم کی تبدیلی اچانک پیش نہیں آتی، بلکہ وہ لمبے تاریخی عمل کے بعد اپنی منزل تک رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے جو واقعہ ہوا، وہ یہ تھا کہ مذہبی جبر کا نظام ٹوٹ گیا اور مذہبی آزادی کا پر اسس شروع ہو گیا۔ اس پر اسس کا نقطۂ انتہا (culmination) یورپ میں ہوا، جب کہ ہر انسان کے لیے مذہبی آزادی کو نا قابل تنسیخ حق کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ اب ہم اِسی دور میں جی رہے ہیں۔ آج کی دنیا میں آزادی کو خیر اعلیٰ (summun bonum) سمجھا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ڈکلیریشن آف ہیومن رائٹس میں اس کو درج کیا گیا اور دنیا کی تمام قوموں نے اُس پر اپنے دستخط ثبت کیے۔ اور ہر ملک کے دستور میں مذہبی آزادی کو مطلق انسانی حق کا
درجہ دیا گیا۔ آج کی دنیا میں کسی انسان کو صرف تشدد کا حق نہیں ہے، اس کے سواہر چیز کی آزادی اُس کو
قتال کی حیثیت گویا کہ وائلنٹ ایکٹوزم (violent activism) کی ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا طریق کاروہ ہے جس کو پیس فل ایکٹوزم (peaceful activism) کہا جاتا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آج کی دنیا میں وائلنٹ ایکٹوزم منسوخ ہوگیا ہے اور اُس کی جگہ پیس فل ایکٹوزم نیے لے لی اب پیس فل ایکٹوزم کے تحت ہر قسم کی سرگرمیوں کا حق انسان کو مل چکا ہے، صرف ایک استثنا کے ساتھ کہ وہ تشدد نہ کرے ۔ اب ہمارے لیے بلا استثنا ہر قسم کی جدوجہد کے لیے راستے کھل چکے ہیں۔ ان میں بھی سب سے بڑی چیز تعلیم اور دعوہ ورک ہے۔ ہم کو چاہیے کہ تعلیم اور دعوہ ورک کے میدان میں نے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اپنی مکمل جدوجہد جاری کردیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج آزادی کے نتیجے میں یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ہم جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اپنا دعوتو ایمپائر اور ایجوکیشنل ایمپائر قائم کرسکیں ۔ اور یہ سب کچھ خالص غیر سیاسی دائرے میں جدوجہد کرتے ہوئے ممکن ہے۔ हिन्दी ترجمہ قرآن زیر نظر ترجمہ، ہندی زبان میں قرآن کا سلیس اور آسان ترجمہ ہے۔ عوام الناس کا خیال رکھتے ہوئے ہندی کے مشکل الفاظ سے اجتناب کیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ عام فہم زبان میں ہونے کی بنا پر عوام اور خواص دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔
मौलाना वहीदुद्दीन ख़ाँ ہديه: صرف -/25 روپئے