Al-Risala · October 2007

حاکم کا تقرر

Al-Risala, October 2007, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

تمام دنیا کے سیاسی نظاموں میں واضح طور پر یہ موجود رہتا ہے کہ حاکم کا تقرر کس طرح کیا جائے، مگر قرآن میں اس معاملے میں کوئی واضح حکم موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی زمانے کے مثالی دور میں جن خلفائے اسلام کا تقرر ہوا، اُن میں سے ہر ایک کا تقرر الگ الگ ڈھنگ سے ہوا، گویا کہ ان کا تقرر حالات کے مطابق ہوا، نہ کہ کسی مستقل اصول کے مطابق۔

اسلام کے دورِ اوّل کو ہر معاملے میں ایک معیاری دور مانا جاتا ہے۔ اُس زمانے میں چھ خلفاء ایسے تھے جن کو اسلام میں مثالی حکم راں کا درجہ حاصل ہے— ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، معاویہ بن ابی سفیان، عمر بن عبدالعزیز۔ ان میں سے ابتدائی پانچ خلفاء اصحاب رسول میں شامل تھے۔ چھٹے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کا شمار اجلۂ تابعین میں سے ہوتا ہے۔ علماء نے بالاتفاق ان کو خلیفہ راشد کا درجہ دیا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ان تمام خلفاء کا تقرر الگ الگ طریقے سے کیا گیا نہ کہ کسی ایک مقرر

طریقے کے مطابق، کیوں کہ اس معاملے میں کوئی ایک متعین طریقہ موجود ہی نہ تھا۔ یہ واقعہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ سیاسی اقتدار کا معاملہ اسلام میں نماز اور روزے کی طرح اصولی معاملہ نہیں ہے، اگر وہ اصولی معاملہ ہوتا تو توحید اور عبادت کی طرح اُس کے لیے بھی متعین احکام موجود ہوتے۔ یہ واقعہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اسلام میں سیاسی اقتدار کا معاملہ میٹر آف کنوی نینس (matter of convenience) کی قسم سے تعلق رکھتا ہے، وہ عقیدے اور اصول کا معاملہ نہیں۔

Printed page