تعلیماتِ اسلام کے دو پہلو
Al-Risala, October 2007, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
مطالعہ بتاتا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے دو بڑے پہلو ہیں۔ قدیم اصطلاح میں ان دونوں پہلوؤں کو ’حُسن لذاتہ‘ اور ’حُسن لغيره‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی کچھ چیزیں وہ ہیں جو اپنے آپ میں مطلوب ہوتی ہیں، اور کچھ چیزیں وہ ہیں جو کسی اور چیز کی نسبت سے مطلوب ہوتی ہیں۔ اس تقسیم کے مطابق، ذکر اللہ ’حسن لذاتہ‘ ہے اور قتال ’حسن لغيره‘۔
اس فرق کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ اسلام میں کچھ چیزیں وہ ہیں جو میٹر آف پرنسپل (matter of principle) کی حیثیت رکھتی ہیں، اور کچھ چیزیں وہ ہیں جن کی حیثیت میٹر آف کنوی نینس (matter of convenience) کی ہے۔ اس تقسیم کے مطابق، سیاسی اقتدار کا
معاملہ دوسری نوعیت کے حکم سے تعلق رکھتا ہے۔
چناں چہ جہاں تک پہلی نوعیت کے احکام کا تعلق ہے، اُن کے بارے میں قرآن میں براہِ راست زبان میں احکام دیے گئے ہیں۔ مثلاً توحید کے بارے میں فرمایا کہ: قل هو الله أحد (الإخلاص: 1)، عبادت کے بارے میں فرمایا کہ: لا إله إلا أنا فاعبدنی (طٰہٰ: 14)، عدل اور انصاف کے بارے میں فرمایا: إنّ الله يأمركم بالعدل والإحسان (النّحل: 95)، مگر جہاں تک سیاسی اقتدار کا تعلق ہے، اس کے بارے میں کہیں بھی اس طرح براہِ راست حکم نہیں دیا گیا، یعنی کہیں بھی اس طرح کے الفاظ نہیں آئے کہ تم لوگ اسلامی حکومت قائم کرو، یا زمین میں اسلامی قوانین کو نافذ کرو، یہی امت کی حیثیت سے تمھارا نصب العين ہے۔ اس معاملے میں سیاست پسند افراد کی طرف سے جو دلائل دیے گئے ہیں، وہ سب کے سب قیاسی اور استنباطی ہیں، مگر اس قسم کے اساسی معاملے میں مبنی بر نص استدلال درکار ہے، نہ کہ مبنی بر قیاس استدلال۔