چند مثالیں
Al-Risala, October 2007, pp. 17–20
By Maulana Wahiduddin Khan
1 - قرآن کی سورہ نمبر بارہ میں آیا ہے کہ حضرت یوسف نے جیل میں اپنے رفیق پر تبلیغ کرتے ہوئے کہا: ان الحکم الا للہ، أمر أن لا تعبدوا إلا إياه (یوسف: 40) اس آیت کو لے کر کہا جاتا ہے کہ یہاں ’حکم‘ سے مراد سیاسی اقتدار ہے، حضرت یوسف یہ کہہ رہے ہیں کہ سیاسی اقتدار صرف خدا کا حق ہے، اس لیے خدا ہی کی حکومت زمین پر قائم ہونا چاہیے۔
یہ تفسیر بلا شبہ ایک باطل تفسیر ہے۔ اس آیت کا پورا سیاق بتا رہا ہے کہ یہاں حکم سے مراد فوق الفطری اقتدار ہے، یعنی وہی بات جسے قرآن میں دوسرے مقام پر ربّ العالمین کہا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین اور آسمان کا خالق و مالک صرف خدا ہے، نہ کہ تمھارے مفروضہ معبود۔ اس لیے تم کو چاہیے کہ تم اصنام کی پوجا چھوڑ دو اور صرف ایک خدا کی عبادت کرو۔ خود حضرت یوسف کی عملی روش سے یہی بات ثابت ہوتی ہے، کیوں کہ حضرت یوسف نے مصر کے معاصر بادشاہ کے تحت ایک سرکاری عہدہ قبول کر لیا، حالاں کہ یہ بادشاہ مشرک تھا اور وہ اپنے قومی مذہب کے مطابق ، اصنام پرستی میں مبتلا تھا۔ 2- اس معاملے میں ایک استدلال ایک صحابی کے قول کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ یہ صحابی ربعی بن عامر تھے۔ وہ حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں مسلم فوج کے ساتھ ایران گئے ، وہاں ان کی گفتگو ایرانی سپہ سالار رستم سے ہوئی۔ اُس نے پوچھا کہ تم لوگ کیوں ہمارے ملک میں آئے ۔ ربعی بن عامر نے جواب دیا کہ ہم یہاں اس لیے آئے ہیں تا کہ خدا کے بندوں کو بندوں کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت میں لائیں (لِنُخرِجَ مَن شَاءَ مِن عبادة العباد إلى عبادة الله، تاریخ طبری) صحابی کے اس قول کو لے کر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسلام کا مشن 'تحریر الانسان‘ ہے ، یعنی انسان کو انسانی جبر اور انسانی استحصال سے آزاد کرانا۔
یہ تشریح سرتاسر غیر علمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اور اصحابِ رسول کو جو مشن سپرد کیا تھا ، وہ ان کے زمانے ہی میں انجام پا گیا۔ اُس زمانے میں ساری دنیا میں بادشاہت کا نظام تھا اور بادشاہ لوگ اپنے سیاسی مفاد کے لیے مذہبی جبر (religious persecution) قائم کیے ہوئے تھے۔ یہ نظامِ جبر، خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھا، اس لیے خدا نے حکم دیا کہ اس جبر کا خاتمہ کر دو۔ چناں چہ پہلے عرب میں اس کو ختم کیا گیا ، اس کے بعد ایرانی شہنشاہیت اور رومی شہنشاہیت کا خاتمہ کر کے ایک ایسے دور کا آغاز کیا گیا جس کے نتیجے میں ساری دنیا میں مذہبی جبر کے بجائے ، مذہبی آزادی کا دور دورہ ہو۔ اسی حقیقت کو صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن عمر نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا : فعلنا علیٰ عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم (فتح الباری، جلد 8، صفحہ 32)، یعنی وہ تو ہم نے
عہد رسالت ہی میں آخری طور پر انجام دے دیا۔ اب اہل اسلام کے لیے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ مذہبی آزادی کے مواقع کو استعمال کرکے دعوت الی اللہ کا کام کریں ، نہ کہ جھوٹی لڑائی چھیڑ کر دوبارہ دنیا میں جبر کا ماحول قائم کردیں۔
3- ایک حدیثِ رسول ، ابن ماجہ، الترمذی اور مسند احمد میں آئی ہے۔ اس کو مشکوٰۃ المصابیح میں حدیث نمبر 29 کے تحت دیکھا جاسکتا ہے۔ اس روایت کے مطابق ، ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھ کو جنت میں داخل کردے اور مجھ کو جہنم سے اس کے جواب میں آپ نے اُن کو عبادتِ خدا، روزہ، نماز، حج، زکوٰۃ، ذکر اللہ، صدقہ (انفاق) اور حفظِ لسان کی تلقین کی۔ آپ نے جو جواب دیا، اُس میں ایک جملہ یہ تھا: وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الجهاد (اور اُس کی چوٹی جہاد ہے)۔
وَذِرْوَةُ سَنَامِ الجهاد‘ کے جملے کو لے کر یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام میں خیر اعلیٰ (summum bonum) گردن کٹانا ہے، یعنی جہاد اور قتال کرکے ساری دنیا میں اسلام کی حکومت قائم کرنا، اور خدا کی زمین پر خدا کے احکام نافذ کرنا۔
حدیث کی یہ تشریح سخت غیر علمی اور غیر منطقی ہے۔ اس میں جہاد کا لفظ ہے ، نہ کہ قتال کا سیاق کے مطابق ، یہاں جہاد سے مراد جہادِ نفس ہے، جیسا کہ دوسری حدیث میں آیا ہے : المجاهد من جاهد نفسه فى طاعة الله (مسند احمد، جلد 6، صفحہ 21) بالفرض اگر اس حدیث میں جہاد کو قتال کے معنی میں لیا جائے ، تب بھی وہ صرف بوقتِ جارحیت قتال کے معنی میں ہوگا ، پھر بھی اس سے یہ خود ساختہ مفہوم نہیں نکلتا کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے اور اس کو لڑ کر ساری دنیا میں نافذ
اسلام کی سیاسی تعبیر کے موضوع پر جو کچھ اردو، یا عربی ، یا انگریزی میں لکھا گیا ہے، اُس کا بڑا حصہ میں نے پڑھا ہے۔ ذاتی مطالعے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ یہ تعبیر کسی نص کی بنیاد پر قائم نہیں ہے، وہ صرف قیاس اور استنباط کی بنیاد پر قائم ہے۔ اور یہ ایک مسلم بات ہے کہ اساسی امور میں منصوص استدلال
درکار ہوتا ہے، قیاسی اور استنباطی استدلال اس طرح کے معاملے میں کبھی بناء استدلال نہیں بن سکتا۔ ان حضرات کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ غلط استنباط کے ذریعے ایک سادہ آیت، یا حدیث میں سیاسی مفہوم شامل کر دیتے ہیں۔ مثلاً دین کو اسٹیٹ کے ہم معنی بتانا، نماز یا جماعت کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ عسکری ٹریننگ ہے، روزے کو فوجی مشقت کی تربیت بتانا، وغیرہ۔ اس قسم کا استدلال سخت غیر علمی استدلال ہے۔ اگر اس قسم کے استدلال کو جائز استدلال قرار دیا جائے تو دنیا کی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو قرآن اور حدیث سے ثابت نہ کی جاسکے، حتیٰ کہ اس قسم کے استنباطی استدلال کے ذریعے اسلام کو ایک منسوخ دین بھی ثابت کیا جاسکتا ہے۔
اس سلسلے میں غیر علمی استدلال کی ایک اور قسم وہ ہے جس میں حرف عطف (واو) کی مدد سے بے بنیاد طور پر ایک غیر متعلق چیز کو اسلام کی کسی تعلیم میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً کچھ لوگوں نے اسی طریقے کے مطابق یہ کہا کہ شرک اعتقادی اور شرک عملی کے ساتھ شرک کی ایک اور قسم ہے اور وہ شرکِ سیاسی ہے۔ لا معبودَ إلّا اللہ کے ساتھ اُس کا ایک اور جز ہے اور وہ لا حاکمَ إلّا اللہ اسی طرح کہا گیا کہ عبادت کے لفظ میں پرستش کے سوا ایک اور مفہوم شامل ہے اور وہ اطاعت مگر اس قسم کے تمام اضافے بلاشبہ بے حقیقت اور بے بنیاد ہیں۔